• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اظہر عزمی

ایک وقت تھا جب جہیز میں پاندان نہ ہو تو جہیز نامکمل ہوتا تھا۔ گھروں میں پان بڑے سلیقے اور تہذیب سے کھایا جاتا۔اس کا انتظام بڑی بوڑھیوں کے ہاتھوںمیں ہوتا۔اب توخاندانوں میں پاندان کی روایت معدوم ہوتی جا رہی ہے۔خاندان تھے تو پاندان تھے۔

گزرے دنوں میں پان دان کیا تھا۔ پورا گھر ہوا کرتا تھا۔ اس میں تڑے مڑے نوٹ، اٹھنیاں، چونیاں، کٹے پٹے کاغذ، دوا کی گولیاں، ہرن چھاپ تمباکو، کٹی ادھ کٹی جھالیہ، کبھی بہت گیلا تو کبھی بہت سوکھا کتھا چونا ہوتا تھا۔گھر میں چھوٹے پوتا پوتی اگر اکیلے میں پاندان کی طرف چلے جاتے تو شور مچ جاتا۔ ارے پکڑو، سنبھالو، کہیں تمباکو نہ کھا لے۔ ایسے موقع پر بہوؤں کو ساس کا پاندان زہر لگتا۔ 

کہتیں، ایک تو ان کے پاندان نے زندگی عذاب کر رکھی ہے۔ ضرورت کیا ہے پان کھانے کی۔ پیٹ میں آنت نہیں، منہ میں دانت نہیں۔ چلی ہیں پان کھانے۔ ساس کا بیانیہ مجتلف ہوتا۔ اپنے کمرے میں جا کر اونچی آواز میں کہتیں،پتہ نہیں کیا بچوں کی تربیت کر رہی ہیں۔ ہمارے بھی بچے تھے ایک بار منع کردیا، بس پھر کسی کی مجال نہیں جو پاندان کی طرف بھٹک جائے۔ خود کو بننے سنورنے سے فرصت ملے تو بچوں پر دھیان دیں۔

اگر گھر میں پاندان والی کی کوئی ہم عمر رشتے دار یا محلے والی آجاتی توسمجھیں کہ کوئی نہ کوئی اپنی یا محلے کی بہو، زیر عتاب آئی ہی آئی۔ وہ وہ پینڈورا بکس کھلتے کہ بس اللہ ہی جانے۔ منہ میں پان اور اس پر چھالیہ کی کتر کتر الگ مزہ دیتی۔ گھنٹوں گزر جاتے۔ دوپہر کے کھانے کا وقت آجاتا۔ جہاں مہمان نے جانے کا کہا۔ فوراََ جواب آتا: ارے ابھی تو آئی ہو، بیٹھو۔ کھانا کھا کر جانا۔ ادھر بہوؤں کے سینوں پر سانپ لوٹ رہے ہوتے کہ (غیبت کا سیشن) ختم ہو۔

مگر یہ سب زمانے لد گئے ہیں۔ بس رہ گئی ہیں تو باتیں اور یادیں۔ دنیا کو گلوبل ولیج بنایا جارہا ہے۔ پرائیویٹ لائف، گھریلو سکون اور بچوں کی تعلیم کے لئے اب خاندان چھوٹے چھوٹے یونٹس میں بٹ رہے ہیں، جہاں پاندان تو دور کی بات والدین کے رہنے کی جگہ نہیں بن رہی ہے۔ واقعی خاندان تھے تو پاندان تھے۔

مجید لاہوری مرحوم نے کہا تھا :

جان ہے تو جہان ہے پیارے — زندگی پاندان ہے پیارے

اب یہ پاندان زندگی سے بہت دور چلے گئے ہیں