آئی اے رحمٰن اپنے پیچھے ترقی پسند ورثہ چھوڑ گئے
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آئی اے رحمٰن اپنے پیچھے ترقی پسند ورثہ چھوڑ گئے

لاہور (امتیاز عالم) وہ شخص جس نے لوگوں کو اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کا راستہ دکھایا، بدترین حالات میں بھی اپنے ترقی پسند نظریات کے لئے جدوجہد کی وہ خاموشی سے اپنے پیچھے ترقی پسند ورثہ اور سول سوسائٹی میں بھرنے کے لئے اپنے پیچھے بڑا خلا چھوڑ گیا۔ یہی آئی اے رحمن کا مسلمہ دستور اور رواج رہا۔ 

ایک شخص جو پیشہ وارانہ مہارت کا حامل رہا جن کا سیکولرازم، سوشلزم اور جمہوریت سے گہرا تعلق رہا وہ تمام تر مظالم اور امتیازات کے خلاف بلا امتیاز نبرد آزما رہے۔ اپنے اخلاص کی بنیاد پر حامی اور مخالفین سب کی نگاہ میں وہ محترم رہے۔ ابن عبدالرحمن جو کالم نویس کے طور پر آئی اے رحمن کےنام سے معروف رہے وہ 1930ء میں ہریانہ میں ایک تعلیم یافتہ رند بلوچ گھرانے میں جنم لیا۔

 انہوں نے علی گڑھ یونیورسٹی سے گریجویشن اور ایم ایس سی کرنے کے بعد پاکستان ہجرت کی۔ت قسیم پنجاب کے تلخ تجربے کے باوجود انہوں نے اپنے خاندان کو تکلیف اور ایذا میں مبتلا کرنے سے کبھی انتقام نہیں لیا اور نہ کوئی دشمنی ظاہر کی۔ مارکسٹ اور ترقی پسند جمہوری نظریات سے جلاپاکر وہ پاکستان میں انسانی حقوق کے چیمپئن بن گئے۔ انہوں نے اپنے صحافتی کیریئر کا آغاز پاکستان ٹائمز کے فلمی نقاد اور سب ایڈیٹر کی حیثیت سے کیا۔ 

ایڈیٹر فیض احمد فیض کی سرپرستی میں انہوں نے اپنے زیر تربیت عرصے سے بھرپور اکتساب کیاوہ باقاعدگی سے ڈان اور دیگر اخبارات کے لئے کالم لکھتے رہے۔ بعد از تقسیم ہند پروگریسو رائٹرز کی نمائندگی کرتے ہوئے رحمن صاحب نے بعد از نوآبادیاتی دور میں نظریات کی جنگ میں فیصلہ کن کردارادا کیا۔ ان کی نسل کے لوگ فوجی آمروں کے خلاف صف آراء رہے۔

پہلے فوجی آمر ایوب خان کے خلاف ان کی جدوجہد بڑی نمایں رہی۔ وہ مغربی پاکستان سے ان چندافرادم یںشامل تھے جو مشرقی پاکستان میںجنرل یحییٰ کے فوجی آپریشن کےخلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ پی ایف یو جے میںان کےساتھی مشرقی پاکستان میں قتل ہوئے۔ 

جنرل ضیاء الحق کے دور میںانہیں صحافیوں کے حقوق اور آزادی صحافت کے لئے جدوجہد کی پاداش میںجیل میںڈلا دیاگیا۔ وہ صحافیوںاور سول سوسائٹی کارکنوں کے لئے ایک نمونہ رہے۔ آئی اے رحمن ہی نے پاکستان پیپلزفورم برائے امن و جمہوریت اور سائوتھ ایشیا ہیومن رائٹس کمیشن تشکیل دیا۔ انہوں نے فرنٹیئر پوسٹ کے ایڈیٹر عزیز صدیقی اور عاصمہ جہانگیر کے ساتھ مل کر ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان تشکیل دیا۔ 

وہ کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے کارڈ ہولڈر رہے۔ وہ ایک وسیع النظر شخص کی طرح دوسروں کا نقطہ نظر سننے کے لئے ہمیشہ تیار رہتے۔ جس بات نے انہیں ہر دلعزیز بنایا وہ ان کا مشفقانہ رویہ اور برتائو تھا۔ ان کی ذاتی رنجشیں تھیں اور نہ ہی کسی سے عناد۔ وہ جادوئی کشش رکھتے تھے ہر کوئی ان کا احترام کرتا تھا۔

اہم خبریں سے مزید