عمران احمد سلفی
ہر انسان کی فطری خواہش اور تمنا ہوتی ہے کہ وہ دنیاوی زندگی کے لیل ونہار پُر تعیش اور بڑھاپا سکون و اطمینان کے ساتھ گزارے۔ اس مقصد کے حصول کی خاطر وہ صبح سے شام اور شام سے رات کردیتا اور مسلسل جدوجہد کرتا ہے ،تا کہ وہ زیادہ سے زیادہ آسائشیں حاصل کرسکے۔ یہ فطری تقاضا ہے اور اسلام نے آسودگی کے حصول کو ممنوع قرار نہیں دیا۔ البتہ محض دنیاوی مال و متاع جمع کرنے کی دُھن میں اس زندگی کو بھلانے سے منع کیا ہے، جہاں ہم ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں۔
اس دنیا کو دارالعمل قرار دیا گیا ہے، اللہ کی تمام تر نعمتوں سے استفادہ کرتے ہوئےانسان اپنے خالق و مالک کی خالص عبادت و شکر ادا کرنے اور اعمال صالح کے ذریعے اسے راضی کرنے کی سعی و جہد کرتا رہے۔ فلسفہ فکر آخرت انسان کے اندر موجود منفی جذبات کے مقابل مثبت سرگرمیوں پر آمادہ کرتا ہے اور انسان احکام الٰہی اور تعلیماتِ نبویؐ کی روشنی میں نفس امارہ کے منہ زور گھوڑے کو شریعت کی لگام دے پاتا ہے۔
فکر آخرت ہی انسان کو رب کی معرفت سے ہمکنار کرتی ہے اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ اس کائنات کا خالق و مالک ایک اللہ رب العالمین ہے اور یقیناً ایک روز ہماری دنیاوی زندگی اختتام پذیر ہو کر رہے گی اور ہمیں دنیا میں کیے گئے اپنے تمام اعمال کا حساب کتاب دینا ہی ہوگا۔ جب اس کے اندر احساسات پیدا ہوجاتے ہیں تو پھر وہ اپنی زندگی کو اللہ کی امانت تصور کرتا اور حاصل شدہ انواع و اقسام کی نعمتوں کو اپنا کسب کمال نہیں ،بلکہ اپنے رب کا فضل و کرم گردانتا ہے اور آخرت کی جواب دہی کا احساس ہی اسے مرد مومن بننے پر اُبھارتا ہے۔
چناں چہ وہ جہاں عقائد کی اصلاح کی کوششوں میں لگا رہتا ہے، وہیں عبادات، معاملات و اخلاق وغیرہ میں رب کی مشیت اور پیغمبر اسلام ﷺکی سنتوں کی پیروی اختیار کرتا ہے ،تاہم اس موقع پر یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ اگر ایک شخص دنیاوی لحاظ سے بہترین معاملات و اخلاق کا حامل ہے ،مگر وہ صاحب ایمان نہیں ،محض انسانیت کے ناتے نیک کام کرتا ہے تو ایسے لوگوں کا آخرت میں کوئی اجر وثواب نہیں، چوں کہ نیکی بھی اسی وقت قابل قبول ہے ،جب وہ ایمان کی حالت میں رب کی رضا کے حصول کے جذبے سے کی گئی ہو۔ اسی طرح اگر ایک شخص اللہ کی توحید کا بھی اقرار کرتا ہے، لیکن نبی کریمﷺ کی نبوت و رسالت کا انکاری ہو تو ایسے بندے کے لیے بھی آخرت میں کوئی اجر و ثواب نہیں۔
آخرت کی فکر اہل ایمان کو پہلے دلائی گئی بعد میں ہر نفس کو تنبیہ کی گئی، تاکہ آخرت کی کامیابی کا خواہش مند پہلے ایمان کی دولت سے متصف ہوجائے۔ اسی لیے فرمایا: اے اہل ایمان! اللہ سے ڈر و، اللہ سے ڈرنے والے اہل ایمان ہی ہوسکتے ہیں۔ اس کے بعد فرمایا کہ ہرذی روح کو چاہیے کہ اپنا جائزہ لے کہ کل آنے والے دن یعنی قیامت کے لیے کیا تیاری کی ہے؟ چوں کہ اس دن اللہ تعالیٰ ہر ایک کا محاسبہ کرے گا اور دنیاوی زندگی اور اس کے اندر کیے گئے تمام اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔
نیکو کاروں کے لیے جنت کی لازوال نعمتیں اور ہمیشہ ہمیشہ کا عیش و آرام اور کافروں، گناہ گاروں اور من چاہی زندگی گزارنے والوں کے لیے جہنم کا درد ناک عذاب مقدر ہوگا۔ اس لیے دنیا ہی میں آخرت کی تیاری کا حکم دیا گیا ہے اور جو یہاں بوئے گا، کل وہی کاٹے گا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں متعدد مقامات پر قیامت کی ہولناکی اور اس کی ہیبت کا تذکرہ فرمایا ہے۔ چناں چہ ایک مقام پر روز قیامت کا نقشہ یوں کھینچا گیا ہے۔ترجمہ: ’’اور اس دن سے ڈرو، جب کوئی کسی کے کچھ کام نہیں آئے گا اور نہ کسی کی سفارش منظور کی جائے گی اور نہ کسی سے کسی طرح کا بدلہ قبول کیا جائے گا اور نہ لوگ (کسی اور طرح) مدد حاصل کرسکیں گے‘‘۔ (سورۃالبقرہ، آیت: 47)
رسول اللہ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:’’میں نے تمہیں قبروں پر جانے سے منع کیا تھا، اب تم ان کی زیارت کیا کرو، تا کہ تمہیں آخرت یاد آئے‘‘۔ (حاکم مستدرک، صحیح بخاری)
قیامت کا دن اس قدر ہولناک ہے کہ الامان… قرآن مجید میں اس دن کا حال اس طرح کھول کر بیان کیا گیا۔ ترجمہ: ’’اس دن آدمی بھاگے گا اپنے بھائی سے اور اپنی ماں سے اور باپ سے اور اپنی بیوی سے اور اپنی اولاد سے ان میں سے ہر شخص کی اس دن ایسی حالت ہوگی جو اسے (دوسروں سے) بے پروا کردے گی ،کچھ چہرے اس دن چمک رہے ہوں گے، ہنستے ہوں گے اور خوش و خرم ہوں گے اور کچھ چہروں پر گرد و غبار (اڑ رہی) ہوگی اور ان پر سیاہی چھا جائے گی یہی لوگ کافر اور فاجر ہوں گے‘‘۔ (سورۂ عبس، آیت: 34۔42)
غور فرمائیے کہ جن بہن بھائیوں، ماں باپ، بیوی بچوں اور عزیز رشتے داروں کے سکھ چین، عیش و آرام کے لیے ہم دن رات ایک کردیتے اور حلال حرام جائز ناجائز کا فرق بھلا دیتے ہیں، کل قیامت کے دن وہ ہمارے کسی کام آنے والے نہیں ،بلکہ وہ سب ہمیں دیکھ کر منہ چھپا لیں گے کہ کہیں ہم سے کسی نیکی کا تقاضا نہ کردے اور واقعی وہ دن ایسا ہولناک ہوگا کہ ہر ایک کو دوسرے سے بے پروا کردے گا اور ہر کسی کو اپنی فکر ہوگی کہ میرا کیا انجام ہونے والا ہے اور کسے معلوم ہے کہ اس کی زندگی کی کتنی ساعتیں باقی ہیں، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور جب کسی کوموت آجاتی ہے تو اللہ اسے ہرگز مہلت نہیں دیتا اور جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اس سے باخبر ہے‘‘۔ (سورۃالمنافقون)
دنیاوی زندگی کی جتنی بھی ساعتیں باقی ہیں، انہیں ہم کارآمد بنانے اور رب کی رضا کے حصول کے لیے صَرف کرنے کی کوشش کریں، تا کہ کل آنے والے دن کے عذاب سے اللہ کی رحمت سے بچ سکیں۔ اس کے لیے ایمان کامل اور سنت محمدیؐ کے مطابق عبادات ،صدقات وغیرہ اور اخلاق و کردار اپنانے کی ضرورت ہے۔