• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

کراچی میں بھتہ خوری کے نئے انکشافات !!

روشنیوں کے شہر کراچی میں بھتہ خوری کا نیا انکشاف ہوا ہے ۔سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ، نام نہاد اور جعلی صحافی بلڈرز ،تاجروں کے بعد اب پولیس کو بھی بلیک میل کر کے بھتہ طلب کرنے لگے ہیں ۔ اور بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی کے مصداق گزشتہ دِنوں ایک سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ نام نہاد اور جعلی صحافی خاتون ثانیہ شاہ رخ اعوان کی جانب سے پولیس اہل کار سے بھتہ طلب کر نے کے خلاف سرسید تھانے میں مقدمہ درج کرلیا گیا۔ تاہم ملزمہ ثانیہ اور اس کا شوہر شاہ رخ اعوان تا دم تحریرفرار ہیں۔ 

سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ ملزمہ خاتون نے پولیس اہلکار شیخ تیمور سے10ہزار روپے بھتہ طلب کیا تھا۔ مدعی مقدمہ کے مطابق ثانیہ اعوان نامی خاتون نے مجھے فون کرکے 10ہزار روپے بھتہ ایزی پیسہ کے ذریعے طلب کیا اور بھتہ کی عدم ادائیگی پرتصویریں اخباروں اور سوشل میڈیا پر ڈالنے کی دھمکیاں دیں اورکہا کہ اگر مجھے بھتہ نہ دیا تو نوکری سے برطرف کرادوں گی۔

ثانیہ اعوان نے یہ بھی کہا کہ میں پہلے بھی بہت سارے اہل کاروں کو برطرف کرا چکی ہوں،ثانیہ اعوان نے کہا کہ تم لوگ آپس میں مل کر بھتے کی رقم کا بندوبست کرلو،رقم نہ دینے پر تم لوگوں کےخلاف پروپیگنڈہ کرتی رہوں گی، سر سیدپولیس نے پولیس اہلکار کی مدعیت میں مقدمہ نمبر 246/ 2021 زیر دفعہ 384/385 دہشت گردی، بھتہ خوری اور ٹیلگراف ایکٹ تحت درج کر کے ثانیہ ا عوان کے گھر چھاپہ مارا ،لیکن ثا نیہ اپنے شوہر شاہ رخ اعوان کے ہمراہ گھر سے فرار ہوگئی ۔

تاہم پولیس کی جانب سے ملزمہ کے ٹھکانوں پر چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ثانیہ شاہ رخ نامی سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ کی پولیس اہل کار سے بھتہ مانگنے کی آڈیو بھی لیک ہو گئی ہے، جس میں وہ پولیس اہل کار کو بلیک میل کرکے ہفتہ اور ماہانہ کے حساب سےبھتہ طلب کررہی ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ نام نہاد سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ، نام نہاد صحافی بن کر پولیس کے اعلی افسران سے تعلق بنانےکے بعد پولیس اہل کاروں کو بلیک میل کر کے بھتہ طلب کر تے ہیں، جس کے باعث پیشہ ور صحافیوں کی ساکھ بھی مجروح ہوتی ہے ۔

باخبر ذرائع کا کہناہے کہ مذکورہ خاتون کا طریقہ واردات یہ تھا کہ وہ اپنے شوہرکے ساتھ پولیس کےاعلی افسران سے خودکو میڈیا پرسن ظاہر کرکے ان کے انٹرویو کی آڑ میں نہ صرف تعلقات استوار کرلیتی تھی، بلکہ افسران کے فون نمبرز بھی حاصل کرتی تھی۔ شوہرموبائل فون پرویڈیو بناتا اور وہ ہاتھ میں مائیک تھامے انٹرویو کرتی اور اسی آڑ میں پولیس کےدیگر افسران کو بلیک میل کرتی تھی ۔

دوسر ی جانب شہر میں ڈاکو راج اور اسٹریٹ کرائمز کی وارداتوں کا جن تاحال بے قابو ہے، جس کا تدارک کراچی پولیس کے لیے ممکن نظر نہیں آرہا ؕ۔شہری گھروں میں بھی محفوظ نہیں رہے۔ گزشتہ دنوں گلشن معمار تھانے کی حدود سیکٹرZ4 جامع مسجد کے قریب واقع بنگلہ نمبر اے 100 میں دن دیہاڑے موٹر سائیکلوں پر سوار مسلح 5 ڈاکوؤں نے بنگلے میں گھس کر اہل خانہ کو یرغمال بنا کر 30 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے زیورات اور 2 لاکھ روپے نقد لوٹ لیے اور بآسانی فرار بھی ہوگئے ۔ 

ڈاکوؤں سے مزاحمت کے دوران خاتون کا تیز دھار آلے کے وار سے ہاتھ بھی زخمی ہوگیا ، ڈاکوؤں نے جاتے ہوئے گھر کے باہر تعاقب کرنے پر اندھا دھند فائرنگ بھی کی۔ تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ، مکینوں کا کہنا ہے کہ ہم کس سے فریاد کریں اور کہاں جا کر خود کو محفوظ سمجھیں۔ 

پولیس نے واردات کا مقدمہ درج کرلیا ہے ۔اس حوالے سے مدعی مقدمہ شمیم حیدر نے کا کہنا ہے کہ وہ دوپہر ساڑھے بارہ بجے کے قریب بچے کو چیز دلانے کے لیے گھر سے نکلے تھے کہ اس دوران مرکزی گیٹ کھلا دیکھ کر پہلے سے موجود ڈاکو انھیں اسلحے کے زور پر یرغمال بنا کر بنگلے میں داخل ہوگئے او گھر میں موجود اہل خانہ کو یرغمال بنا کر تلاشی کے دوران 30 لاکھ روپے مالیت کے طلاعی زیورات اور 2 لاکھ روپے نقد لوٹ کر فرار بھی ہو گئے ، انہوں نے بتایا کہ پہلی منزل پر میری بیٹی رہتی ہے اور ڈاکو وہاں بھی لوٹ مار کے لیے گئے اور میرے نواسے پر اسلحہ رکھ کر تلاشی کا کہا، اس دوران میری بیٹی نے چُھری اٹھا نے کی کوشش کی، جس کے باعث اس کے ہاتھ پر زخم آیا اور اس افرا تفری میں ڈاکو پہلی منزل پر لوٹ مار کیے بغیر نیچے کی جانب بھاگے اور دوران اہلخانہ نے بھی ان کا تعاقب کیا توگھر کے باہرہمیں دیکھ کر ڈاکوؤں نے اندھا دھند فائرنگ کی۔ 

تاہم معجزانہ طور پر کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، مدعی مقدمہ شمیم حیدر نے بتایا کہ ڈاکوؤں کی عمر 20 سے 25 سال کے درمیان تھی، ایک نے شلوار قمیض، جب کہ دیگر نے جینز کی پینٹ اور شرٹ پہنی ہوئی تھی ۔ملزمان ماہر اورعادی جرائم پیشہ ور لگ رہے تھے ،کیوں کہ الماریوں کو کھولنے والا ڈاکو انگلیوں کے نشانات سے بچنے لیے کپڑے کا استعمال کر رہا تھا۔ ڈاکو اپنا ہیلمٹ اور جوس کا وہ ڈبہ جو ایک ڈکیت پیتے ہوئے گھر میں داخل ہوا تھا، چھوڑ کر چلے گئے تھے، وہ پولیس کے حوالے کر دیا ہے تاکہ اس پر سے فنگر پرنٹس کو محفوظ بنایا جا سکے ،جب کہ کرائم سین یونٹ نے گھر کے مختلف حصوں سے بھی فنگر پرنٹس کے ساتھ ساتھ دیگر شواہد بھی جمع کیے ہیں،جب کہ علاقے میں لگے ہوئے کلوز سرکٹ کیمروں کی مدد سے فرار ہونے والے ڈاکوؤں کی تصاویر بھی حاصل کی گئی ہیں۔

پولیس نے ڈاکوؤں کے خاکے بنوانے کے لیے سی پی ایل سی آفس آنے کا کہا ہے، مکینوں کا کہنا تھا کہ ڈاکوؤں کی دیدا دلیری کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں نہ تو پولیس کا اور نہ ہی گلشن معمار کی اپنی سیکیورٹی کا کوئی ڈر و خوف تھا اور وہ اطمینان سے گھر کا صفایا کر کے فرار ہوگئے، مکینوں کا کہنا تھا کہ شہری نہ تو سڑکوں پر محفوظ ہیں اور نہ ہی گھروں میں یہ سلسلہ کب تک چلتا رہے گا ؟ مکینوں نے کراچی پولیس چیف غلام نبی میمن سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے بنگلے میں ڈکیتی کی واردات میں ملوث ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کر کے لوٹا گیا سونا اور نقدی برآمد کر کے ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے ۔ 

دوسری جانب فیڈرل بی ایریا بلاک 14 میں ڈاکووں کی شہری کو لوٹنے کی کوشش، موٹرسائیکل سوار مسلح 2 ڈاکووں نے گھر کے باہر موجود شہری کو گھیرا تو شہری نے خطرہ بھانپ کر راہ فرار اختیار اوربھاگتے ہوئے مخالف سمت سے آنے والی موٹرسائیکل سے ٹکرا کر گر گیا ،موٹرسائیکل سے ٹکرانے کے نتیجے میں موٹرسائیکل سوار اور اس کے پیچھے بیٹھی ہوئی بچی بھی سڑک پر گر گئی ،شہری اٹھ کر دوبارہ بھاگ گیا ،ڈاکووں کے ڈر سے دوسرا شہری بھی بچی کا ہاتھ پکڑ کر مخالف سمت چل پڑتا ہے، ڈاکو سڑک پر پڑے بچی کا بیگ کی تلاشی لیتے ہیں، دونوں ڈاکو واردات ناکام ہونے کے بعد موقع سے فرار ہوجاتے ہیں ۔

شاہ فیصل کالونی تھانے کی حدود شمع شاپنگ سینٹر کے قریب4 موٹرسائیکل سوار مسلح ڈاکووں نے ایک شخص سے اسلحے کے زورپر موٹرسائیکل چھیننے کی کوشش کے دوران مزاحمت کرنے پر ملزمان نے فائرنگ کرکے36 سالہ نعمان ولد نعیم احمد ، اس دوران علاقہ مکینوں نے ایک ڈ اکو اکرام کو ٹی ٹی پستول سمیت پکڑ کرپولیس کے حوالے کردیا،جب کہ ملزم کے دیگر3 ساتھی موقع واردات سے فرار ہوگئے ۔سہراب گوٹھ پل کے قریب شہریوں نے 2ڈاکووں ناصرولدمحمد یوسف اور داودولد حاجی موسی کو پکڑکر تشدد کے بعد پولیس کے حوالے کر دیا۔ شر یف آباد تھانے کی حدود ایف بی ایریا موسیٰ کالونی فائیو ڈی کے بس اسٹاپ کے قریب ملزمان نے ڈکیتی کی واردات کے دوران مزاحمت کر نے پر فائرنگ کر کے 26 سالہ اشمل علی ولد شاکر علی کو زخمی کر دیا اور بآسانی فرار ہو گئے ۔ سچل تھانے کی حدود غازی گوٹھ مرکزی بازار G 17کے اسٹاپ کے قریب ملزمان نے ڈکیتی کی واردات کے دوران مزاحمت کرنے پر فائرنگ کرکے 32 سالہ منیراحمد ولد محمد عثمان کو زخمی کر دیا اور فرار ہو گئے۔

پولیس کی مایوس کن کارکردگی ڈاکووں اور لٹیروں کے ستائے ہو ئے نڈر شہریوں نے اب اپنی مد آپ کے تحت ڈاکووں کاسامنا کر نے کی ٹھا ن لی ہے ۔ عوام نےنارتھ ناظم آباد 5اسٹار چورنگی کے قریب مبینہ جعلی پولیس اہل کار کی جانب سے اسلحہ کے زور پرشہری سے موٹر سائیکل چھیننے کی کوشش ناکام بنادی۔ ڈاکووں نے پولیس کا روپ دھار کر شہریوں سے لوٹ مار کر کے ان کا جینا دوبھر کردیاہے ۔ گزشتہ دنوں نارتھ ناظم آباد 5اسٹار چورنگی کے قریب موٹر سائیکل سوار مسلح جعلی پولیس اہلکار کی شہری سے مبینہ طور پر موٹر سائیکل چھیننے کی ویڈیو بھی وائرل ہوگئی ،متاثرہ شہری نے شور مچایا تو عوام کاہجوم لگ گیا، اور شہری کی موٹرسائیکل چھیننے سے بچ گئی۔

جعلی پولیس اہلکار مبینہ طور پر اپنے ساتھی کے ہمراہ موٹر سائیکل چھین رہا تھا۔ اور اس نے شناخت چھپانے کے لیے نیلا اپر پہن رکھا تھا، جب کہ اس کی موٹر سائیکل پر لگی پولیس کی نمبر پلیٹ بھی واضح نظر آرہی تھی ،شہریوں نے چورنگی پر موجود ٹریفک اہلکار کو بھی مدد کے لیے طلب کیا، سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں پولیس اہل کار کا ساتھی نظر آرہا ہے، جب کہ متاثرہ شہری بار بار مبینہ اہلکار کی پستول اور اس کی سرکاری نمبر پلیٹ والی موٹر سائیکل کی نشاندہی کرتا رہا، مشتعل عوام کا کہنا تھاکہ مبینہ طور پر موٹرسائیکل چھیننے والا ملزم کامران خود کو پولیس کاسب انسپکٹر اور سیکیورٹی زون ٹو کا اہلکار اور بلاول ہاؤس پر تعیناتی کا کہہ رہاتھا ۔ 

بعد ازاں نارتھ ناظم آباد پولیس نے کارروائی کر کے جعلی پولیس آفیسر ملزم سید کامران علی ولد سید قربان علی کو گرفتار کر کے اس کے قبضے سے اسلحہ و ایمونیشن ،انسپکٹر رینک کا جعلی پولیس کار اورمسروقہ موٹر سائیکل125 سفید رنگ جس پرسرکاری نمبر HM-2630 SINDH POLICE INVESTIGATION) )لگا ہوا تھا، برآمد کر لی ۔ پولیس کے مطابق ملزم سے برآمدہو نے والی موٹر سائیکل کے انجن و چیسز نمبر سی پی ایل سی ریکارڈ سے چیک کرایا گیا، تو موٹر سائیکل کا اصل نمبرMNL-818 معلوم ہوا، جو نیو ٹاون تھانے کی سرقہ شدہ ہے۔

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید