میٹھا چمڑا؟
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عصمت چغتائی

عصمت چغتائی برصغیر پاک و ہند کی معروف ادیبہ تھیں۔ وہ افسانہ نگار ، خاکہ نگار اور ناول نگار کے طور پر معروف تھیں۔ ان کے نانا امراؤ علی ناول نگارجب کہ بھائی مرزا عظیم بیگ چغتائی کا شمار برصغیر کے مشہور مزاح نگاروں میں ہوتا ہے۔ عصمت چغتائی نے بچوں کے لیے بھی کہانیاں تحریر کیں ۔ ان کی کہانی ’’میٹھا چمڑا‘‘ پڑھ کر یقیناً آپ لطف اندوز ہوں گے۔

ننھے بھائی بالکل ننھے نہیں بلکہ سب سے زیادہ قد آور اور سوائے آپا کے سب سے بڑے ہیں۔ وہ آئے دن نت نئے طریقوں سے ہم لوگوں کو الّو بنایا کرتے تھے۔ ایک دن مجھ سے کہنے لگے: ’’چمڑا کھاؤ گی؟‘‘

میں نے کہا: ’’نہیں، ہم تو چمڑا نہیں کھاتے۔‘‘

’’مت کھاؤ!‘‘ یہ کہہ کرانہوں نےچمڑے کا ایک ٹکڑا منہ میں رکھ لیا اور مزے مزے سے کھانے لگے۔

اب تو ہم بڑے چکرائے۔ ڈرتے ڈرتے ذرا سا چمڑا لے کر زبان لگائی۔ ارے واہ،کیا مزیدار چمڑا تھا، کھٹا،میٹھا۔ ہم نے پوچھا: ’’کہاں سے لائے ننھے بھائی؟‘‘

انہوں نے بتایا: ’’ہمارا جوتا پرانا ہوگیا تھا، وہی کاٹ ڈالا۔‘‘

جھٹ ہم نے اپنا جوتا چکھنے کی کوشش کی۔ آخ تھو، توبہ مارے سڑاند کے ناک اڑ گئی۔

’’ارے بے وقوف! یہ کیا کر رہی ہو؟ تمہارے جوتے کا چمڑا اچھا نہیں ہے اور یہ ہے بھی بڑا گندا۔ آپا کی جو نئی گرگابی ہے نا، اسے کاٹو تو اندر سے میٹھا میٹھا چمڑا نکلے گا۔‘‘ ننھے بھائی نے ہمیںمشورہ دیا۔

اور بس اس دن سے ہم نے گرگابی کو گلاب جامن سمجھ کر تاڑنا شروع کردیا۔ دیکھتے ہی منہ میں پانی بھر آتا۔

عید کا دن تھا۔آپا اپنی حسین اور گرگابی پہنے، پائنچے پھڑکاتی، سوئیاں بانٹ رہی تھیں۔ دوپہر کو آپا ظہر کی نماز پڑھنے کے لیےجوں ہی کھڑی ہوئیں، ننھے میاں نے ہمیں اشارہ کیا۔

’’اب موقع ہے، آپا نیت توڑ نہیں سکیں گی۔‘‘

’’مگر کاٹیں کیسے؟‘‘ ہم نے پوچھا۔

’’آپا کی صندوقچی سے سلمہ ستارہ کاٹنے کی قینچی نکال لاؤ۔‘‘

ہم نے جونہی گرگابی کا بھورا ملائم چمڑا کاٹ کر اپنے منہ میں رکھا،توہمیں معلوم بھی نہیں ہوا کہ کب آپا آکر ہمارے سر پر کھڑی ہوگئیں۔ بس ہم نے اپنے سر پر چپلیں پڑنے کی اذیت محسوس کی۔پہلے آپا نے ہماری اچھی طرح پٹائی کی، اس کے بعد پوچھا ’’یہ کیا کر رہی تھیں؟‘‘

’’ہم چمڑاکھا رہے ہیں۔‘‘ ہم نے نہایت مسکین صورت بنا کر بتایا۔

یہ سنناتھاکہ سارا گھر ہمارے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ گیا۔ہماری تکا بوٹی ہو رہی تھی کہ ابا میاں آگئے۔ مجسٹریٹ تھے، فوراً مقدمہ مع مجرمہ اور مقتول گرگابی کے روتی پیٹتی آپا نے پیش کیا۔ ابا میاں حیران رہ گئے۔ ادھردوسرے کمرے میں ننھے بھائی مارے ہنسی کےلوٹ پوٹ ہو رہے تھے۔ ابا میاں نےنہایت غصے سے پوچھا،’’سچ بتاؤ،تم جوتا کھارہی تھیں؟‘‘

’’جی۔‘‘ ہم نے روتے ہوئے اقبال جرم کیا۔

’’کیوں؟‘‘

’’میٹھا ہوتا ہے۔‘‘

’’جوتا میٹھا ہوتا ہے؟‘‘

’’ہاں۔‘‘ ہم نے روتے ہوئے جواب دیا۔

’’یہ کیا بک رہی ہے بیگم؟‘‘ انہوں نے فکر مند ہو کر اماں کی طرف دیکھا۔ اماں منہ بسور کر کہنے لگیں۔ ’’یا خدا! ایک تو لڑکی ذات، دوسرے جوتے کھانے کا چسکا پڑگیاہے ، اب اسے کون قبول کرے گا۔‘‘

ہم نے لاکھ سمجھانے کی کوشش کی کہ چمڑا سچ میں بہت میٹھا ہوتا ہے۔ ننھے بھائی نے ہمیں ایک دن کھلایا تھا، مگر کون سنتا تھا۔

’’جھوٹی ہے۔‘‘ ننھے بھائی صاف مکر گئے۔

بہت دنوں تک یہ معمہ کسی کی سمجھ میں نہ آیا۔ خود ہماری عقل گم تھی کہ ننھے بھائی کے جوتے کا چمڑا کیسا تھا جواتنا لذیذ تھا۔ اور پھر ایک دن خالہ بی دوسرے شہر سے آئیں۔ بقچیہ کھول کر انہوں نے پتوں میں لپٹا چمڑا نکالا اور سب کو بانٹا۔ سب نے مزے مزے سے کھایا۔ ہم کبھی انہیں دیکھتے، کبھی چمڑے کے ٹکڑے کو۔ تب ہمیں معلوم ہوا کہ جسے ہم چمڑا سمجھتے تھے، وہ آم کا گودا تھا۔ کسی ظالم نے آم کے گودے کو سکھا کر اور لال چمڑے کی شکل کی یہ ناہنجار مٹھائی بنا کر ہمیں جوتے کھلوائے۔