آپ آف لائن ہیں
ہفتہ26؍شعبان المعظم 1442ھ 10؍اپریل 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

وزیراعظم نے کمیشن سے غلط توقعات وابستہ کرلی تھیں، ذرائع

اسلام آباد (انصار عباسی)الیکشن کمیشن آف پاکستان وزیراعظم عمران خان کے ٹی وی پر نشر ہونے والے اس خطاب کا نوٹس لے سکتا ہے جس میں انہوں نے سینیٹ کے حالیہ الیکشن کے دوران مبینہ ہارس ٹریڈنگ کا قصور الیکشن کمیشن پر عائد کیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ای سی پی حیران ہے کہ وزیراعظم کس طرح خفیہ ووٹنگ کرانے کا آئینی طریقہ اختیار کرنے پر کمیشن کو قصور وار قرار دے سکتے ہیں۔

ذرائع نے کہا کمیشن پر الزام عائد کرنے کی بجائے خفیہ ووٹنگ ختم کرنے کیلئے آئین میں ترمیم کریں کیونکہ کمیشن کو قانون اور آئین پر عمل کرنا ہے، وزیراعظم کی کمیشن پر تنقید سے ادارہ پریشان ہے،وزیراعظم کو نوٹس جاری کیا جا سکتا ہے، یہ پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ قانون اور آئین میں ترمیم کرے۔

سپریم کورٹ میں کمیشن کی جانب سے اختیار کردہ قانونی موقف کا حوالہ دیتے ہوئے ذرائع کہتے ہیں کہ کمیشن نے وہ بات کہی جو قانون اور آئین میں درج ہے۔ وزیراعظم نے کمیشن سے غلط توقعات وابستہ کرلی تھیں کیونکہ کمیشن آئین میں ترمیم کر سکتا ہے نہ ہی خفیہ بیلٹنگ کی صورت میں اس کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو سکتا ہے۔

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کمیشن پر ان لوگوں کو تحفظ دینے کا الزام عائد کیا جنہوں نے سیکرٹ بیلٹ کی وجہ سے مال بنایا، وزیراعظم نے کہا کہ جس وقت یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت تھا، ای سی پی نے اوپن بیلٹ کی مخالفت کی جبکہ عدالت نے متعدد مرتبہ کہا کہ یہ ای سی پی کی ذمہ داری ہے کہ شفاف اور ایماندارانہ الیکشن کرائے جس وقت الیکشن کمیشن پر وزیراعظم نے الیکشن اوپن بیلٹ کے ذریعے نہ کرانے کا الزام عائد کیا، سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس کے جواب میں قرار دیا تھا کہ سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ سے نہیں ہو سکتے۔

سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن کے پاس اختیارات ہیں کہ وہ الیکشن میں شفافیت کو یقینی بنانے کے اقدامات کرے۔ عدالت نے کہا تھا کہ یہ ای سی پی کی ذمہ داری ہے کہ انتخابی عمل کی بدعنوانیوں کا خاتمہ کرے اور اس مقصد کیلئے کمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال کر سکتا ہے۔

عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ اداروں کا فرض ہے کہ وہ ای سی پی کی ہدایات پر عمل کریں اور پارلیمنٹ آئینی ترامیم منظور کر سکتی ہے۔ زیادہ تر ماہرین قانون اور ماہرین آئین کی رائے ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے خفیہ رائے شماری کے حوالے سے آئینی پوزیشن واضح ہوگئی اور ای سی پی آئین پر عمل کا پابند ہے۔

آئین کا آرٹیکل 226 کہتا ہے کہ وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ کے الیکشن کے سوا آئین کے تحت تمام الیکشن خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہونگے۔ یہان یہ بتانا ضروری ہے کہ کہ ای سی پی کو توہین کے معاملے میں سزا دینے کا اختیار حاصل ہے۔ قانون کے تحت کمیشن ہائیکورٹ کو حاصل اختیارات استعمال کر سکتا ہے تاکہ توہین مرتکب شخص کو سزا دی جا سکے۔

اہم خبریں سے مزید