• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کار چپ کی کامیابی نے امریکی سپلائی چین کی خامیوں کو نمایاں کردیا

واشنگٹن: ایمی ولیمز

شکاگو: کلیئر بوشے

کینساس شہر میں جنرل موٹرز کے پلانٹ میں گزشتہ ماہ کے اوائل میں عارضی برطرفیاں جلد ہی غیر معینہ مدت کیلئے بن گئیں۔شہر بھر میں فورڈ نے کمپنی کی دودھ دینے والی گائے ،اپنے ایف 150 پک اپ ٹرک کی پیداوار کو کم کردیااور مشی گن میں ایک اور کارخانے میں ایسا ہی کیا۔

کار ساز کمپنیاں جدید گاڑیوں کے خودکار بریکنگ سسٹم سے لے کر ایئر بیگ اور الیکٹرانک طور پر ایڈجسٹ ہونے والی سیٹوں تک ہر چیز میں استعمال آنے والی ناگزیر چپس کی عدم دستیابی کا ردعمل دے رہی تھیں۔

کمیابی نے الیکٹرانکس انڈسٹری کے حلقہ وار گوشے پر روشنی ڈالی جہاں اکثر و بیشتر یا تو بہت زیادہ یا بہت کم فراہمی ہوتی ہے، ایک ایسا مسئلہ جو کورونا وائرس وبائی مرض کے دوران سیمی کنڈکٹرز کی غیر متوقع مانگ کی وجہ سے بڑھ گیا ہے۔

واشنگٹن میں بحران کی وجہ سے عالمی سیمی کنڈکٹر سپلائی چین کی اسکروٹنی میں اضافہ ہوگیا ہے،اور یہ واضح کیا کہ امریکی مینوفیکچرنگ کی بنیاد کے کون سے حصے تائیوان کی ٹی ایس ایم سی پر انحصار کرتے ہیں ، جودنیا کی سب سے بڑی چپ فاؤنڈری اور ایپل سے لے کر فالکس ویگن تک کمپنیوں کو فراہم کنندہ ہے۔

مرکز برائے آٹوموٹو ریسرچ کے نائب صدر کرسٹم ژیزیک نے کہا کہ اس طرح کے واقعات کپنیوں کو لاحق مشترہ خطرات کو بے نقاب کرتے ہیں۔یہ اس طرح ہے کہ جب ہمارا بڑا خلل واقع ہوتا ہے اور پھر ہمیں اس کا علم ہوجاتا ہے،تعجب ہے کہ ہم ایک ذریعے پر انحصار کررہے ہیں۔

یہ مسئلہ ملکی سیاسی بحران بن گیا ہے، مزدور طبقے پر اثرات کو کم سے کم کرنے کیلئے کوئی درست حل تلاش کرنے کیلئے وائٹ ہاؤس کو مشکل میں ڈال دیا ہے، صدر جو بائیڈن کے گزشتہ سال اپنی انتخابی مہم کے دوران مزدور پیشہ افراد کے ساتھ اچھے تعلقات تھے۔

یونائیٹڈ آٹو ورکرز یونین کے مقامی نائب صدر کلیرنس براؤن نے کہا کہ کینساس سٹی کے جنرل موٹرز پلانٹ سے 15 سو کارکنوں کو گھر بھیج دینا سازگار وقت پر برا ہوگا،تاہم وبائی مرض کے دوران یہ کافی تباہ کن ہے۔

جو بائیڈن کے اعلیٰ سطح کے اقتصادی مشیر برائن ڈیز نے تائیوان کی حکومت کو خط لکھا ہے کہ وہ ان کی مدد طلب کریں،تاہم یہ تاحال واضح نہیں ہے کہ آیا اعلیٰ سطح کی سفارتکاری نجی کمپنیوں کو اپنی زیادہ تر مصنوعات کا رخ امریکی خریداروں کی جانب موڑنے کی حوصلہ افزائی کرسکتی ہے۔

کنزیومر الیکٹرانک کمپنیوں کی جانب سے چپس کی مانگ میں اضافے کی وجہ سے کارساز جزوی طور پر متاثر ہورہے ہیں، جنہوں نے ٹھیک اسی وقت اپنی انیویٹریز کی تیاری شروع کی جب کارساز فروخت میں کمی کے لئے تیاسری کے سلسلے میں اپنے آرڈرز میں کٹوتی کررہے تھے،جوکہ عمل میں نہیں آئے۔

امریکی تجارتی پالیسیاں بھی اس میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ چین کی چپ بنانے والی سب سے بڑی کمپنی ایس ایم آئی سی پر ایکسپورٹ کنٹرول نے متعدد صارفین کو اپنی چپس کے حصول کیلئے دیگر ذرائع تلاش کرنے پر مجبور کرنے کی وجہ سے مزید فراہمی کو محدود کردیا۔

امریکا کی چین کو اہم ٹیکنالوجی تک رسائی کو محدود کرنے کی کوششوں کے سلسلے میں مزید تجارتی کنٹرولز کے خطرے نے مزید تشویش پیدا کردی ہے، متعدد کمپنیاں مستقبل میں سپلائی کے بحران کی تیاری کے لئے چپس کا ذخیرہ کررہی ہیں۔

ٹیکس دہندگان کے مزید ڈالرز کو بچانے کے لئے اس کی طویل عرصے سے جاری مہم کو تقویت دینے کے لئےامریکی سیمی کنڈکٹر انڈسٹری نے بحران پر قابو پالیا ہے ،جس کا کہنا ہے کہ اسے چین سمیت غیر ملکی بھاری سبسڈیز والے حریفوں کے خلاف جدید، اختراعی اور مسباقتی رہنے کی ضرورت ہے۔

اس نے یہ بھی استدلال کیا کہ چپس کی ملکی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے لئے اسے ریاستی تعاون کی ضرورت ہے،جو ایشیاء سے پیچھے ہے۔

گزشتہ ہفتے صنعتی گروپوں کے وسیع حلقے نے ارکان کانگریس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں کی تجدید کی جس کا مقصد بائیڈن انتظامیہ کو چپس ایکٹ میں کانگریس کے زریعے مناسب رقم کی فراہمی تھا،جو کہ گزشتہ سال کے دفاعی اخراجات کے بل کے حصے کے طور پر منظور کی گئی تھی۔

یہ بل امریکا میں چپ تیار کرنے والے نئے پلانٹس کے لئے 10 ارب ڈالر فراہم کرتا ہے، ساتھ ہی ساتھ محکمہ توانوئی اور نیشنل سائنس فاؤنڈیشن کو تحقیق کے لئے فنڈ فراہم کرتا ہے۔

جو بائیڈن کو لکھے گئے ایک مراسلے میں دیگر تجارتی گروپس کے ساتھ سیمی کنڈکٹر انڈسٹری ایسوسی ایشن نے دلیل دی کہ چپس نے معیشت کو توانائی دی۔اس نے کہا کہ امریکا کو فوج سمیت متعدد شعبوں کو اہم چپس کی فراہمی منقطع نہ ہونےکو یقینی بنانے سے زیادہ سے زیادہ ملکی سطح پر تیاری سے قومی سلامتی میں اضافہ ہوگا ۔

مذکورہ بالا گروپس نے لکھا کہ امریکی مراعات کی عدم موجودگی کی وجہ سے ہمارے ملک میں مسابقت کا مقابلے جذبہ نہیں ہے اور اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ میں امریکا کا حصہ مستقل طور پر کم رہا ہے۔

جبکہ امریکی کانگریس میں چپ کمپنیوں کی مالی اعانت بڑھانے کیلئے ہمیشہ کافی حمایت حاصل رہی ہے،کار پلانٹ برطرفیوں نے نے قانون سازوں کے ایک وسیع حلقے کی توجہ مبذول کروالی ہے۔

گزشتہ ماہ کے اوائل میں مشی گن، اوہائیوں، ٹینسی اور الینوائے جیسی کار بنانے والی تقریباَ15 ریاستوں کی نمائندگی کرنے والے سینیٹرزنے ملکی چپ مینوفیکچرنگ کے لئے اضافی اربوں ڈالر کے لئے احتجاج شروع کیا۔

تاہم، زیادہ تر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دو علیحدہ معاملات کو الجھایا جارہا ہے۔قومی سلامتی کے تحفظ سے عمومی مراد اعلیٰ معیار کی کمپیوٹنگ کیلئے درکار زیادہ سے زیادہ چپس بنانا ہوتا ہے اور زیادہ تر فوجی مقاصد کے لئے انہیں استعمال کیا جاسکتا ہو؛اس سے کارسازوں کی ضرورت کم جدید چپس کی کمی دور نہیں ہوگی۔

بائن اینڈ کمپنی کے مشترک پارٹنر پیٹر ہنبری نے کہا کہ فوج سمیت قومی سلامتی کے مقاصد کے لئے چپس کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے امریکی مینفویکچرنگ کو فروغ دینے کے لئے جدید ترین ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی،جبکہ کاروں میں پرانی ٹیکنالوجی اور مختلف سائز کے چپس استعمال ہوتے ہیں۔

پیٹر ہنبری نے مزید کہا کہ ہر کوئی ایک ہی بات کررہا ہے کہ ہم سیمی کنڈکٹر چاہتے ہیں لیکن میرے خیال میں ان کے اصل مقاصد کچھ اور ہیں۔

پیٹرسن انسٹی ٹیوٹ کے چاڈ باؤن نے کہا کہ رسد اور طلب کے عوامل جس کے نتیجے میں کار سازوں کے لئے موجودہ بحران پیدا ہوا تھا،جہاں چپس تیار کی جاتی ہیں اس سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا۔حتیٰ کہ اگر ہمارے پاس امریکا میں عالمی سطح پر زیادہ مینوفیکچرنگ ہوتی،تو مجھے نہیں لگتا کہ مسئلہ مطلوبہ طور پر کچھ مختلف ہوتا۔

اور یہ محض امریکی کارساز ہی نہیں ہیں جنہیں اس کمی سے نمٹنے کیلئے جدوجہد کی بلکہ سارے یورپی حریفوں کو بھی اسی طرح کی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

دیگر امریکا کے پاس انتہائی جدید ترین ٹیکنالوجی اور دانشورانہ املاک کے مقابلے میں مینوفیکچرنگ کے مابین امتیاز کرتے ہیں،زیر بحث سیمی کنڈکٹر ضروری نہیں کہ وپلائی کو یقینی بنانے کے لئے امریکی سرزمین پر تیار کیے جائیں۔

ٹرمپ کے سابق تجارتی عہدیدار کلیٹ ولیمز نے کہا کہ امریکی فنڈ کو تحقیق اور ترقی کی جانب کارفرما کیا جاسکتا ہے تاکہ امریکا ملکی پلانٹ بنائے بغیر امریکی چپ انڈسٹری کے تکنیکی معیار کو برقرار رکھے۔

کلیٹ ولیمز نے چین کے ساتھ امریکی مقابلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سوال اتنا انحصار کرنے کا نہیں ہے جتنا کہ وقت کے ساتھ اکٹراع و جدت کو برقرار رکھنے کا ہے۔

انہوں نے استدلال کیا کہ تائیوان، جنوبی کوریا اور جاپان جیسے اتحادیوں جہاں متعدد چپس تیار کی جاتی ہیں،کے ساتھ مستحکم تعلقات استوار کرنا زیادہ مؤثر ثابت ہوگا، بجائے اس کے کہ امریکا سب کچھ کرنے کی کوشش کرے۔

فنانشل ٹائمز سے مزید