اغوا ایسے بھی ہونے لگے
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ویسے تو شادی یا دیگر تقریبات میں لوگ اکثر خوشی میں ہوائی فائرنگ کرتے ہیں جو کہ ایک غیر قانونی اور خطرناک عمل ہے، لیکن سوشل میڈیا پر کچے کے علاقوں اور جنگلات میں ایسی متعدد تقاریب جن میں فنکار اپنے فن کا مظاہرہ کررہے ہیں اور ڈاکووں کی جانب سے نوٹوں کی بارش کے ساتھ جدید ہتھیاروں سے خوشی میں شدید ہوائی فائرنگ کرتے دکھایا گیا ہے۔ ایسی متعدد وڈیوز سوشل میڈیا اور میڈیا پر نظر آتی ہیں، لیکن جب یہ فن کار کسی اجنبی شخص کے پروگرام میں پرفارم کرنے جاتے ہیں تو ڈاکوؤں کے ہاتھوں اغواء بھی ہوجاتے ہیں۔ 

ماضی میں بھی ایسے کئی واقعات سامنے آچکے ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ چند روز قبل پیش آیا، جب ڈاکوؤں نے خیرپور سے تعلق رکھنے والے فن کاروں کے ایک گروپ کو شادی کی تقریب کے بہانے بُلایا اور چاروں فن کاروں کو اغوا کرلیا ۔ ایس ایس پی کشمور امجد احمد شیخ نے جو کہ پہلے ہی کچے کے جنگلات میں ڈاکوئوں کے خلاف آپریشن میں مصروف ہیں اور آپریشن میں پہلی مرتبہ ڈرون کیمروں سمیت جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جارہا ہے، ان چاروں فن کاروں کے اغوا ہونے کے بعد ان کی جلد از جلدباحفاظت بازیابی کے لیے حکمت عملی مرتب کی اور کچے کے اس علاقے میں جہاں فن کاروں کو رکھا گیا تھا، وہاں ڈاکوئؤں کا گھیراؤ کیا۔ 

پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں ڈاکو چاروں فن کاروں کو چھوڑ کر فرار ہوگئے اور پولیس 72 گھنٹوں میں فن کاروں کو باحفاظت بازیاب کرانے میں کام یاب ہوگئی۔ایس ایس پی امجد احمد شیخ کے مطابق خیرپور کے ڈاکوؤں نے موبائل فون پر کال کر کے شادی کی تقریب کے بہانے فن کاروں کو بُلایا تھا اور انہیں ایزی پیسے کے ذریعے پانچ ہزار روپے ایڈوانس بھجوائے گئے ، باقی ادائیگی پروگرام ختم ہونے کے بعد کرنے کا کہا گیا،لیکن فن کاروں کو یہ علم نہیں تھا کہ جس تقریب میں انہیں بلایا جارہا ہے ،وہ تقریب نہیں بلکہ انہیں اغوا کرنے کا منصوبہ ہے، اس طرح یہ فن کار ڈاکوؤں کے چنگل میں پھنس گئے۔

ایس ایس پی سکھر، امجد احمد شیخ نے اس موقع پر کہا کہ، فن کاروں کا کام شادی بیاہ اور خوشی کے دیگر پروگراموں میں جانا ہوتا ہے، وہ جائیں لیکن میری ان سے اپیل ہے کہ وہ کسی بھی ایسے انجان شخص کی کال پر نہ جائیں ،جو کہ ان کے ذریعہ معاش کے بجائے مشکلات و خطرات کا باعث بن جائے۔ اگر فن کار کچے کے علاقوں میں شادی بیاہ سمیت دیگر تقاریب میں جائیں تو ان کی ذمے داری ہے کہ وہ کسی مقامی شخص کی جسے وہ جانتے ہوں، اس کی ضمانت لیں۔ پولیس کو اطلاع دیں یا پولیس سے معلومات حاصل کریں اور یہ تسلی کرلیں کہ انہیں کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔

پولیس کے مطابق جس شخص نے ان فن کاروں کو پروگرام کے لیے بلایا تھا، جب اس کے نمبر کا ڈیٹا نکالا گیا، تو اس میں بہت زیادہ فن کاروں کے موبائل نمبر تھے، جس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ ایک مخصوص گروہ کچے کے ان جنگلات میں موجود ہے، جو فن کاروں کو تقاریب کے بہانے بلا کر اغوا کی وارداتیں انجام دیتا ہے، جس پر پولیس نے متعدد فن کاروں سے رابطہ کر کے انہیں آگاہی فراہم کی۔ 

ایک معروف گلوکارہ کو بھی ڈاکوؤں نے شادی کی تقریب کے لیے بلایا تھا، لیکن پولیس کی بروقت کارروائی کے باعث سنگر کو اغوا ہونے سے بچالیا گیا۔ تمام فن کاروں کی بھی یہ ذمے داری ہے کہ وہ اپنے آپ کو خطرات میں ڈالنے سے بچیں اور پولیس کو بھی مشکلات میں نہ ڈالیں اور فن کار بھی اپنا ذمے دارانہ کردار ادا کریں ، اس طرح کی وارداتوں کو ناکام بنانے کے لیے پولیس کا ساتھ دیں۔ 

ڈاکوؤں کےہاتھوں اغوا سے بچ جانے والی فن کارہ نے اپنے ویڈیو بیان میں بتایا کہ جواد نامی شخص نے 20 ہزار روپے میں پروگرام بک کیا ، پانچ ہزار روپے ایزی پیسے کے ذریعے بھجوائے گئے۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ کندھ کوٹ ، کشمور کے درمیان ایک پھاٹک پر آپ پہنچیں اور ہم پروگرام کے لیے جا رہے تھے۔ کشمور پولیس کے شکر گزار ہیں، جنہوں نے ہمیں وہاں سے واپس بھیجا اور ہمیں اغوا ہونے سے بچایا، میں ایس ایس پی امجد احمد شیخ ،کشمور پولیس کی مشکور ہوں اور تمام فن کاروں سے ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتی ہوں کہ جو فن کار کشمور، کندھ کوٹ، شکارپور، گھوٹکی کچے کے علاقوں میں اپنی مرضی سے پروگرام کے لیے نکل جاتے ہیں ، معلوم نہیں ہوتا کہ وہاں پہنچنے کے بعد ہمارے ساتھ کیا ہوگا۔ 

میں فن کاروں سے کہتی ہوں کہ ان علاقوں میں جب بھی پروگرام کے لیے جائیں تو وہاں کی پولیس سے رابطہ کریں ان کی جانچ پڑتال کریں اس کے بعد پروگرام پر جائیں ایسا روزگار جو فن کاروں کو خطرات میں ڈال دے، اس سے گریز کرنا چاہیے۔دوسری جانب ایس ایس پی کشمور امجد احمد شیخ کے مطابق کشمور کچے کے جنگلات میں گزشتہ تین ماہ سے آپریشن جاری ہے اور پولیس کی کوشش ہے کہ آپریشن کو جس قدر ممکن ہوسکے دریائے سندھ میں سطح آب بلند ہونے سے پہلے کسی حد تک مکمل کرلیا جائے۔ 

آپریشن شروع کرنے کے بعد ہم نے اس وقت تک مختلف اضلاع سے اغوا ہونے والے 9 مغویوں کو بازیاب کرایا ہے، جنہیں ڈاکوؤں نے زنجیروں کے ساتھ باندھ کر قید کر رکھا تھا اور ان کی رہائی کے لیے لاکھوں روپے تاوان طلب کیا جارہا تھا۔ آپریشن کے دوران بدنام زمانہ ڈاکو فیاض جاگیرانی مارا گیا ہے، اور سب سے بڑی کام یابی یہ ہے کہ کچے کے وہ علاقے جو نوگو ایریا تھے، خاص طور پر خادم بھیو کا ڈیرہ تھا، جو کہ انہوں نے اپنے کوٹ کے ارد گرد کھدائی کر کے کھائی بنائی ہوئی تھی جس میں پانی چھوڑا گیا تھا تاکہ اے پی سیز اور گاڑیاں وہاں نہ جا سکیں، وہاں بھی پولیس نے رسائی حاصل کرلی ہے اور اس کے ڈیرے کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ 

یہ جرائم پیشہ گروہ اغوا برائے تاوان، چوری، ڈکیتی سمیت سنگین جرائم کی وارداتوں میں ملوث تھے اور گردونواح کے علاقوں کے لیے ناسور بنے ہوئے تھے، اس علاقے میں پولیس کی گرفت اب مضبوط ہوچکی ہے۔ پولیس کی کوشش ہے کہ پانی آنے سے پہلے اس علاقے کو کلیئر کر کے یہاں سے نکلا جائے، کیوں کہ پہلے جو آپریشن پولیس کرتی تھی، وہ دو سے تین روز جاری رہتے تھے، اب پولیس نے جو حکمت عملی مرتب کی ہے، اس کے مطابق مہینوں تک مسلسل آپریشن کو جاری رکھا جائے۔ جب تک کچے کے علاقے زیر آب نہیں آتے، اس وقت تک پولیس ان جنگلات میں موجود رہے گی، اس آپریشن کو میں خود لیڈ کررہا ہوں، امید ہے کہ اس سے پولیس کا مورال بلند ہوگا اور عوام کا پولیس پر جو اعتماد ہے، اس میں مزید اضافہ ہوگا۔ 

یہ وہی علاقے ہیں جہاں چند سال قبل ایس ایچ او علی حسن جکھرانی اورڈی ایس آر رینجرز، جاوید اقبال میو شہید ہوئے تھے، اور یہ جو مارے جانے والے ڈاکو ہیں یہ ان کے کیسز میں مطلوب تھے، یہ ان افسران کی شہادتوں میں ملوث تھے، الحمد للہ شہیدوں کے خون کے ساتھ انصاف ہوا ہے، میری تعیناتی کے دوران اس وقت تک کچے کے جنگلات میں جاری آپریشن میں 11 ڈاکو مارے جا چکے ہیں جن میں متعدد ڈاکو انعام یافتہ تھے اور ان کے سروں پر حکومت سندھ کی جانب سے لاکھوں روپے انعامی رقم مقرر تھی۔ یہ ڈاکو علاقے میں خوف کی علامت بنے ہوئے تھے۔

ڈاکوؤں کے خلاف جاری آپریشن کی مانیٹرنگ میڈیا بھی کررہا ہے، دوران آپریشن میڈیا کی جانب سے کئے گئے سوالات کے جواب میں ایس ایس پی امجد احمد شیخ نے کہا کہ ہماری یہ کوشش ہے کہ ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن میں پولیس کے افسران اور جوانوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے ،کیوں کہ ہماری ایک جان تمام ڈاکوؤں سے زیادہ قیمتی ہے،ہم اپنے عوام کے محافظ ہیں، اور ان کی حفاظت کے لیے جان دینےسے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ میرا فرض ہے کہ میں اپنے جوانوں اور اپنے افسران کو نقصان سے بچاؤں اور اس وقت تک اللہ پاک کا شکر ہے کہ ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔

پہلی مرتبہ پولیس ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے اس آپریشن کی مانیٹرنگ کررہی ہے۔آپریشن کے دوران جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے ،جس کے باعث ہمیں بڑی کام یابی ملی ہے، ہم نے کوشش کی ہے کہ نقصان ہونے سے پہلے وہ چیزیں کور کرسکیں۔ ہم نے بدنام ڈاکو خادم بھیو کے خلاف آپریشن کیا، اس میں ہمارے جوانوں اور افسران نے بڑی بہادری کا مظاہرہ کیا اور ہمیں کام یابی ملی، کچے کے جنگلات میں آپریشن کے دوران ڈاکوؤں کے علاوہ کسی بھی بے گناہ شخص کو کوئی مالی اور جانی نقصان نہیں پہنچا، کچے کے لوگ پولیس سے بہت زیادہ خوش ہیں اور وہ اس کام یاب آپریشن پر پولیس کے لئے نعرے بلند کررہے ہیں اور ہمیں جھولیاں پھیلا کر دعائیں دے رہے ہیں۔ ان کی محبتیں اور دعائیں ہمارے ساتھ ہیں جس کے باعث اللہ پاک نے ہمیں کامیابیاں دی ہیں اور ہم مزید کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے ڈاکوؤں کا قلع قمع کر کے چھوڑیں گے۔

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید