آپ آف لائن ہیں
جمعہ3؍رمضان المبارک 1442ھ 16؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

قومی اسمبلی اجلاس اور اعتماد کا ووٹ دونوں ہی غیر آئینی تھے، فضل الرحمٰن


اپوزیشن اتحاد (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے 6 مارچ کا قومی اسمبلی کا اجلاس اور وزیراعظم عمران خان کے اعتماد کے ووٹ کو غیر آئینی قرار دیدیا۔

پی ڈی ایم اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ پی ڈی ایم نے متفقہ طور پر یوسف رضا گیلانی کو چیئرمین سینیٹ کے لیے نامزد کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے آج یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کو الیکشن کمیشن میں چیلنج کیا ہے، روایات سے ہٹ کر درخواستوں کو جلد سماعت کے لیے مقرر کردیا گیا۔

پی ڈی ایم سربراہ نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کی الیکشن کمیشن میں درخواست کا مقصد یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کا نوٹیفکیشن رکوانا ہے۔

انہوں نے استفسار کیا کہ یوسف رضا گیلانی کا انتخاب غلط تھا تو آپ کو اعتماد کا ووٹ لینے کی کیا ضرورت پڑی؟ ایسے اوچھے ہتھکنڈے جمہوریت کا راستہ نہیں روک سکتے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے یہ بھی کہا کہ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں یہی رویہ رہا تو تمام حقائق سامنے لانے پر مجبور ہوں گے، پی ٹی آئی تمام ناجائز حربے استعمال کررہی ہے اور دوسری طرف پرلے درجے کے احمقانہ اقدامات بھی کررہی ہے۔



انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے جعلی اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کی، اجلاس آئین کے تحت نہیں بلایا گیا۔

پی ڈی ایم سربراہ نے مزید کہا کہ آئین کے تحت صدر مملکت یہ اجلاس بلاسکتے ہیں لیکن وزیراعظم نے اس کے لیے سمری بھجوائی۔

اُن کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی کا 6 مارچ کا اجلاس بھی غیر آئینی اور اعتمادکا ووٹ بھی غیر آئینی تھا، جو کھیل اجلاس میں کھیلے گئے وہ بھی سامنے آرہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن نے مزید کہا کہ چند روز قبل مسلم لیگ کے قائدین پریس سے گفتگو کررہے تھے، پی ٹی آئی میں جیسا کلچر فروغ دیا گیا، پارلیمنٹ لاجز کے سامنے اس کا مظاہرہ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اتحاد کے اجلاس میں ن لیگی قیادت سے پی ٹی آئی کارکنوں کے حملے کے واقعے کو حکومتی بوکھلاہٹ قرار دیا گیا۔

پی ڈی ایم سربراہ نے یہ بھی کہا کہ لانگ مارچ کا آغاز 26 مارچ کو ہوگا، ملک کے کونے کونے سے قافلے روانہ ہوں گے۔

اُن کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ میں استعفوں کا آپشن موجود ہے، تحریک کو نتیجہ خیز ثابت کرنا چاہتے ہیں، لانگ مارچ کی حکمت عملی کےلیے پی ڈی ایم کا 15 مارچ کو اجلاس ہوگا، جس میں اپوزیشن کے مارچ سے متعلق تفصیلات واضح کی جائیں گی۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ پی ڈی ایم سربراہی اجلاس میں سینیٹ کے حالیہ انتخابات کاجائزہ لیا گیا۔

قومی خبریں سے مزید