شوکت ترین نے بنیادی بڑے فیصلے نہیں کئے تو ناکام ہوجائینگے، شبر زیدی
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شوکت ترین نے بنیادی بڑے فیصلے نہیں کئے تو ناکام ہوجائینگے، شبر زیدی


کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیوکے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“میں گفتگو کرتے ہوئے سابق چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کہا ہے کہ شوکت ترین نے بنیادی بڑے فیصلے نہیں کئے تو ناکام ہوجائینگے، وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ سندھ حکومت نے کبھی بھی بنڈل آئی لینڈز کی ملکیت وفاقی حکومت کو منتقل نہیں کی۔

میزبان شاہزیب خانزادہ نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ نئے وزیرخزانہ شوکت ترین پندرہ دن پہلے ہمارے پروگرام میں تحریک انصاف کی معاشی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرچکے ہیں، تحریک انصاف کو معیشت کا بیڑہ غرق کرنے کا ذمہ دار قرار دے چکے ہیں۔

سابق چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کہا کہ آئی ایم ایف کا ریونیو کا ٹارگٹ حاصل کرنا مشکل ٹاسک ہے، طویل مدت کی منصوبہ بندی کیلئے ابھی سے تیاری کرنا ہوگی ،قومی اسمبلی اور سینیٹ کے 500ارکان میں سے کوئی بھی شخص ایسا نہیں جو وزارت خزانہ چلاسکے۔

1947ء سے 2021ء تک کوئی منتخب نمائندہ وزارت خزانہ میں کامیاب نہیں ہوا، ترقی پذیر ممالک خاص طور پر پاکستان جیسے ملکوں میں پارلیمانی نظام حکومت ناکام ہوچکا ہے، ٹیکنوکریٹس سے حکومت چلانی ہے تو پارلیمانی نظام ختم کر کے صدارتی نظام لایا جائے۔ 

شبر زیدی کا کہنا تھا کہ معاشی ٹیم کی کامیابی کیلئے ضروری ہے کہ پی ٹی آئی شوکت ترین کو کام کرنے دے ان کی راہ میں رکاوٹیں نہ ڈالے، تحریک انصاف پہلے فیصلہ کرے کہ معیشت ٹیکنوکریٹس کے ہاتھ میں دینا ہے یا خود چلانی ہے۔

شوکت ترین نے بنیادی بڑے فیصلے نہیں کیے تو ناکام ہوجائیں گے، شوکت ترین کو دکانداروں کی ڈاکومینٹیشن پر ہاتھ ڈالنا پڑے گا، بجلی کی سبسڈی سے متعلق آئی ایم ایف سے صاف بات کرنا ہوگی، شوکت ترین یاد رکھیں پاور سیکٹر کی نجکاری نہیں ہوگی اس پر وقت ضائع نہ کریں۔ 

شبر زیدی نے کہا کہ وزیراعظم کوئی جن نہیں انسان ہی ہوتا ہے، اگر کابینہ وزیراعظم سے تعاون نہیں کرتی تو معیشت کیسے چلائی جاسکے گی۔

عوام کیوں نہیں سمجھتی کہ کچھ وزارتیں ٹیکنوکریٹس چلائیں گے، میں نے دکانوں سے ٹیکس لینے کا کہا مگر حکومت نے نہیں لیا، میں نے بینکوں سے تفصیلات دینے کو کہا مگر نہیں لی گئیں، وزیراعظم عمران خان ان اقدامات میں میرے ساتھ تھے، عوام کے ووٹوں سے آنے والے دکانیں بند ہونے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ 

شبر زیدی کا کہنا تھا کہ کلیکشن یا کریکشن دونوں پاکستان میں ساتھ نہیں چل سکتی ہیں، پاکستانی قوم سے درخواست ہے کریکشن ہونے دیں کلیکشن کو ہم سنبھال لیں گے، شوکت ترین اور حفیظ شیخ میں یہ فرق ہے کہ کوئی رکاوٹ آئی تو شوکت ترین خاموشی سے وزیراعظم سے نہیں کہیں گے بلکہ چھوڑ کر چلے جائیں گے، شوکت ترین کو جگہ نہیں دی گئی تو کبھی زیادہ دیر نہیں رکیں گے۔ 

وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ سندھ حکومت نے کبھی بھی بنڈل آئی لینڈز کی ملکیت وفاقی حکومت کو منتقل نہیں کی، ہمارا واضح موقف ہے کہ بنڈل آئی لینڈز سندھ کی ملکیت ہیں اور رہیں گے، ہم اب وفاقی حکومت کی کسی بات پر بھروسہ نہیں کرسکتے، بنڈل آئی لینڈز پر ترقیاتی کام ہونے چاہئیں جو سندھ حکومت کی ملکیت ہوگی۔

مقامی آبادی، ماہی گیروں اور ماحولیاتی اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے ترقیاتی پروگرام بنانا ہوگا، وفاقی حکومت نے یکطرفہ طور پر بنڈل آئی لینڈز سے متعلق آرڈیننس جاری کیا، حکومت بنڈل آئی لینڈز کی ملکیت وفاق کی طرف منتقل کرنا چاہتی ہے۔

اہم خبریں سے مزید