• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا، یورپی یونین اور برطانیہ کی پابندیوں کے نفاذ کے بعد چین کی جوابی کارروائی

برسلز: مائیکل پیل

بیجنگ: کرسچین شیفرڈ

واشنگٹن: دیمتری سیواستو پولو

امریکا، یورپی یونین، برطانیہ اور کینیڈا نے منظم اقدام کے تحت ایغور مسلمانوں کے ساتھ سلوک پر چین پر پابندیاں عائد کردی ہیں ،جس کے ردعمل میں چین کی حکومت نے انتقامی جوابی کارروائی کا آغاز کردیا ہے۔

سنکیانگ کے علاقے میں ایغوروں پر ظلم و ستم اور بڑے پیمانے پر نظربندیوں کے حوالے سے چین کے چار عہدیداروں اور سیکیورٹی تنظیم پر سفری پابندیاں اور اثاثے منجمند کردیئے گئے ہیں۔یہ اقدامات برسلز میں امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلنکن کی آمد سے قبل کیے گئے ۔

مغربی طاقتوں کی جانب سے عائد پابندیاں سنکیانگ میں حبس بیجا کے کیمپ سسٹم سے براہ راست روابط رکھنے والے اعلیٰ سطح کے عہدیداروں اور اداروں کا احاطہ کرتی ہیں۔ان میں پبلک سیکیورٹی بیورو او ر خطے کی معیشت اور سلامتی میں مرکزی کردار ادا کرنے والی نیم فوجی تنظیم سنکیانگ پروڈکشن اینڈ کنسٹرکشن کور کی کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ وانگ جنزینگ شامل ہیں۔

انٹونی بلنکن نئے کہا کہ پابندیوں نے انسانی حقوق کے احترام کیلئے ہمارے کثیرالجہتی جاری کام سے وابستگی کامظاہرہ کیا ہے۔

پابندیوں کا اعلان کرنے والی پہلی مغربی طاقت یورپی یونین کو چین کی وزارت خارجہ کی جانب سے فوری طور پر انتقامی کارروائی کا نشانہ بناتے ہوئے یورپی یونین کے 10 افراد اور چار اداروں پر سفری پابندیاں عائد کردیں۔

اس میں یورپی پارلیمنٹ کے ایسے ارکان شامل کیے گئے جنہوں نے چین کی پالیسی پر تنقید کی، جیسے فرانسیسی رکن یورپی پارلیمنٹ رافول گلکس مین،جرمن اسکالر ایڈرین زینز اور سویڈش تجزیہ کار بیجرن جارڈن۔

چین نے کہا کہ یورپی یونین کے اقدامات ’’جھوٹ اور غلط معلومات کے سوا کچھ نہیں ‘‘پر مبنی تھے،انہوں نے مزید کہا کہ پابندیوں نے شدید طریقے سے یورپی بلاک کے ساتھ اس کے تعلقات کو مجروح کیا۔

چین کے ردعمل کے نتیجے میں یورپی یونین کے پارلیمنٹ کے ارکان کی جانب سے ایک انتباہ دیا گیا کہ حال ہی میں بلاک اور چین کے مابین مارکیٹ تک رسائی کا معاہدہ اب خطرے میں پڑگیا ہے۔

پارلیمنٹ کے اعتدال پسند بائی بازو کے گروپ ایس اینڈ ڈی نے کہا ہے کہ ارکان یورپی پارلیمان کے خلاف چینی پابندیاں اٹھانا معاہدے پر پیشرفت کی توثیق کیلئے پیشگی شرط تھی۔

پارلیمنٹ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ انسانی حقوق سے متعلق پارلیمنٹ کی کمیٹی منگل کی صبح صورتحال پر غور کرے گی۔

یورپی پارلیمنٹ کے صدر ڈیوڈ ساسولی نے کہا کہ جوابی پابندیاں ناقابل قبول ہیں اور اس کے نتائج برآمد ہوں گے۔

2016 سے 2019 کے دوران سنکیانگ کے طا قتور قانونی اور سیاسی امور کے کمیشن کے سربراہ ژو ہیلون مغربی پابندیوں کا ایک اور ہدف ہیں۔

انہوں نے داخلی پارٹی دستاویزات پر دستخط کیے، جوبعدازاں بین الاقوامی کنسورشیم آف انوسیٹی گیٹ جرنلسٹس کو لیک کیے گئے،جس میں بتایا گیا کہ کس طرح پیشہ ورانہ اور تعلیمی تربیتی مراکز کو جیلوں کی طرح ڈیزائن کیا گیا ہے۔

برطانیہ کے وزیرخارجہ ڈومینک راب نے کہا کہ سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں کے خلاف بدسلوکی ہمارے زمانے کے انسانی حقوق کے بدترین بحرانوں میں سے ایک کی نمائندگی کرتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس پیمانے پر انسانی حقوق کی پامالی کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، زندہ بچ جانے والے گواہوں اور برطانوی سفارتکاروں کے دوروں سمیت شواہد کی ایک بڑھتی ہوئی باڈی نے ایک انتہائی جبر کے انتہائی پریشان کن پروگرام کی نشاندہی کی۔

انہوں نے کہا کہ عالمی برادری انسانی حقوق کی اس طرح کی سنگین اور منظم خلاف ورزیوں پر آنکھیں بند نہیں کرے گی۔

یورپی یونین، برطانیہ اور کینیڈا کی فہرستوں میں خطے کے اعلیٰ عہدیدار سنکیانگ کی کمیونسٹ پارٹی کے باس چن کوانگاؤ شام نہیں ہیں۔اکثر سخت گیر پالیسیوں کے نفاذ کی بنیاد سمجھے جانے والے چن کوانگاؤ کو گزشتہ سال جولائی میں امریکی پابندیوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

سنکیانگ کے حوالے سے نئی پابندیاں جو بائیڈن کے صدر بننے کے بعد امریکا اور چین کے مابین پہلی اعلیٰ سطح کی ملاقات کے موقع پر عائد کی گئی ہیں۔امریکی قومی سلامتی کے مشیر انٹونی بلنکن اور جیک سیلوان نے گزشتہ ہفتے الاسکا میں اپنے چینی ہم منصبوں سے ملاقات کی جو ایک غیرمعمولی طور پر عوامی تلخ کلامی تک پہنچ گئی۔

جو بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے سابقہ برطانوی علاقے میں جمہوریت کو مزید ختم کرنے والے چینی قانون کے حوالے سے 24چینی اور ہانگ کانگ کے عہدیداروں پر اقدامات عائد کرنے کے بعد ایک ہفتے سے بھی م عرصے میں یہ مشترکہ اقدام سامنے آیا ہے۔

اس نے چین کے ساتھ سیاسی اور معاشی تعلقات کو برقرار رکھنے کے لئے یورپی بلاک کی پریشان کن کوششوں کو بھی اجاگر کیا ہے جبکہ انسانی حقوق کے ریکارڈ جیسے دیگر شعبوں میں اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

فنانشل ٹائمز سے مزید