بچوں کیلئے ’’فری پلے‘‘ کی اہمیت
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اکثر اوقات بچے اپنے آپ میں مگن ہوکر کچھ نہ کچھ کھیلنے میں مشغول ہوتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنے ٹی وی، موبائل یا ویڈیو گیم کے بجائے اپنے تخیل کو استعمال کرتے یا جسمانی سرگرمی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ’فری پلے‘ بچوں کی جانب سے شروع کی گئی ایک ایسی غیر منظم اور رضاکارانہ سرگرمی ہے جو انھیں اپنے ارد گرد کی دنیا کا کھوج لگانے اور تجربات کرتے ہوئے اپنے تصورات کو فروغ دینے کی سہولت دیتی ہے۔ 

فری پلے بچوں کے فطری تجسّس، کھوج لگانے میں دلچسپی اور ان کے جوش و جذبے کی بدولت اچانک شروع ہوجاتا ہے۔ ان کھیلوں میں عموماً گڑیا، گاڑی، بلاکس اور مٹی سے کھیلنا، کریونز اور کاغذ کا استعمال، درختوں پر چڑھنا، اور پلے گراؤنڈ میں کھیلنے سمیت ایسے دیگر کھیل شامل ہیں جو غیر منظم تخلیق کی اجازت دیتے ہیں۔ پلے تھیوریسٹ، باب ہیوز نے کھیل کی 16اقسام کی نشاندہی کی ہے۔ یہ سب فری پلے کے ذریعے جسمانی، معاشرتی، علمی، تخلیقی اور جذباتی نشوونما سے متعلق ہیں۔

بوسٹن کالج میں نفسیات کے پروفیسر اور مصنف، پیٹر گرے نے 2011ء میں امریکن جرنل آف پلے میں لکھا، ’’فطری طور پر بچوں کو کھیلنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ جب بھی انھیں کھیلنے کا موقع ملتا ہے، وہ کھیلتے ہیں‘‘۔ اسی مضمون میں پیٹر گرے نے تفصیل سے بتایا کہ کھیل کی کمی کس طرح جذباتی نشوونما پر اثر انداز ہوتی ہے، جس سے پریشانی، افسردگی، توجہ اور خود پر قابو پانے کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ کھیل کے بغیر نوجوان صحت مند نفسیاتی ترقی کے لیے ضروری معاشرتی اور جذباتی مہارت حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔

بچے کھیل کے دوران خوف، غصے اور دیگر جذبات پر قابو پانے کا طریقہ سیکھتے ہیں۔ کھیل کے ذریعے وہ سیکھتے ہیں کہ خطرناک اور حقیقی زندگی کے حالات میں کیسے انھیں اپنے جذبات کو کنٹرول کرنا ہے۔ مگر یہ کھیل غیر منظم اور بچوں کی اپنی پسند کے مطابق ہونا چاہیے۔ تاہم، یہ وہ پلے ٹائم نہیں ہے جسے بڑوں کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے اور نہ ہی اس میں غیر فعال کھیل شامل ہوتے ہیں ، جیسے کہ ویڈیو گیم ، کمپیوٹر یا ٹی وی کے سامنے بیٹھنا۔

لیکن گزشتہ چند دہائیوں سے بچوں کے کھیلنے کے مواقع میں کمی دیکھی گئی ہے۔ بہت سے عوامل ایسے ہیں جو بچوں کو فری پلے کا مطلوبہ وقت مہیا نہیں کرتے، جن میں تعلیم کے حصول میں زیادہ وقت صرف کرنے پر زور ہونا، ملازمت یا کاروبار کرنے والےوالدین کا بچوں کی دیکھ بھال کے لیے قلیل وقت نکالنا، زیادہ اسکرین ٹائم، کم وقت باہر کھیلنا اور کھیلوں کی جگہوں تک محدود رسائی کا ہونا قابل ذکر ہے۔ فری پلے میں کمی نے دیرپا منفی نتائج برآمد کیے ہیں۔

بچوں کی بہتر نشوونما کے لیے کھیل اتنا اہم ہے کہ اقوام متحدہ نے اسے ہر بچے کا بنیادی حق تسلیم کیا ہے۔ کھیل بچوں اور نوجوانوں کی علمی، جسمانی، معاشرتی اور جذباتی فلاح و بہبود میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ آج کے دور میں تعلیم کے حصول میں پڑنے والے بوجھ کی وجہ سے بچوں کے پاس کھیل کے لیے وقت نہیں بچتا اور اگر کچھ وقت میسر بھی آجائے تو وہ اسے موبائل پر گیم کھیلنے یا ٹی وی دیکھنے میں صرف کردیتے ہیں۔ جب انھیں جسمانی سرگرمیوں والے کھیل کھیلنے کا وقت دیا جاتا ہے تو وہ تمام منظم سرگرمیوں میں حصہ لینے کے بعد بہت زیادہ تھک جاتے ہیں۔ لہٰذا تعلیم اور کھیل کے درمیان توازن قائم ہونا ضروری ہے۔

فری پلے کے فوائد

٭ بچوں کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو استعمال کرنے اور اپنے تخیل اور دیگر قوتوں کو فروغ دینے کی اجازت دیتا ہے۔

٭ بچوں کو دوسروں سے بات چیت کرنے اور آس پاس کی دنیا کو جاننے کی ترغیب ملتی ہے۔

٭ بچوں کو اسکول میں ایڈجسٹ کرنے اور سیکھنے کی صلاحیت، بیہیویئر میں بہتری اور مسائل کو حل کرنے کی مہارت میں اضافہ کرنے میں مدد حاصل ہوتی ہے۔

٭ بچوں کو خود ضابطہ سیکھنے اور اس پر عمل کرنے میں مدد ملتی ہے۔

٭ بچوں کو فیصلہ سازی کی مہارت پیدا کرنے میں مدد ملتی ہے۔

٭ بچوں کو گروپوں میں کام کرنا سکھاتا ہے تاکہ وہ تنازعات کو بانٹنا اور حل کرنا سیکھیں۔

فری پلے کے تحت بچے دوڑنے بھاگنے، سائیکل چلانے اور چھلانگیں لگانے جیسے کھیل کھیلتے ہیں جو صحت مند جسم کی تعمیر میں معاون ہوتے ہیں۔ بہت سے ماہرین بچوں کے موٹاپے میں ڈرامائی اضافے اور جسمانی فٹنس میں کمی کی ایک وجہ آؤٹ ڈور کھیلوں میں کمی قرار دیتے ہیں۔ غیرمنظم کھیل کا وقت اور باہر کھلی فضا میں کھیلنا اب پہلے سے اور بھی زیادہ اہم ہے۔ 

اس طرح کے کھیلوں کے مواقع زیادہ جذباتی اور رویّوں سے متعلق ضابطے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور پورے گھر کے لیے صحت مند طرز زندگی کی تیاری میں معاون ہوتے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کے لیے کھیلنے کا وقت مقرر کردیں جس میں وہ اپنے من پسند کھیل کھیلیں لیکن اس میں ٹی وی یا موبائل وغیرہ کا استعمال ہرگز نہ ہو۔ اس طرح ان کے اعتماد میں اضافہ، مشاہدے میں بہتری اور تخلیقی صلاحیتوں میں نکھار آئے گا۔