کیا یہ کائنات کی ’’پانچویں قوت ‘‘ ہے ؟
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

کیا یہ کائنات کی ’’پانچویں قوت ‘‘ ہے ؟

ذرّاتی طبیعیات کے مرکز سرن میں 900 سائنس دانوں کی عالمی ٹیم نے ایسے نئے بنیادی ذرّے کے شواہد حاصل کیے ہیں جو ممکنہ طور پر ’’پانچویں قوت کا نمائندہ بھی ہوسکتے ہیں ۔یہ شواہد ماہرین کو سرن میں نصب ’’لارج ہیڈرون کو لائیڈر بیوٹی (LHCb) نامی ذرّاتی اسراع گر میں 2011 سے 2018 ء کے کئی تجربات سے جمع ہونے والے ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کے بعد حاصل ہوئے ہیں ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ’’لیپٹو کوارک ‘‘( leptoquark) نامی اس ذرّے کے حق میں ملنے والی شہاد تیں اتنی مضبوط نہیں کہ انہیں اس نئے بنیادی ذرّے کی دریافت قرار دیا جائے ۔

اگر چہ لیپٹو کوارک کی تازہ شہادتیں اتنی مضبوط ہیں کہ ان کے غلط ہونے کا امکان صرف 0.1 فی صد ہے ۔ اب تک ہم کائنات میں چار بنیادی قوتوں سے واقف ہیں جنہیں ہم نے بالترتیب قوتِ ثقل (گریویٹی)، برقناطیسی قوت (الیکٹرو میگنیٹک فورس)، کمزور نیوکلیائی قوت (وِیک نیوکلیئر فورس) اور مضبوط نیوکلیائی قوت (اسٹرونگ نیوکلیئر فورس) کے نام دے رکھے ہیں۔

قوتِ ثقل کو چھوڑ کر، باقی کی تینوں کائناتی قوتیں آپس میں یکجا کرنے کےلیے ’’اسٹینڈرڈ ماڈل‘‘ کے نام سے ایک نظری (تھیوریٹیکل) فریم ورک تقریباً 50 سال سے موجود ہے جو ان گنت تجربات و مشاہدات سے تصدیق کے بعد ذرّاتی طبیعیات میں ایک مستند نظریئے کا مقام بھی حاصل کرچکا ہے۔البتہ، سائنسدانوں کی اکثریت متفق ہے کہ اسٹینڈرڈ ماڈل اتنا مضبوط نظریہ نہیں ہے ۔اس میں بنیادی نوعیت کی بہت سی خامیاں ہیں، جنہیں دور کرکے اس نظریئے کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

لیپٹوکوارک کی حالیہ شہادتوں کا تعلق ’’بیوٹی کوارک‘‘ نامی ایک بنیادی ذرّے سے ہے جو نہایت اعلی توانائی (ہائی انرجی) کے ماحول میں وجود پذیر ہوتا ہے لیکن ایک سیکنڈ کے تقریباً 700 ارب ویں حصے میں انحطاط پذیر ہو کر الیکٹرون، میوآن اور ان کے ضد ذرّات (اینٹی پارٹیکلز) میں تبدیل ہوجاتا ہے۔اسٹینڈرڈ ماڈل کے مطابق، بیوٹی کوارک کے انحطاط سے تقریباً یکساں تعداد میں الیکٹرون اور میوآن بننے چاہئیں۔تاہم ایل ایچ سی بی میں زبردست توانائی پر پروٹون بوچھاڑوںمیں تصادم سے بننے والے بیوٹی کوارکس کے انحطاط سے الیکٹرونوں کی تعداد، میوآنز سے زیادہ دیکھی گئی۔

یہ شواہد پہلی بار 2014 میں سامنے آئے تھے لیکن تب اسٹینڈرڈ ماڈل سے مطابقت نہ رکھنے والی ان شہادتوں کے غلط ہونے کا امکان ایک فی صدتھا۔ماہر ین کے مطابق ہم موجودہ شہادتوں کو اُمید افزا ضرور کہہ سکتے ہیں لیکن دریافت قرار نہیں دے سکتے۔ماہرین کے نزدیک، بیوٹی کوارک کے انحطاط سے نسبتاً زیادہ تعداد میں الیکٹرون بننے کی وجہ لیپٹوکوارک نامی ایک بنیادی ذرّہ ہے، جس کی پیش گوئی تو بہت پہلے سے موجود ہے لیکن اب تک ہم اسے دریافت نہیں کر پائے ہیں۔

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مزید
ٹیکنالوجی سے مزید