آپ آف لائن ہیں
جمعرات9؍ رمضان المبارک 1442ھ22؍اپریل 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ایک ہی الیکشن میں جیت قبول اور ہار مسترد یہ تضاد ہے، تجزیہ کار


کرا چی(ٹی وی رپورٹ) جیو نیوز کے پروگرام ”رپورٹ کارڈ“ میں میزبان علینہ فاروق شیخ نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ کل پاکستان کی تاریخ میں بہت ہی اہم دن ہے جبکہ تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ یہ بات واضع نہیں کے آج کا قومی اسمبلی کا اجلاس کس کلاز کے تحت بلایا گیا ہے، اجلاس کا تعین تو صدر مملکت کرتے ہیں،اور یہ کہ وزیراعظم عمران خان قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے جارہے ہیں۔

وزیراعظم نے گزشتہ روز قوم سے خطاب کیا۔وزیراعظم نے اپوزیشن کے ساتھ ساتھ الیکشن کمیشن کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔الیکشن کمیشن نے جواب شکوہ جاری کیا ہے اور سوال اٹھایا ہے وزیراعظم کے لئے کہ ایک ہی روز ،ایک ہی چھت، ایک ہی الیکٹورل میں ، ایک ہی عملے کی موجودگی میں۔ جو ہارے وہ نا منظوراور جو جیت گئے وہ منظور کیا یہ کھلا تضاد نہیں۔

پہلا سوال کے کیا وزیراعظم کو ایوان کا اعتماد حاصل ہے؟کے جواب میں تجزیہ کارارشاد بھٹی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے جو کچھ بھی الیکشن کمیشن پر تنقید کی یا بات کی اس میں بالکل وزن ہے۔لاجکل ہے اور یہ بات بالکل ٹھیک ہے۔جب ہم سارے الیکشن کو چھوڑ کرایک پہ آجاتے ہیں ۔ کہ سب سے بڑا ٹاکرا کون سا تھا گیلانی اور حفیظ شیخ کا۔

اس ٹاکرے میں آڈیو ، ویڈیو بھی سامنے آئیں۔ مبینہ بھاؤ تاؤ بھی ہوئے ۔اس میں مبینہ طورپر اقلیت جیتی اکثریت ہاری۔تو اس پر وزیراعظم اداروں کی تعریف کریں گے۔ہمیں ڈسکہ والا الیکشن چاہئے تھاجو کوئی بڑا ایکشن لیتا اور یہ آئندہ نہ ہوپاتا۔مجھے لگتا ہے کہ وزیراعظم اعتماد کا ووٹ لے لیں گے۔

وزیراعظم الیکشن کمیشن کو بالکل بھی متنازع نہیں بنا رہے ہیں۔الیکشن کمیشن کا کام شفاف اور منصفانہ الیکشن منعقد کروانا ہے۔مجھے یہاں وہ الیکشن کمیشن نظر نہیں آیا جو ڈسکہ میں نظر آیا تھا۔یوسف رضا گیلانی کے جیتنے سے جمہوریت جیتی نہیں ہاری ہے۔

تجزیہ کارمحمل سرفرازنے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جو کل کاووٹ ہے وہ تو ہوسکتا ہے کہ ان کو نمبرز مل ہی جائیں کیونکہ وہ تو ایک علیحدہ ہی چیز ہے۔

لیکن جو گیلانی کی جیت سے ہوا وہ ایک علامتی اظہار عدم اطمینان تو تھا۔اس چیز نے ان کو مجبور کردیا کہ ان کو کل اعتماد کا ووٹ لینا پڑ رہا ہے۔ہم نے تو سنا تھا کہ یہ حکومت دس سال کا پروجیکٹ ہے ۔

لیکن بدقسمتی سے اس حکومت کی خراب کارکردگی کی وجہ سے ان کے اپنے ارکان نے ان کے خلاف ووٹ دیئے ہیں۔اپنی پرفارمنس کی وجہ سے یہ حکومت ایک بیگیج بنتی جارہی ہے۔ تجزیہ کار مظہر عباس نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کل الیکشن کمیشن کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے موقف بیان کیا اس کا طریقہ کار غلط تھا۔

الیکشن کمیشن پر اعتراض بالکل درست ہوسکتا ہے۔ ان کی بات میں وزن ہوسکتا ہے ۔ لیکن وزیراعظم کے منصب پر اس طریقے سے تقریر میں یہ بات نہیں کرنی چاہئے۔

اہم خبریں سے مزید