آپ آف لائن ہیں
منگل29؍شعبان المعظم 1442ھ 13؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کاروبار میں کامیابی کیلئے اسٹیوجابز کے اسباق

ٹیکنالوجی اور انٹرپرینیورشپ کی دنیا میں اسٹیو جابز کے قد کاٹھ کا ابھی تک کوئی پیدا نہیں ہوا۔ اسٹیو جابز نے 1976ء میں اپنے والد کے گیراج میں ایپل کی بنیاد رکھی۔ 1985ء میں انھیں کمپنی سے بے دخل کردیا گیا، پھر جب ایپل نادہندگی کے دہانے پر پہنچی تو 1997ء میں اسٹیو جابز اسے بچانے کے لیے واپس آگئے اور 2011ء میں جب انھوں نے دنیائے فانی سے کوچ کیاتو ایپل دنیا کی سب سے زیادہ مالیت والی موبائل کمپنی بن چکی تھی۔

اس سفر میں انھوں نے سات صنعتوں میں انقلاب برپا کیا، جن میں پرسنل کمپیوٹنگ، اینی میٹڈ موویز، میوزک، فون، ٹیبلٹ کمپیوٹنگ، ریٹیل اسٹورز اور ڈیجیٹل پبلشنگ شامل ہیں۔ اس طرح اسٹیو جابز کا نام امریکا کے عظیم ترین اختراع سازوں تھامس ایڈیسن، ہینری فورڈ اور والٹ ڈزنی کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ ذیل میں اسٹیو جابز کی شخصیت کی کچھ ایسی خصوصیات پیش کی جارہی ہیں، جنھوں نے ان کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔

توجہ

1997ء میں جب اسٹیو جابز نے ایپل کو دلدل سے نکالنے کے لیے واپسی کا فیصلہ کیا تو اس وقت کمپنی کئی طرح کے کمپیوٹرز، آلات اور میکنٹوش کے مختلف ورژن بنارہی تھی۔ چند ہفتوں کے جائزے کے بعد اسٹیو جابز کو اندازہ ہوچکا تھا کہ کمپنی کہاں غلط کررہی ہے۔ اسٹیو جابز نےمیٹنگ میں میجک مارکرسے وائٹ بورڈ پر دو الفاظ تحریر کیے: ’کنزیومر‘ او ر ’پرو‘، پھر ان کے نیچے ’ڈیسک ٹاپ‘ اور ’پورٹیبل‘ لکھ دیا۔

اسٹیو جابز نے اپنی ٹیم کو بتایا کہ آج کے بعد انھیں صرف چار پراڈکٹس پر اپنی ساری توجہ اور توانائیاں صرف کرنی ہیں۔ ’میں نے دیگر سارے پراڈکٹس کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے‘، اسٹیو جابز نے اپنی ٹیم کو بتایا۔ میٹنگ روم میں اچانک سے خاموشی چھائی گئی۔ اسٹیو جابز کے اس فیصلے نے کمپنی کو نادہندہ ہونے سے بچالیا۔ اسٹیو جابز نے بعد میں اپنی ٹیم کو بتایا، یہ فیصلہ کرنا کہ ’کیا نہیں کرنا‘ اتنا ہی اہم ہےجتنا یہ فیصلہ کرنا کہ ’کیا کرنا ہے‘۔

کمپنی کو درست سمت میں لانے کے بعد اسٹیو جابز نے اپنی ٹیم کے ’ٹاپ100‘ لوگوں کو ہر سال سیروتفریح پر لے جانا شروع کیا، جس کے آخری روز وہ بورڈ کے سامنے کھڑے ہوتے اور پوچھتے، ’ہم اگلے ایک سال میں کیا 10نئی چیزیں کرسکتے ہیں؟‘ ایک سو افراد سے صرف 10تجاویز طلب کرتے۔ اسٹیو جابز کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ٹیم کا ہررکن اپنی بہترین تجویزپیش کرتا اور پھر ان میں سے ٹاپ 10تجاویز کو اسٹیو خود بورڈ پر تحریر کرتے۔ اگلے مرحلے میں وہ نیچے کی 7تجاویز کو مٹا دیتے اور کہتے، ’ہم اگلے ایک سال میں صرف یہ تین چیزیں ہی کرسکتے ہیں‘۔

آسان بنائیں

ایپل کے اولین مارکیٹنگ بروشر پر یہ درج تھا؛ Simplicity is the ultimate sophistication(سادگی ہی سب سے بڑی نفاست ہے)۔ یہ اسٹیو جابز کا صرف ایک نعرہ ہی نہیں تھا، بلکہ آپ ایپل کے پراڈکٹس کے مقابلے میں دیگر کمپیوٹرز اور موبائل فونز کو دیکھیں تو آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ اسٹیو جابز کیا کہنا چاہتے تھے۔ایپل کی کامیابی کا راز اس کے پراڈکٹس کی سادگی اور نفاست میں ہی پنہاں ہے۔

ذمہ داری لیں

اسٹیو جابز کو پتہ تھا کہ وہ ایپل کے پراڈکٹس میں اسی وقت سادگی اور نفاست لاسکتے ہیں، جب ہارڈ ویئر، سوفٹ ویئر اور دیگر پارٹس کو غیرمبہم اور بلا رکاوٹ ایک دوسرے میں ضم کیا جائے۔ وہ ایک ’ایپل ایکو سسٹم‘ چاہتے تھے مثلاً ایک آئی پوڈ، جو آئی ٹیونز سوفٹ ویئر کے حامل میک سسٹم کے ساتھ جڑا ہو۔

اسٹیو جابز اپنی تمام پراڈکٹس کی اس کے تصور سے لے کر پایہ تکمیل کو پہنچنےاو رصارف کے استعمال تک، ہرمرحلے کی ذمہ داری لیتے تھے۔ ’لوگ بہت مصروف ہوتے ہیں، انھیں یہ سوچ کر پریشان نہیں ہونا چاہیے کہ وہ اپنی ڈیوائس کو کمپیوٹر کے ساتھ کس طرح انٹی گریٹ کریں؟‘

مقابلے کی دوڑ میں آگے رہنا

جب اسٹیو جابز نے پہلا آئی میک تیار کیا تو اس کا مقصد صارفین کی تصاویر اور ویڈیوز کو مینیج کرنا تھا۔ تاہم میوزک کے معاملے میں آئی میک بہت پیچھے تھا۔ پی سی رکھنے والے صارفین بآسانی میوزک ڈاؤن لوڈ، سواپ اور پھر اپنی سی ڈیز میں برن کررہے تھے۔ ’مجھے محسوس ہوا کہ ہم سے ایک بڑی غلطی ہوگئی ہے‘، جابز نے اپنی ٹیم کو بتایا۔ تاہم اب اسٹیو نے میوزک کے معاملے میں آئی میک کو پی سی کے برابر لانے کے بجائے اس سے آگے نکلنے کا منصوبہ تیار کیا۔ 

اس منصوبے کا نتیجہ آئی ٹیونز، آئی ٹیونز اسٹور اور آئی پوڈ کی صورت میں نکلا۔ اسٹیو جابز نے ایک قدم اور آگے جاتے ہوئے آئی فون تیار کرلیا، جو کہ اپنا ہی آئی پوڈ کھا گیا۔ اسٹیوجابز کا کہنا تھا، ’اگر آج میں سب سے پہلے یہ نہ کرتا تو کل کوئی اور یہ کام کرلیتا، مقابلے کے آنے کا انتظار مت کریں، مقابلے کی دوڑ میں آگے رہیں‘۔

پراڈکٹ کو منافع سے آگے رکھنا

1980ء کی دہائی میں اسٹیو جابز اپنی چھوٹی سی ٹیم کے ساتھ میکنٹوش تیار کررہے تھے، تو ان کا مقصد ’پاگل کردینے کی حد تک زبردست‘ کمپیوٹر تیار کرنا تھا۔ اسٹیو نے اپنی ٹیم کو دو باتیں کہی تھیں،’قیمت کے بارے میں فکرمند نہ ہوں، صرف کمپیوٹر کی خصوصیات بتائیں اور سمجھوتہ نہ کریں‘۔ نتیجتاً، جب میکنٹوش تیار ہوکر سامنے آیا تو اس کی لاگت بہت زیادہ تھی، جس کے بعد انھیں کمپنی سے نکال دیا گیا۔ لیکن میکنٹوش نے ہوم کمپیوٹرز کی دنیا میں ایک انقلاب برپا کیا۔ لہٰذا اپنی توجہ ایک زبردست پراڈکٹ تیار کرنے پر رکھیں، مالی فوائد آپ کا پیچھا کریں گے۔

فوکس گروپس کے غلام مت بنیں 

جب اسٹیو جابز میکنٹوش تیار کرنے والی اپنی اولین ٹیم کو پہلی بار سیر و تفریح پر لے گئے تو ایک رکن نے انھیں کہا، ’کیا ہمیں ایک بار تحقیق نہیںکرلینی چاہیے کہ صارفین کیا چاہتے ہیں؟‘ اسٹیو نے سختی سے منع کردیا، ’نہیں، کیوں کہ صارف نہیں جانتا کہ اسے کیا چاہیے، جب تک کہ ہم اسے کوئی نئی چیز نہ دِکھائیں، جس کا اس نے کبھی سوچا ہی نہ ہو‘۔ پھر انھوں نے ہینری فورڈ کی مشہور کہاوت دُہرائی ، ’اگر سائنسدان صارفین سے پوچھتے کہ انھیں کیا چاہیے، تو ان کا جواب ہوتا:ایک زیادہ تیز دوڑنے والا گھوڑا‘۔ ایک اور موقع پر ان کا کہنا تھا، ’ہمارا ٹاسک یہ ہے کہ ہم وہ چیزیں پڑھ لیں جو ابھی تک صفحے پر لکھی نہیں گئیں‘۔

اسٹیوجابز کی اختراعی صلاحیتوں کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے بعد ایپل کی نئی لیڈرشپ کوئی بھی ایسی اختراعی پراڈکٹ متعارف نہیں کراسکی، جسے گیم چینجز کہا جاسکے۔