’رمضان‘ ایثار و ہمدردی اور انفاق فی سبیل اللہ کا مہینہ
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’رمضان‘ ایثار و ہمدردی اور انفاق فی سبیل اللہ کا مہینہ

مولانا حافظ عبد الرحمٰن سلفی

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، ترجمہ! جو لوگ اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان (کے مال) کی مثال اس دانے کی سی ہے جس سے گندم کی سات بالیاں اگیں اورہر ایک بالی میں سو سو دانے ہوں اور اللہ جس(کے مال) کو چاہتا زیادہ کرتا ہے ،وہ بڑی کشائش والا (اور) سب کچھ جاننے والا ہے (سورۃالبقرہ)

اسلام دین فطرت ہے اور زندگی کے تمام شعبہ جات میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اسلام معاشرتی عدل و احسان کو انتہائی پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انسان فطری طور پر جن چیزوں کی شدید محبت میںمبتلا ہو کر اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق سے بے گانہ ہوتا ہے ۔ قرآن و حدیث میں ان محبتوں کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربان کرنے کو انفاق فی سبیل اللہ کہاجاتاہے۔ان چیزوںمیں عزیز ‘رشتے دار ‘ اولاد ‘بیوی ‘والدین اور مال و دولت وغیرہ سب شامل ہیں۔ حسب موقع جس چیز کی ضرورت اللہ تعالیٰ کے دین کو ہو ‘ اس وقت اسے رضائے الٰہی کے جذبے کے ساتھ صرف کر دینا رب کائنات کو مقصود و مطلوب ہے۔ 

حتیٰ کہ اگر ایک بندئہ مومن کی عزیز ترین شے یعنی اس کی اپنی جان بھی اللہ کی راہ میں دینی پڑ جائے تو اہل ایمان ا س سے بھی دریغ نہ کریں۔ چناںچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: (مومنو) جب تک تم ان چیزوںمیں سے جو تمہیں (بے حد) عزیز ہیں (اللہ کی راہ میں ) صرف نہ کرو گے کبھی نیکی حاصل نہ کر سکو گے اور جو چیز تم خرچ کرو گے، اللہ اسے (خوب )جانتا ہے۔ (سورۂ آل عمران )اسی طرح دوسرے مقام پر فرمایا: اللہ اور اس کے رسولﷺ پرایمان لائو اور جس (مال) میں اس نے (یعنی اللہ تعالیٰ نے) تمہیں (اپنا) نائب بنایا ہے، اس میں سے خرچ کرو جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور (مال) خرچ کرتے رہے، ان کے لئے بہت بڑا اجر ہے۔ (سورۃ الحدید )

معلوم ہوا کہ ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے، وہ سب کا سب اللہ تعالیٰ ہی کا دیا ہوا ہے۔ اب اگر وہ اپنی دی ہوئی ہمہ قسم نعمتوںمیں سے کچھ طلب کر ے تو اسے کلی اختیار حاصل ہے ۔ جب کہ اللہ تعالیٰ انفاق فی سبیل اللہ کے بدلے ہمیں اجر و ثواب کا وعدہ بھی فرما رہا ہے۔

اسلامی عبادات و معاملات اور اخلاق حکمت سے خالی نہیں ہیں۔ نماز روزہ، زکوٰۃ ،حج کسی بھی فریضے کو لے لیجئے۔ ہر عبادت نہ صرف روحانی بلکہ معاشرتی اعتبار سے بھی انسانیت کے لئے فوز و فلاح کی ضامن ہے۔انہی عبادات میں سے رمضان المبارک کے مہینے میں ادا کی جانے والی عبادات کا جائزہ لیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ یہ ماہ مقدس اپنے دامن میں کس قدر فیوض و برکات سمیٹے ہوئے ہے۔

رمضان المبارک میں اہل ایمان روزے رکھ کر تقویٰ کے حضول کی سعی و جہد کرتے ہیں۔راتوں کا قیام‘ قرآن مجید کی تلاوت اور ہر طرح کے کبیرہ صغیرہ گناہوں سے اجتناب اور نیکیوں کے حصول میں سبقت‘ زکوٰۃ و فطرہ کے علاوہ عام صدقات و خیرات جس کاحکم قرآن مجیدکی مندرجہ بالا آیت کریمہ سے واضح ہے۔ ویسے تو عام مسلمان سارا سال صدقات و خیرات کرتے رہتے ہیں اور بہت سے اہل ایمان دیانت داری کے ساتھ اللہ کا حق یعنی زکوٰۃبھی ادا کرتے رہتے ہیں ‘ لیکن رمضان کا مہینہ ایسی برکتوں والا ہے کہ نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کا ارشادگرامی ہے : جو اس مہینے میں کسی نفل (نیک عادت) کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا قرب تلاش کرے تو اسے اس نفل (عبادت) کا اتنا ثواب ملتا ہے، جتنا دوسرے مہینوں میں فرض کے ادا کرنے کا ثواب ملتا ہے اور جس نے اس مہینے فرض کو ادا کیا تو ایک فرض کے ادا کرنے کا اتنا ثواب ملتا ہے، جتنا کہ دوسرے مہینوں میں ستّر فرضوں کے ادا کرنے سے ملتا ہے۔ اور یہ صبرکا مہینہ ہے اوریہ ایسا مہینہ ہے جس میںمومن کی روزی بڑھا دی جاتی ہے۔(سنن بیہقی)

اس ماہ مقدس میںجہاں دیگر عبادات یعنی نماز‘ روزہ‘ قیام اللیل وغیرہ بارگاہ رب العالمین میں انتہائی محبوب ہیں ‘ وہیں انفاق فی سبیل اللہ کی بڑی اہمیت ہے۔چونکہ اس ماہ مقدس میں ایک نفل فرض اور ایک فرض ستر فرضوں کے برابر ہوتا ہے، اس لئے عموماً اہل ایمان زکوٰۃ کی ادائیگی کے لئے اس بابرکت مہینے کا انتخاب کرتے ہیں، تاکہ زیادہ سے زیادہ رحمت الٰہی کے مصداق بن سکیں۔ 

چناںچہ حدیث میں آیا ہے کہ سرورِ کائنات علیہ الصلوٰۃ والسلام رمضان میں تیز آندھیوں سے بھی بڑھ کر صدقہ و خیرات فرمایا کرتے تھے۔ محبوب رب العالمینﷺ نے فرمایا: صدقہ اللہ تعالیٰ کے غصے کو بجھاتاہے اور بری حالت کی موت سے بچاتا ہے۔(مسنداحمد)ترجمہ: قیامت کے دن جب کوئی سایہ نہ ہو گا تو صدقہ مومن پر سایہ بن جائے گا۔(مسنداحمد)

ترجمہ! صدقہ کرنے میں جلدی کرو، کیونکہ بلائیں صدقے سے آگے نہیں بڑھ سکتی ہیں، بلکہ صدقہ سے رک جاتی ہیں(رزین ‘ مشکوٰۃ)

اسی طرح حدیث قدسی ہے! ترجمہ! اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے انسان تو میری راہ میں خرچ کر میں تیرے اوپر خرچ کروں گا۔(صحیح بخاری)

رحمت عالم ﷺ کا فرمان ہے: جو کسی بے لباس مسلمان کو کپڑا پہنا دے ‘ تو اللہ تعالیٰ اسے جنت کا سبز ریشم پہنائے گا اور جو مسلمان کسی بھوکے مسلمان کو کھانا کھلا دے‘ اللہ تعالیٰ اسے جنت کے میوے کھلائے گا اور جو مسلمان کسی پیاسے مسلمان کو پانی پلا دے تو اللہ تعالیٰ اسے جنت کا عمدہ پانی پلائے گا جو بہت ہی لذیذ اور خوش ذائقہ ہو گا۔(سنن ابو دائود‘ ترمذی)

قرآن و حدیث کی روشنی میں انفاق فی سبیل اللہ بالخصوص ماہِ رمضان میں اس کی اہمیت و فضیلت واضح ہے ۔ یہ رحمتوں اور برکتوں کا ماہ عظیم ہم پر سایہ فگن ہے تو ہمیں خصوصی طو رپر زکوٰۃ جیسے عظیم فریضے کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ کثرت سے صدقات و خیرات کا اہتمام کرتے ہوئے رب تعالیٰ کی جنت کے حصول کی کوشش کرنی چاہیے او ردینی تقاضوں کے مطابق صحیح مدّات میں خرچ کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نیک اعمال کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)