میگھن تم تو بہت کم ہمت نکلیں !
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آج سارا احساس کمتری جاتا رہا۔ بلکہ خود اعتمادی میں اضافہ سا محسوس ہورہا ہے۔ دل خوش اور مطمئن اور اندر جیسے ٹھنڈ سی پڑگئی ہے… ہم تو سنتے آئے ہیں کہ ’’دلہن ناریل کھایا کرو بچہ گورا پیدا ہوگا…‘‘ ناریل کا پانی پینے سے بچہ گورا پیدا ہوتا ہے۔

ارے ڈاکٹرنی نے کالے رنگ کے کیپسول لکھ دیئے ہیں۔ ہرگز نہ کھانا بچہ کالا پیدا ہوگا۔

بیٹا اپنے کمرے میں ذرا گورے گورے بچوں کی تصویر لگالو، کوئی بات نہیں دلہن کا رنگ سانولا ہے، پر بچہ تو گورا ہونا چاہئے نا…!

ہم ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ گورا کالا ہونا صرف ہمارے جیسے معاشروں کا مسئلہ ہے، مگر جب سے میگھن مارکل، ارے ہاں وہی حسین پریوں جیسی شہزادی لیڈی ڈائنا کی بہو کا انٹرویو دیکھا ہے کہ شاہی خاندان میگھن کے بچے کی رنگت سے متعلق خدشات رکھتا ہے یا سوچتا ہے تو یقین آگیا کہ چاہے وہ برطانیہ کا شاہی خاندان ہو جیسے روایات اور اقدار کی مثال سمجھا جاتا ہے۔ چاہے ہمارے ملک پاکستان کا کوئی دیہی قصبہ ہو۔ چاہے خوبصورت کوٹ اور اسکرٹ پہننے والی شہزادی ہو یا ہمارے جیسے ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہننے والی عام سی عورت ہو۔ چاہے حسین سنہری زلفوں پر ہیٹ سجائے میم ہو یا ہمارے جیسے تیل زدہ بالوں کی چوٹی باندھنے والی عورت ہو۔ 

چاہے اونچی ایڑی کی سینڈل پہننے والی حسینہ ہو یا ہمارے جیسے چپل پہننے والی خاتون خانہ ہو، چاہے گٹ پٹ انگریزی بولنے والی ماہ جبین ہو یا ہمارے جیسی کوئی عورت جیسے اپنی زبان بھی شاید خود سمجھ نہ آتی ہو… یقین آگیا کہ عورت چاہے برطانیہ کی ہو یا پاکستان کی۔ ایک ہی مٹی سے بنائی گئی ہے۔ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کی عورتوں کے دماغ معمولی فرق کے ساتھ ایک جیسی سوچ رکھتے ہیں۔ 

تخلیق کے اتنے سال بعد بھی اس کی سوچ کا محور نہیں بدلا… میگھن مارکل نے یہ بھی کہا کہ اسے رنگت کی وجہ سے ’’کلوٹی‘‘ قرار دیا گیا۔ اور شدید ذہنی دبائو کی وجہ سے اس نے خود کشی کا سوچا… یہاں میگھن کو مات ہوگئی ،کیوں کہ اس نے صرف کالی رنگت ہونے کی وجہ سے ہمت ہار دی… بہن میگھن تم تو بہت کم ہمت والی نکلیں۔ ہماری عورت کو دیکھا ہے کتنی بہادر کتنی باہمت۔ تمہیں تو صرف ذہنی دبائو کا سامنا کرنا پڑا اور تم بھاگ نکلیں۔ جب کہ ہماری عورت تو تشدد کی ہر قسم یعنی ذہنی، جسمانی، روحانی، سماجی اور معاشی تشدد کا سامنا کرتی ہے۔ تشدد بھی ایسا کہ جس کا تم تصور بھی نہیں کرسکتیں۔

کھانا وقت پر تیار کیوں نہیں؟ سالن میں نمک تیز کیوں؟ چائے ٹھنڈی کیوں؟ بچے کیوں رو رہے ہیں؟ کپڑے استری کیوں نہیں… تھپڑ۔

جہیز کم کیوں لائی۔ میکے والوں نے اچھی طرح آئو بھگت نہیں کی، لڑکے کو سلامی کم دی ’’ساس نندوں کی گالیاں‘‘

ابھی تک کوئی خوش خبری کیوں نہیں آئی، لڑکی کیوں پیدا کی، رنگت سانولی ہے۔ حتیٰ کہ زیادہ تعلیم یافتہ ہے تو بھی ’’طعنہ‘‘… جواب نہ دے تو گھنی جواب دے تو بدزبان/ زبان دراز… پسند کی شادی کی اجازت نہیں۔ کرنے کی کوشش کی تو ’’کاری‘‘ قتل غارت ہوجائے۔ یا خاندان کے لڑکے بدمعاشی کریں تو راھنی نامہ یا دشمنی کے خاتمے کے لیے ’’ونی/ سوار… ہر گالی کا عنوان یہی عورت۔

ذاتی دشمنی جھگڑے، شادی سے انکار تو اغوا کرلو، بازار میں گھسیٹو، زندہ دفن کردو، کتے چھوڑ دو، تیزاب سے جھلسا دو تیل چھڑک کر آگ لگادو… پھر بھی نہ جائے کونسی مٹی سے بنی ہے۔ یہ مشرقی عورت ہر ظلم پر تشدد کے بعد بھی بس محبت، محبت اور محبت۔ یہ ظلم و ستم سہ کر بھی محبت کا استعارہ ہے۔

بہن میگھن تمہیں مات ہوگئی۔ آج ہم بہت خوش اور مطمئن ہیں کہ ہم برطانوی شاہی خاندان کی بہو سے زیادہ سپر (Super) زیادہ اشرف ہیں۔ زیادہ حوصلہ مند اور بہادر ہیں۔

اری میگھن تم تو ملک چھوڑ گئیں۔ یہاں تو ہماری عورت ڈٹ کر حالات کا مقابلہ کرتی ہے۔ بچے ہوں تو ان کی زندگی اور مستقبل کا سوچ کر اس اُمید پر کہ وقت بدل جائے گا۔ اچھے دن آجائیں گے۔ اچھے دن تو معلوم نہیں آتے ہیں یا نہیں۔ ہاں! اسے عادت ضرور ہوجاتی ہے ان ہی حالات میں زندگی گذارنے کی۔ 

یہاں تو عورت گھر چھوڑتے ہوئے بھی ڈرتی ہے کہ لوگ کیا کہیں گے… ارے ہاں !واقعی تم بہت خوش قسمت ہو جو میاں کو لیکر نکل گئیں اور اسے کسی نے ’’زن مرید‘‘ یا ’’جورو کا غلام ‘‘نہیں کہا… اور تو اور تمہیں بھی کسی نے کالی جادوگرنی ہمارے بیٹے کو تعویز گھول کر پلاتی تھی۔ نہیں کہا نا… بس یہاں ہم پیچھے رہ گئے… اب گورے ہوں یا کالے اپنے میاں اور بچوں کے ساتھ خوش رہو۔ آباد رہو…