کورونا سے متاثرہ خواتین کو ریلیف پروگرام میں ترجیح دی جائے، فافن
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کورونا سے متاثرہ خواتین کو ریلیف پروگرام میں ترجیح دی جائے، فافن

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ)ٹرسٹ فار ڈیموکریٹک ایجوکیشن اینڈ اکاؤنٹبلیٹی اور فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (ٹی ڈی ای اے ۔فافن ) کی طرف سے جاری ایک سروے رپورٹ کے نتائج میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے سفارش کی گئی ہے کہ نہ صرف کووڈ۔ 19کی امدادی سرگرمیوں کا دائرہ کار وسیع کیا جائے بلکہ کووڈ کے باعث مشکلات کا شکار ہونیوالی خواتین کیلئے امداد کے حصول کے معیار اور امداد تک رسائی کو آسان اور ریلیف پروگرام میں ترجیحی بنیاد پر شرکت کو یقینی بنایا جائے۔ فافن کی جانب سے پاکستان بھر کے منتخب 20 اضلاع کے 6000 گھرانوں کے سروے کی بنیاد پر جاری سماجی و اقتصادی اثرات کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق وبا کی پہلی لہر کے دوران خواتین اور لڑکیاں خاص طور پر متاثر ہوئی ہیں ،سماجی فاصلوں کی پابندیوں اور لاک ڈاؤن کے سبب پیدا ہونیوالی معاشی سست روی نے پہلے سے ہی پسماندگی کاشکار خواتین کو آمدنی اور وسائل رزق سے محروم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ رپورٹ کے مطابق لاک ڈاؤن کے دوران خواتین کے زیر کفالت تقریبا88 فیصد گھرانوں ، 62 فیصد تنخواہ دار خواتین اور 70 فیصد خود روزگار خواتین کی آمدنی میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ، لگ بھگ 27 فیصد ملازمت شدہ خواتین اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھیں جبکہ 12 فیصد کاروباری خواتین کو اپنے کاروبار بند کرنے پڑے جبکہ تقریبا 15 فیصد خواتین کو تنخواہوں کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ، گھرانوں کے تعلیمی اخراجات میں بھی مجموعی طور پر کمی دیکھی گئی، لاک ڈاؤن کی پابندیوں کے دوران تقریبا 30 فیصد دیہی اور 31 فیصد شہری گھرانوں میں خواتین کو تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ مزید برآں 43 فیصد جواب دہندگان نے تناؤ اور دیگر ذہنی بیماریوں کے بڑھتے ہوئے واقعات کو رپورٹ کیا ۔ تاہم معاشرتی سطح پر کچھ مثبت رجحانات بھی مشاہدے میں آئے ۔ مثلاً لوگوں نے اپنے ارد گرد موجود مستحق افراد کی امداد کیلئے مقامی سطح پر اقدامات اٹھاتے ہوئے۔ تقریبا 27 فیصد جواب دہندگان جن میں خواتین کی بڑی تعداد( تقریباً 35 فیصد) بھی شامل تھی نے تصدیق کی کہ انہوں نے سیاسی جماعتوں سے امداد حاصل کی ۔ بیشتر جواب دہندگان نےحکومتی اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ آئندہ امدادی سرگرمیوں اور معاشی ریلف پروگراموں کو خواتین کے زیر کفالت گھرانوں اور انفرادی کام کرنیوالی خواتین کے حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے صنفی بنیادوں پر بھی مرتب کیا جائے، معاشی ریلیف کے پیکیجز کے تحت ان کاروباری خواتین کو ترجیحی بنیادوں پر بلا سود یا سستے قرضے دیئے جائیں جن کے کاروبار اس وبا کے دوران متاثر یا بند ہوئے ہیں۔

اہم خبریں سے مزید