آپ آف لائن ہیں
منگل29؍شعبان المعظم 1442ھ 13؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کھانا کھانے کے بعد اکثر ہمیں میٹھا کھانے کی حاجت محسوس ہوتی ہے حالانکہ ہمارا پیٹ پہلے ہی بھرچکا ہوتا ہے۔ اس کی ایک وجہ تو ہماری کھانے کے بعد میٹھا کھانے کی عادت ہے جبکہ کچھ ماہرین کے مطابق انسانی دماغ کی خواہش ہوتی ہے کہ کھانے کے بعد اسے کچھ میٹھی چیز کھانے کو مل جائےاور میٹھا نہ کھانے کی صورت میں انسان اپنے کھانے کو نامکمل محسوس کرتا ہے۔ بچے ہوں یا بڑے، ہمارے یہاں ہر عمر کے لوگ انتہائی شوق سے میٹھا کھاتے ہیں۔ 

یہی وجہ ہے کہ عام دنوں، تہواروں اور تقریبات میں میٹھا لازمی بنایا جاتا ہے۔ میٹھے میں مٹھائیوں کے علاوہ کئی طرح کے حلوے، کیک، شیرخورما، کھیر، زردہ، کسٹرڈ، پڈنگ وغیرہ تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم، میٹھا کھانے میں اعتدال سے کام لینا چاہیے بصورت دیگر یہ موٹاپے اور صحت کے کئی دیگر مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔ 

ذیابطیس کے مریضوں کو اپنے معالج سے مشورہ کے بعد ہی میٹھا کھانا چاہیے۔ ماہرین جدید ترین تحقیقات کے بعد اس بات کو ثابت کر رہے ہیں کہ کھانے کے بعد میٹھا کھانے سے معدے میں موجود چند خاص بیکٹیریا ایکٹو ہو جاتے ہیں اور وہ کھانے کو جلد ہضم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

زردہ

درکار اجزاء:

دودھ۔ 2کھانے کے چمچ

چاول (باسمتی)۔ 3کپ

گھی۔ 4کھانے کے چمچ

دار چینی۔ ایک ٹکڑا (25ملی میٹر یا 1انچ)

لونگ۔ 2عدد

الائچی۔ 7عدد

فوڈ کلر (زردے کا رنگ)۔ چند قطرے

چینی۔ 9کپ

بادام، پستہ۔ حسب منشا

زعفران۔ حسبِ ضرورت

ترکیب:

ایک چھوٹے فرائی پین میں زعفران کی تاریں 10سیکنڈ تک بھونیں۔ پھر اس میں دودھ شامل کر کے ایک طرف رکھ دیں۔ اب چاول صاف کرکے دھوئیں، پھر انہیں پانچ سے دس منٹ کے لیے بھگو دیں۔ بعد میں پانی پسا کر ایک جانب رکھ دیں۔ اب 2کپ پانی ابلنے کے لیے رکھ دیں۔ ایک پریشر ککر میں گھی گرم کریں اور اس میں الائچی،لونگ،دار چینی اور چاول شامل کریں۔ 

انہیں دس منٹ تک بھونیں، پھر زعفران مکسچر، فوڈ کلر، چینی اور گرم پانی شامل کردیں۔ دو سیٹیوں تک پریشر ککر میں پکائیں۔ ڈھکن کھولنے سے قبل بھاپ خارج کریں۔ کانٹے کی مدد سے چاولوں کا ہر ایک دانہ علیحدہ علیحدہ کریں۔ پھر اسے میوہ جات کے ساتھ گارنش کرکے گرما گرم کھانے کے لیے پیش کریں۔

سویاں

سویاں (موٹی پسی ہوئی)۔ 2 کپ

دودھ (ملائی والا)۔ ڈھائی کپ

چینی۔ تین چوتھائی کپ

مکھن۔ 2 سے 3 کھانے کے چمچ

الائچیاں۔10 سے 12 عدد

خشک کھجوریں (لمبائی میں کاٹ لیں)۔6 عدد

خشک میوہ جات۔ تین چوتھائی کپ

نمک۔ ایک چٹکی

ترکیب:

مکھن کو گرم کرکے اس میں سویاں شامل کریں اور کچھ منٹ کے لیے ہلکی آنچ پر انہیں تل لیں۔ اب سوئیوں کو فرائنگ پین سے نکال کر الگ کر لیں۔ اسی پین میں خشک میوہ جات، کھجوریں اور الائچیاں تلیں۔ پھر دودھ، چینی اور نمک شامل کریں اور اس وقت تک پکائیں جب تک دودھ خشک نہیں ہوجاتا۔ سوئیوں کو گرما گرم یا ٹھنڈا کر کے پیش کریں۔

گاجر کا حلوہ

درکار اجزاء:

گاجر۔2کلو

خشک دودھ۔ 6کپ

چینی۔ 4کپ

چھوٹی الائچی۔ 10عدد

بادام۔ 15عدد

پستے۔ 15عدد

اخروٹ کی گریاں۔ 12دانے

چاندی کے ورق۔ 6عدد

دیسی گھی۔ دو پیالی

ترکیب:

گاجر کو باریک کدو کش کر لیں اور بادام کو گرم پانی میں بگھو کر چھلکے اتار لیں۔ اب باداموں اور اخروٹ کو باریک باریک کاٹ لیں اور الائچی کو دو چمچ چینی کے ساتھ باریک پیس لیں۔ اب کدو کش کی ہوئی گاجروں کو ایک پتیلے میں ڈال کر ہلکی آنچ پر پکنے کے لیے رکھ دیں، گاجروں کو اتنا پکائیں کے ان میں سے پانی خشک ہو جائے۔ اس کے بعد ایک پتیلی میں گھی ڈال کر گرم کریں اور پھر اس میں الائچی ڈال دیں۔ 

تھوڑی دیر بعد گاجریں اور دودھ ڈال کر ہلکی آنچ پر آہستہ آہستہ بھونیں۔ گاجریں جب براؤن ہونا شروع ہو جائیں تو چینی اور اخروٹ ڈال دیں۔ انہیں مزید بھونیں اور جب شیرا خشک یا گاڑھا ہونے لگے تو چولہے سے حلوہ اتار لیں۔ اب ایک پیالے میں حلوہ ڈال کر اسے میوہ جات اور چاندی کے ورق سے سجا دیں۔

ربڑی

درکار اجزاء:

دودھ (بالائی کے ساتھ)۔ 2 لیٹر

چینی۔ 3سے 4کپ

عرق گلاب۔1 چائے کا چمچ

بادام، پستہ (باریک کٹے ہوئے)۔ حسب ذائقہ

ترکیب:

ایک دیگچی میں دودھ ڈال کر اسے ا’بال دیں اور پھر آنچ ہلکی کر دیں۔ تھوڑی تھوڑی دیر میں ملائی کی تہہ کو دیگچی کے کناروں کی طرف لاتے رہیں تاکہ کناروں کے ساتھ ایک دائرہ سا بن جائے۔ جب دودھ پک کر ایک چوتھائی رہ جائے تو اس میں چینی اور پستہ بادام ڈال دیں۔ اب اس کو اتنی دیر پکائیں کہ دودھ بالکل خشک ہو جائے اور ربڑی ملائی باقی رہ جائے۔ پھر اس میں گلاب کا عرق ملا کر فریج میں رکھ کر ٹھنڈا کریں۔ لیجیے مزیدار ربڑی تیار ہے۔

شیر خرما

درکار اجزاء:

سویاں۔ دو کپ

چینی۔ ایک کپ

بادام (کٹے ہوئے)۔ تین کھانے کے چمچ

پستہ (کاٹ لیں )۔ دو کھانے کے چمچ

کھجور (دھو کر کاٹ لیں)۔ دو کھانے کے چمچ

الائچی۔ تین عدد

گھی۔ دو کھانے کے چمچ

دودھ۔ ایک لیٹر

ترکیب :

ایک پین میں ایک کھانے کا چمچ گھی ڈال کر اس میں الائچیاں کھول کر ڈالیں۔ جب وہ تھوڑی سی کڑکڑا جائیں تو اس میں سویاں فرائی کریں۔ جب سویاں سنہری ہو جائیں تو ان کو الگ برتن میں نکال لیں۔ اب اس پین میں ایک کھانے کا چمچ گھی مزید ڈالیں اور اس میں بادام، کھجور اور پستہ فرائی کریں۔ اب ایک دوسرے برتن میں دودھ گرم کریں اور اس میں چینی ڈال دیں۔ چینی ڈال کر دودھ کو تقریباً پندرہ منٹ تک پکائیں۔ 

آنچ دھیمی رکھیں اور جب دودھ تھوڑا گاڑھا ہوجائے تو اس میں فرائی کی ہوئی سویاں، بادام، 'کھجور اور پستہ ڈال دیں۔ سویاں پھول جائیں تو سمجھے شیرخرما تیار ہے، ٹھنڈا ہونے پر ڈش میں نکال کر پیش کریں۔

سوجی کا حلوہ

درکار اجزاء:

سوجی۔ ایک پاؤ

گھی۔ ایک پاؤ

پستہ۔ 6 عدد

کیوڑہ۔ 2 سے 3 قطرے

چینی۔ آدھا کلو

بادام۔ 10عدد

سبز الائچی۔ 6 عدد

ترکیب:

ایک کڑاہی میں گھی ڈال کر گرم کریں اور اس میں الائچی کے دانے نکال کر ڈال دیں۔ جب گھی تیز گرم ہو جائے تو اس میں سوجی ڈال کر ہلکی آنچ پر بھونیں اور چمچ ہلاتے رہیں۔ جب خوشبو آنے لگے تو کڑاہی نیچے اتار لیں۔ اب ایک اور برتن میں چینی اور ایک لیٹر سے کم پانی ڈال کر چولہے پر رکھ دیں۔

ہلکی آنچ پر چاشنی بنائیں اور جب وہ تیار ہو جائے تو اسے سوجی میں ڈال دیں اور اچھی طرح مکس کریں۔ اسے چولہے پر رکھ کر ہلکی آنچ پر پکائیں، اس دوران چمچ برابر ہلاتے رہیں۔ جب حلوہ گاڑھا ہو جائے تو اس میں بادام اور کیوڑہ ڈال دیں۔ حلوہ گھی چھوڑ دے تو اسے چولہے سے اتار لیں اور پستہ باریک کتر کر اوپر چھڑک دیں۔