بیمار بچے کی مولانا طارق جمیل سے ملاقات
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

معروف عالم دین مولانا طارق جمیل کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ اُن کے چاہنے والے لاکھوں افراد نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔ مولانا طارق جمیل جہاں جاتے ہیں، اُن کے بیانات سننے کیلئے لوگوں کا جم غفیر جمع ہوجاتا ہے۔ وہ اُمت مسلمہ میں اختلاف اور فرقہ واریت کے سخت مخالف ہیں اور اپنے اعلیٰ اوصاف اور مثبت انداز بیان کے باعث ہر مسلک میں مقبول ہیں۔ مولانا طارق جمیل کے بیانات منقسم اُمت مسلمہ کو نہ صرف راہ ہدایت پر لانے بلکہ اُنہیں متحد کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ اُنہیں عربی زبان پر بھی عبور حاصل ہے اور عربی میں اُن کے بیانات نہایت فصاحت و بلاغت سے بھرپور ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ مولانا طارق جمیل کے چاہنے والوں کا وسیع حلقہ عرب ممالک بالخصوص مراکش میں بھی موجود ہے اور وہ ماضی میں کئی بار مراکش کا دورہ کرچکے ہیں۔ حال ہی میں صدر پاکستان نے مولانا طارق جمیل کی خدمات کے اعتراف میں اُنہیں ’’صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی‘‘ سے نوازا ہے۔

مولانا طارق جمیل کے مداحوں کو گزشتہ دنوں یہ سن کر انتہائی مسرت ہوئی کہ انہوں نے کاروباری دنیا میں قدم رکھتے ہوئے اپنے نام سے کپڑوں کا برانڈ MTJ لانچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مولانا طارق جمیل کے اِس فیصلے پر جہاں بہت سے لوگوں نے نیک تمنائوں کا اظہار کیا، وہاں اِس بحث نے بھی جنم لیا کہ کسی مذہبی اسکالر کا کاروبار کرنا مناسب ہے یا نہیں اور مولانا کی کاروباری مصروفیات کی وجہ سے کہیں دینی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔ اِنہی خدشات کی بنا پر مولانا طارق جمیل کو یہ وضاحت کرنا پڑی کہ ’’وہ اپنے مدارس جس کی درجنوں شاخیں مختلف شہروں میں قائم ہیں، کو چلانے اور غرباو مساکین کی امداد کیلئے کافی عرصے سے کاروبار کرنے کا سوچ رہے تھے، پہلے یہ سلسلہ زکوٰۃ خیرات اور لوگوں کے تعاون سے جاری تھا لیکن جب کورونا کے باعث لوگوں کے کاروبار ٹھپ ہوگئے اور فنڈنگ متاثر ہوئی تو میں نے فیصلہ کیا کہ اب کسی سے چندہ نہیں مانگوں گا اور اپنے کاروبار سے ہونے والی آمدنی مدارس اور غرباء کی امداد پر لگائی جائے گی اور اس طرح میں نے کپڑے کا کاروبار کرنے کا فیصلہ کیا۔‘‘

گزشتہ دنوں مولانا طارق جمیل اپنے برانڈ کی لانچنگ کیلئے کراچی تشریف لائے جہاں ایک نہایت پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ یہ تقریب اس لحاظ سے منفرد تھی جس میں ایک طرف مولانا طارق جمیل کے چاہنے والے بڑی تعداد میں موجود تھے تو دوسری طرف بزنس کمیونٹی اور شوبز کی سرکردہ شخصیات بھی شریک تھیں۔ اس تقریب میں، میں بھی مدعو تھا۔ قومی ترانے کے بعد تقریب کا باقاعدہ آغاز معروف گلوکار راحت فتح علی خان اور شفقت امانت علی نے حمد باری تعالیٰ پڑھ کر کیا جس نے ایک سماں باندھ دیا۔ اس موقع پر مولانا طارق جمیل نے اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ میں نے اپنی ذات کیلئے نہیں بلکہ اپنے مدارس کو پیروں پر کھڑا کرنے کیلئے کاروبار کرنے کا فیصلہ کیا۔ تقریب کے دوران مولانا طارق جمیل سے ملاقات میں، میں نے اُنہیں اپنے فلاحی ادارے میک اے وش پاکستان کے بارے میں بتایا کہ میک اے وش فائونڈیشن ایک عالمی ادارہ ہے جو دنیا کے55 ممالک میں پھیلا ہوا ہے اور یہ ادارہ جان لیوا مرض میں مبتلا بچوں کی آخری خواہش کی تکمیل کرتا ہے۔ اپنے قیام سے لے کر اب تک یہ ادارہ 13 ہزار سے زائد لاعلاج بچوں کی خواہشات کی تکمیل کرچکا ہے جن میں سے بڑی تعداد ہم میں نہیں لیکن ہمیں خوشی ہے کہ وہ بچے کوئی حسرت یا خواب لئے اِس دنیا سے رخصت نہیں ہوئے۔ اس موقع پر میں نے مولانا طارق جمیل کو خون کے سرطان میں مبتلا میک اے وش کے 17 سالہ بچے شاہ زیب انور کی خواہش سے بھی آگاہ کیا جو اُن سے ملاقات کا شدت سے منتظر تھا۔ مولانا نے طبیعت ناساز ہونے کے باوجود اگلے ہی روز بچے سے ملاقات کا وقت طے کیا۔ وقت مقررہ پر جب میں بچے کا ہاتھ تھامے مولانا طارق جمیل سے ملاقات کیلئے پہنچا تو بچے کی خوشی قابل دید تھی۔ اس موقع پر مولانا طارق جمیل نے بچے کو گلے لگاکر اُس کی صحت کے بارے میں دریافت کیا اور صحت یابی کیلئے خصوصی دعا کی۔ شاہ زیب نے مولانا طارق جمیل کو بتایا کہ میں اور میری پوری فیملی آپ کی شخصیت سے بہت متاثر ہے اور ہم ٹی وی پر آپ کے بیانات شوق سے سنتے ہیں، مجھے یقین نہیں آرہا کہ آپ میرے سامنے بیٹھے ہیں اور یہ خواب سا لگ رہا ہے۔ دوران ملاقات میں نے مولانا طارق جمیل کو اپنی کتاب ’’آج کی دنیا‘‘ (حصہ دوم) بھی پیش کی۔ اس موقع پر مولانا طارق جمیل میک اے وش کی منفرد سماجی خدمات سے بہت متاثر ہوئے اور ادارے کو اپنے تعاون کا یقین دلایا۔

تجارت انبیاء کی سنت ہے اور کسی مذہبی شخصیت کے کاروبار کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔ ایسے میں جب شوبز کی سرکردہ شخصیات آئے روز اپنے برانڈز لانچ کررہی ہیں جبکہ معروف گلوکار جنید جمشید مرحوم جو گلوکاری چھوڑ کر اسلام کی طرف راغب ہوگئے تھے، کا کپڑوں کا برانڈ بھی کامیابی سے جاری ہے، مولانا طارق جمیل کا اپنا برانڈ لانچ کرنا ایک مثبت قدم ہے اور اُن کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے یہ بات وثوق سے کی جاسکتی ہے کہ یہ برانڈ بھی کامیابی سے ہمکنار ہوگا۔

رمضان المبارک کی آمد آمد ہے۔ قارئین اور مخیر حضرات سے درخواست ہے کہ وہ ہر سال کی طرح اِس سال بھی رمضان میں اپنی زکوۃ اور عطیات میں میک اے وش کو یاد رکھیں اور اپنے عطیات میک اے وش فائونڈیشن پاکستان کے یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ کلفٹن برانچ کے اکائونٹ نمبر 0949-000265407576 یا میک اے وش پاکستان کے ایڈریس 208-A کلفٹن سینٹر، بلاک 5 کلفٹن کراچی پر بھیجیں۔ آپ کے عطیات کسی غریب اور جان لیوا مرض میں مبتلا بچے کے آخری دنوں میں چہرے پر مسکراہٹ کا باعث بن سکتے ہیں۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

تازہ ترین