افغانستان سے فوجی انخلا!
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دوحہ امن معاہدے کے مطابق افغانستان سے غیرملکی افواج کے بروقت انخلا پر جوبائیڈن انتظامیہ کم و بیش تین ماہ مخمصے کا شکار رہنے کے بعد بالآخر اس نتیجے پر پہنچ گئی ہے کہ امریکہ اپنی طویل ترین جنگ کا اختتام کرتے ہوئے نائن الیون کے 20سال مکمل ہونے سے پہلے افواج کی واپسی کا عمل مکمل کرلے گا۔ امریکی ذرائع کے مطابق افغانستان سے نیٹو فوج کے انخلا کا یہ کام مئی میں شروع ہوگا اگر کوئی التوا ہوا تو اس کی وجہ صرف سفری ساز و سامان کی منتقلی ہوگی۔ اس ضمن میں یہ تحفظات بھی سامنے آئے ہیں کہ اگر افواج کی واپسی کے دوران ان پر حملہ کیا گیا تو امریکہ بھرپور جوابی کارروائی کرے گا۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ خفیہ اداروں کی رپورٹ پر صدر جوبائیڈن اور ان کے عسکری رفقائے کار نے افغانستان میں نیٹو فوج کے قیام میں توسیع کا عندیہ دیا تھا جس پر پاکستان نے حسبِ سابق پائیدار امن کے لئے فوجی حل کی نفی کرتے ہوئے دوحہ امن معاہدے پر کاربند رہنے پر زور دیا تھا۔ اب امریکی حلقوں نے بھی اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ اگر نیٹو فوج کو واپس نہ بلایا گیا تو آئندہ شاید ان کی واپسی ممکن نہ ہو۔ ذرائع کے مطابق صدر جو بائیڈن آج کل میں فوج کی واپسی کے پروگرام کا اعلان کرنے والے ہیں جس کے مطابق محدود تعداد میں فوجیوں کو صرف امریکی سفارتی تنصیبات کی حفاظت کے لئے رکھا جائے گا۔ فوجیوں کی واپسی کے دوران چار ماہ کا عرصہ انتہائی حساس نوعیت کا حامل ہے جس کے لئے افغان فریقین پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر پائیدار امن و سکون، عوام کی ترقی و خوشحالی کی خاطر کسی بھی قسم کی کشیدگی پیدا نہ ہونے دیں اور تمام امن عمل افہام و تفہیم اور خوش اسلوبی سے مکمل کریں۔ کیونکہ یہ وقت عوام کو چالیس سالہ طویل قربانیوں کے بعد میسر آیا ہے۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں0092300464799

تازہ ترین