• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’سُنو !آئی آر کے اسائنمینٹ کی ڈیو ڈیٹ پرسوں ہے۔ تم نے کام مکمل کرلیا؟‘‘ کینٹین میں ماہا کو گول گپّے اور چاٹ کھاتےدیکھ کر زویا کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں ۔وہ در اصل محمود حُسین لائبریری سے واپسی پر پوائنٹ کے لیے پی جی کے رُوٹ کا شارٹ کٹ لیتے ہوئے وہاں آئی تھی۔

 ’’اونہوں…‘‘ماہا نے ایک کے بعد ایک گول گپّا منہ میں منتقل کرتے کرتے صوتی اثرات سے جواب دینے کی کوشش کی۔ ’’تمہارا کیا بنے گا ماہا کی بچّی؟ یہ تو بتاؤ کتنا رہ گیا؟ کب کمپلیٹ کرو گی؟‘‘زویا فکرمندی سے بولی اور ہاتھ سے اس کی چاٹ کھانے کی آفر کو رَد کیا۔’’میری پیاری زویا شہزادی! شروع کیا ہوتا تو ختم بھی ہو جاتا۔‘‘

ماہا نے کولڈ ڈرنک کا آخری گھونٹ بھر کے ٹشو سے ہاتھ اور نقاب کے اندر سے منہ صاف کیا اور ہاتھ جھاڑ کر زویا کے ساتھ پوائنٹ کی طرف قدم بڑھادئیے’’ہائیں…؟؟یعنی تم نے ابھی تک کام شروع ہی نہیں کیا؟ پرسوں آخری تاریخ ہے، کیا کرو گی؟‘‘ زویا کوماہا کی فکر ستانے لگی اور اسی فکر میں وہ ماہا سے پیچھے رہ گئی، جب کہ ماہا تیز قدم بڑھاتے آگے نکل گئی۔ 

جب زویا پوائنٹ میں چڑھی تودیکھا کہ ماہا مزے سے دوسری رَو میں ایک نشست سنبھالنے کے بعد دوسری پر بیگ رکھ کر ’’قبضہ‘‘ کر چُکی تھی، اُس نے زویا کو دیکھتے ہی جھٹ بیگ ہٹایا اور اسے جگہ دیتے ہوئے بے نیاز ی سے بولی’’دیکھ لو، مَیں دیر سے پہنچ کر بھی تم سے آگے ہی ہوں‘‘ زویا نے مُسکرا کر اُسے دیکھا۔ یہ حقیقت تھی، وہ ایسی ہی تھی، کسی بھی بات کو سر پر سوار نہ کرنے والی۔ جب کام شروع کرتی، تو بغیر کسی وقفے کے ختم کرکے ہی دم لیتی۔ اور مزے کی بات یہ تھی کہ قسمت بھی ہر بار اُس کا ساتھ دیتی، کیوں؟ یہ سب زویا کی سمجھ سے بالاتر تھا۔

تیزبخار سے پُھنکتے اس نے کمبل سے منہ باہر نکالا’’نوراں!ارے او نوراں! مینڈھی دِھی کتّھے ویں توں؟‘‘(نوراں! میری بیٹی، کہاں ہو تم؟)’’بابا! مَیں روٹی گِھن آساں‘‘(بابا! مَیں روٹی لےکر آرہی ہوں)۔نوراں وارڈ کے آخری سِرے پر لائن میں لگی ہوئی تھی، جہاں ویلفیئر ٹرسٹ کی جانب سے کھانا تقسیم کیا جا رہا تھا اور سب مریضوں کے اٹینڈنٹ لائن میں کھڑے ہو کر کھانا لے رہے تھے۔ 

نوراں کھانا لےکر بابا کے پاس آئی تو اس کے ساتھ ہی وہ بھی تھی، جو ڈاکٹر تھی، نہ نرس۔ مگر ہفتے میں دو، تین دن اس وارڈ میں مریضوں سے ملنے، ان کی عیادت کو آتی اور اپنے ساتھ پھول،پھل،بسکٹس وغیرہ بھی لاتی۔ اس کی باتیں اتنی میٹھی، اتنی مزے دار ہوتیں کہ سارے مریض اس کا انتظار کرتے ۔ بابا نوراں کے ساتھ اُسے اندر آتا دیکھ کر انتہائی خوش ہو گئے۔ ’’او باجی جی! تُسّی آئے ہو؟‘‘’’جی بابا! کیسی طبیعت ہے اب آپ کی؟‘‘

’’ٹھیک جی،بالکل ٹھیک‘‘نوراں نے حیرت سے بابا کو دیکھا، جو ابھی کچھ دیر پہلے درد کی شکایت کرتے ہوئے کمبل میں منہ چُھپائے لیٹے تھے۔ مگر اُس کی مسیحائی میں جانے کیا جادو تھا، جو ڈاکٹر بھی نہ تھی، مگر اس کے آنے سے درد دُور ہو جاتا۔وہ بولتی ہی اتنا میٹھا تھی، اتنی اُمید،یقین کے ساتھ کہ لگتا وہ بس اللہ پاک سے لکھوا کر لائی ہے کہ وہ کہتی ہے کہ سب ٹھیک ہو جائے گا تو ہوجائے گا، درد بھی اُسے دیکھ کر بھاگ جاتا، اس کے یقین کے آگے ٹھہر نہ پاتا۔ 

وہ ابھی بابا سے باتیں کر رہی تھی کہ ڈاکٹر راؤنڈ پر آ گئے ’’السّلامُ علیکم ڈاکٹر!‘‘ اس نے سلام کیا’’وعلیکم السّلام! ماہا کیسی ہیں آپ؟‘‘’’جی جی، میں ٹھیک الحمدُللہ!‘‘وہ مُسکرائی تو نقاب سے جھانکتی اس کی آنکھیں بھی مُسکرا دیں۔’’کیا بات ہے پڑھائی وڑھائی چھوڑ دی ہے کیا، جو روز،روز ہاسپٹل میں سوشل ورک کے لیے چلی آتی ہیں؟‘‘’’نہیں ڈاکٹر! ابھی یونی وَرسٹی سے سیدھی اِدھر آئی ہوں،گھر جاکر اسائنمینٹ بنانے سے پہلے سوچا ،کام کی آسانی کا ٹوٹکا کرتی چلوں‘‘ ماہا نے مزے سے جواب دیا اور اللہ حافظ کہتی چلی گئی۔

گھر پہنچتے ہی اس نے بھوک کے نعرے کے ساتھ عبایا ،گلوز،نقاب اور اسکارف اتار کر کمرے میں رکھ کر دوپٹا درست کیا اور ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھ گئی۔ ماما نے کھانا نکال کر اس کے سامنے رکھتے ہوئے پوچھا’’آج کہاں کا ٹور تھا ،کام آسان کرنے کے ٹوٹکے کے لیے؟‘‘’’آج منگل تھا ناں، آپ کو پتا تو ہے منگل، جمعرات اور ہفتہ اسپتال جاتی ہوں۔‘‘اس نے نوالہ توڑتے ہوئے کہا’’جی ،جی اور پیر،بدھ اور جمعہ کون سا گھر میں گزرتا ہے، وہ بھی تو فلاح و بہبود کے کاموں ہی میں گزر جاتا ہے۔ماہا ایسے کیسے چلے گا؟ کب تک چلے گا؟ مَیں کس کس کو جواب دوں گی کہ بیٹی کو سوشل ورک کا شوق ہے۔‘‘ماما تنگ آ چُکی تھیں۔’’ماما جی! آپ کو کسی کو وضاحتیں دینے کی ضرورت نہیں۔

جب جب ہم پر کوئی مشکل آئی کسی نے ساتھ دیا؟نہیں ناں۔ تو یہ لوگ سوال کرنے کا حق بھی نہیں رکھتے۔ ماما جی! مَیں نے جب جب مشکل دیکھی ،آسانی کو اپنے ہم راہ پایا،آسان لمحوں میں ربّ کو اور ربّ کے بندوں کو وقت دیا تو اس ربّ نے مشکل وقت میں ہمیشہ میراساتھ دیا۔ ماما مَیں نےوقت کو وقت دے کر جب کم وقت میں بھی کوئی کام کیا،تو وقت مجھے پورا پڑ گیا، جب کہ دنیا کہتی ہے کہ ’’وقت نہیں ملتا‘‘اور میرے پاس وقت ہی وقت ہے۔‘‘اس نے ہاتھ صاف کر کے اٹھتے ہوئے کہا۔’’ارے کھانا تو پورا کھاؤ۔‘‘ماما پریشان ہو کر بولیں۔’’آپ کو پتا ہے ناں یونی وَرسٹی جاؤں اور گول گپّے نہ کھاؤں، اب ایسے بھی حالات نہیں۔‘‘ وہ شوخی سے بولی اور کمرے میں چل دی،جہاں نماز کے بعد اسائنمینٹ کے لیے بیٹھنا تھا، تو مکمل کرکے ہی اٹھنا تھا۔ چاہے ،فجر ہی کیوں نہ ہو جائے۔وہ ہمیشہ سے ایسی ہی تھی ماما اور بابا کو تحفے میں ملی ہوئی بہت ہی خاص اوران مول سی ماہا۔ وقت گزرتا گیا اور ماہا نے ماسٹرز کر لیا۔

’’ارے سُنو! کل ماہا کی شادی تھی، تم نہیں آئیں، تم نے اتنا اچھا ایونٹ مِس کر دیا۔کیا بہترین انتظام تھا، مَیں نے ایلیٹ کلاس کی شادیوں میں بھی ایسی رونق نہیں دیکھی،جیسی اس عام سی مِڈل کلاس شادی میں تھی اور ہماری ماہا تو اُف…!! بلا کی حسین لگ رہی تھی، کیا نور تھا اس کے چہرے پر۔ واقعی، ماہا میں کچھ خاص ہے کہ وہ عام سی ہو کر بھی بہت خاص لگتی ہے۔‘‘زویا نے اپنی ایک کلاس فیلو کو کال پر ماہا کی شادی کا احوال بتایا۔ پھر دن، مہینے، سال… وقت گزرتا گیا، ماہا کی شادی ،بچّے ،بچّوں کی تعلیم… مختلف مراحل سے گزر کر زندگی مستقل رُو بہ سفر تھی۔ پہلے پہل وقت کو وقت دینے کا ماہا کا انفرادی مشغلہ اب ایک اجتماعی شکل اختیار کر چُکا تھا، وہ مشہور و معروف موٹیویشنل اسپیکر اور سوشل ورکر بن چُکی تھی اور فیملی لائف کے ساتھ ساتھ ربّ کے بندوں کو وقت سے وقت کشید کرنے کا ہنر سکھاتی تھی۔ مگر طبیعت میں وہی سادگی، اپنائیت کہ ایک بار ملنے والا بار بار ملنے کی فرمائش کرے۔

’’رمضان کی آمد آمد ہے، سب اپنی فرمایشوں کی لِسٹ تیار کر لیجیے۔ یاد رہے، کووڈ کے ساتھ ہمارا دوسرا رمضان ہے۔ یا ہم جیتیں گےیا کووڈ۔مجھے ہمیشہ سے شارٹ کٹ اچھے لگتے ہیں، تو آئیں، لمبی لمبی فرمایشیں چھوڑ کر، اس رمضان ،ربّ سے ربّ ہی کو مانگ لیتے ہیں کہ جب فرمایشیں پوری کرنے والا ہی اپنا ہو جائے گا، تو کیا ہی بات ہے۔ آئیں، یہ دُعا کرتے ہیں کہ اللہ کو ہم سے پیار ہو جائے،وہ ربّ ہم سے راضی ہو جائے۔ تو یقین کریں ،پھر سب ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘ ماہا ایک جذب سے بولتی چلی جا رہی تھی اور مجمعے میں شامل تمام خواتین دل جمعی سے اسے سُن رہی تھیں۔ اللہ نے کیسی برکت دے رکھی تھی اس کے وقت ، اولاد ،مال،رشتوں اور زندگی کے تمام تر لوازمات میں کہ پتاہی نہ چلتا کہ وہ ہر کام، ہر رشتہ بخوبی نبھا رہی تھی، وہ بھی بِنا تھکے، بنا رُکے۔

’’ماہا آپا کا انتقال ہو گیا ہے‘‘’’ہائیں…؟؟ کب؟کیسے؟ابھی تھوڑی دیر پہلے تک تو ٹھیک تھی، تمہیں یقیناً کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔‘‘زویا نے سخت بے یقینی سے کہا۔’’ہاں، ہاں مَیں نے بھی کل شام ہی اُن کی کلاس اٹینڈ کی تھی۔‘‘ ’’مگر میری تو ابھی چند گھنٹے پہلے اس سے ملاقات ہوئی، وہ رمضان سے پہلے مستحقین میں راشن تقسیم کر کے آئی تھی۔ زویا سخت صدمےمیں تھی۔’’اُن کی بیٹی کہہ رہی ہے کہ آج عصر کے بعد وہ اسے حفظِ قرآن کا سبق سنا رہی تھیں ۔ سُناتے ہوئے ہی سانس لینے میں دشواری ہوئی اور یکایک ایک مسکراہٹ کے ساتھ ہی داعیٔ اجل کو لبّیک کہہ گئیں۔ 

اسپتال لےکر گئے تو پتا چلا کہ ان کا انتقال ہو چُکاہے۔‘‘ زویا کو ،جو اس کی سہیلی ہونے کے ساتھ میکے والے گھر کی پڑوسن بھی تھی، ماہا کی موت کا یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ ابھی چند گھنٹے پہلے ہی تو وہ اسے ملی تھی۔ مگر وہ روتے روتے یہی کہہ رہی تھی،’’ماہا! میری سہیلی،اِک عُمر مَیں تمہاری کام یابی کاراز جاننے کے لیےسرگرداں رہی، مگر نہ جان سکی۔ لیکن آج تمہاری شان دار موت نے، تمہاری زندگی کی شان دار کام یابیوں کو عیاں کر دیا کہ تم نے ہمیشہ خلقِ خدا کو وقت دیا۔

تم نے زندگی کے ہر اسائنمینٹ کے لیے آسانی کا ’’ٹوٹکا‘‘ دوسروں کی مدد سے پایا اور آج تمہاری موت کی آسانی کا ٹوٹکابھی یہی ثابت ہواکہ اتنی سہل، پاکیزہ موت، جس کی تمنّا ہر مسلمان کرتا ہے، وہ تمہیں نصیب ہوئی۔ میری دوست آج مَیں تمہاری کام یابی کا ٹوٹکا جان گئی۔‘‘

تازہ ترین