قدیم درخت کا عجیب نام ’’روڈھے شاہ مائی بوڑھ‘‘
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قدیم درخت کا عجیب نام ’’روڈھے شاہ مائی بوڑھ‘‘

رافیعہ قیصر سعیدی

پیارے بچو، ہم آپ کو دنیا کے قدیم اور عجیب و غریب درختوں کے بارے میں بتاتے رہتے ہیں۔ آج ہم پاکستان کے ایک ایسے درخت کے بارے میں بتارہے ہیں جو تقریباً چھ سو سال پرانا ہے۔اس نے ساڑھے تین ایکڑ سے زائد رقبہ گھیرا ہوا ہے۔ پاکستان ہی نہیں بلکہ ایشیا کا یہ قدیم ترین درخت ،لاہور سے 180 کلومیٹر دور سرگودھا کی تحصیل کوٹ مومن سے 21کلومیٹر کے فاصلے پر گاؤں ’’مڈ رانجھا‘‘ میں واقع ہے ۔

اس درخت کے بارے میں مختلف روایتیں مشہور ہیں۔ گاؤں کے بزرگوں کے مطابق اسے کئی صدی قبل ایک صوفی بزرگ، مرتضیٰ شاہ نے اپنے شاگرد ملنگ بابا روڈھے شاہ کے ساتھ لگایا تھا۔انتقال کے وقت انہوں نے اسے اپنے شاگرد کے نام سے منسوب کردیا جس کے بعد سے یہ ’’ 'روڈھے شاہ کی مائی بوڑھ‘‘کے نام سے معروف ہے۔

اس کی ایک ہزار شاخیں اور ہزاروں کی تعداد میں جڑیں ہیں۔ برگد کے اس درخت کو منفرد بنانے والی اس کی جڑیں ہیں، جو درخت کی بالائی شاخوں سے پھوٹتی ہیں اور لٹکتی ہوئی پیڑکے نچلے حصے کی جانب زمین کو جاتی ہیں۔ زمین سے ملتے ہی یہ جڑیں تناور تنوں کی شکل اختیار کر لیتی ہیں، اورزمین کے طول و عرض پر پھیل کر درخت کو عجیب اور منفرد ہیئت کا بنادیتی ہیں۔

اس کےنزدیک پہنچ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم کسی مافوق الفطرت ماحول میں پہنچ گئے ہیں جس میں بے شمار بلند قامت، عفریت نما جانور سر اٹھائے ہمیںڈرانے اور خوفزدہ کرنے کے لیے کھڑے ہیں۔ اس طویل و عریض درخت کے ایک حصے میں مقامی لوگ لو کے تھپیڑوں سے بچنے کے لیے اس کی ٹھنڈی چھاؤں میں آرام کرتے ہیں۔

دوسرے حصے میں قبرستان ہے جس میں مرتضیٰ شاہ اور روڈھے شاہ کا مزار اور دیگر قبریں ہیں ۔ سرگودھاکی سیر کے لیے آنے والے افراد مڈھ رانجھا گاؤں میں یہ درخت دیکھنے کے لیے ضرور آتے ہیں۔ہندو اور بدھ مت کے پیرو کار یہاں اپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے آتے ہیں۔درخت کے تنے اور شاخوں پریہاں سیر کے لیے آنے والےہزاروں لوگوں کے نام کھدے ہوئے ہیں۔

علاقے کےمکینوں کا کہنا ہے کہ لوگ اس درخت کو کاٹنے سے ڈرتے ہیں۔ 'جب بھی کسی نے اس کی کوئی شاخ کاٹی ہے، اسے سخت نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کسی کی کمر ٹوٹ گئی ، کوئی دنیا سے رخصت ہوگیاجس کی وجہ سے یہ دور دور تک پھیل گیا ہے۔ درخت جس طرف بھی بڑھتا جارہا ہے، لوگ وہ علاقہ چھوڑ دیتے ہیں، لیکن کوئی اسے کاٹتا نہیں۔لوگوں کا عقیدہ ہےکہ یہ ساری زمین درخت کی ملکیت ہے۔

ایک بار ایک شخص کے گھر کی تعمیر کے دوران درخت کی ایک شاخ رکاوٹ بن رہی تھی۔ لوگوں کے منع کرنے کے باوجود مالک مکان درخت پر چڑھا اوروہ شاخ کاٹنے کی کوشش کی۔ شاخ کاٹتے ہوئے وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکا اور درخت سے گرا جس سے اس کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی اور اس نے وہیں دم توڑ دیا۔ 

انہی توہمات کی وجہ سے یہ درخت ٹمبراور لینڈ مافیا سے محفوظ ہے ورنہ کبھی کا قصہ پارینہ بن چکا ہوتا۔ برگد کے درخت کے گردونواح کے دیہی علاقے میں سیکڑوں افراد رہائش پذیر ہیں جب کہ اس کی شاخیں ہزاروں کی تعداد میںمختلف النوع پرندوں کا مسکن ہیں۔