staging
 
’’انسانی المیہ‘‘ سندھ میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

’’انسانی المیہ‘‘ سندھ میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات

زندگی خدا کی طرف سے عطا کردہ ایک قیمتی امانت ہے، جس کے تحفظ کی کوشش ہر انسان پر لازم و ضروری ہے۔ تاہم گزشتہ چند سالوں میں سندھ میں خودکشی کے واقعات میں تشویش ناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ خودکشی دراصل کمزورومایوس لوگوں کے لیے زندگی کے مسائل و مشکلات، آزمائشوں اور ذمے داریوں سے راہ فرار اختیار کرنے کا ایک غیر اخلاقی، غیر قانونی اور غیر اسلامی طریقہ ہے، جب کہ اس کے باوجود سندھ میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان انسانی المیے کو جنم دے رہا ہے۔ 

اس بارے میں چیئرمین سندھ مینٹل ہیلتھ اتھارٹی، سینیٹر کریم خواجہ نے روزنامہ جنگ کے نمائندے اعجاز احمد زئی کو بتایا کہ سندھ مینٹل ہیلتھ اتھارٹی کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق سندھ میں گزشتہ پانچ سال کے دوران 767 افراد نے خودکشی کی جس میں ضلع تھرپارکر سب سے زیادہ 79 خودکشیوں کے واقعات کے ساتھ پہلے، جبکہ ضلع بدین 77 خودکشیوں کے واقعات کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔

اعدادوشمار کے مطابق سندھ میں گزشتہ پانچ سالوں میں 39.24 فیصد شرح کی مناسبت سے 301 خواتین جبکہ 60.23فیصد شرح کی مناسبت سے 462 مردوں نے موت کو گلے لگایا۔خودکشی کیلئے زیادہ تر گلے میں پھندا، زہر خورانی،کنویں میں چھلانگ لگانا اور خود کو پستول سے گولی مارنے جیسے طریقہ کار کو اپنایا گیا۔

چنان چہ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے اعدادوشمار کے مطابق دنیا میں ہر سال دس لاکھ انسان خودکشی کرتے ہیں،خودکشی کی یہ شرح ایک لاکھ افراد میں 16 فی صد بنتی ہے ، اس حساب سے دنیا میں ہر 40 سیکنڈز بعد ایک شخص خودکشی کرتا ہے ، دنیا کی کل اموات میں خودکشی کے باعث ہونے والی اموات کی شرح ایک عشاریہ آٹھ فی صد ہے، اور اس شرح میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ 

صرف بھارت اور چین میں پوری دنیا کی خودکشیوں کی 30 فی صد اموات واقع ہورہی ہیں جوکہ بڑی ہولناک شرح ہے۔سینیٹر کریم خواجہ نے بتایا کہ سندھ مینٹل ہیلتھ اتھارٹی کی جانب سے خودکشی کے واقعات کی روک تھام کے متعلق ڈاکٹرز،نرسز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کو تربیت دی جارہی ہے جبکہ تھرپارکر میں مختلف اداروں کے تعاون سے پروجیکٹ شروع کیا گیا ہے جس میں لیڈی ہیلتھ ورکرز تھرپارکر کے ہر گاؤں و دیہات میں جاکر متاثرہ مریض کو آگاہی فراہم کریں گی۔ 

سینیٹر کریم خواجہ کا کہنا تھا کہ اگر صرف ذہنی دباؤ یعنی ڈیپریشن پر قابو پا لیا جائے تو خودکشی کے واقعات میں 80 سے 90 فیصد نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ ایم پی اے تنزیلہ قمبرانی نے خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نمائندہ جنگ کو بتایا کہ خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیچھے عدم برداشت، مایوسی، غصہ اور ذہنی دباؤ جیسے عوامل کارفرما ہیں جبکہ اکثر خودکشی کے واقعات میں قتل کے واقعات کو خودکشی کا رنگ دے دیا جاتا ہے۔ 

اس لیے اگر خودکشی کے روزبروز بڑھتے ہوئے واقعات کی منصفانہ تفتیش کی جائے تو اس سے بھی ان واقعات کی روک تھام میں مدد مل سکتی ہے۔ مختصر یہ کہ زندگی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت اور ہمارا پورا وجوداسی کی امانت ہے اورممکنہ حد تک اس کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری اور اسلامی، فطری، اخلاقی اور انسانی فریضہ ہے ،فقہی نقطۂ نظر سے بھی دیکھاجائے تو انسانی جان ربِ کریم کی عطا کی ہوئی ایک ایسی امانت ہے جس کاتحفظ بہر صورت لازم اورضروری ہے۔

مصائب و مشکلات کی اندھیریاں ہوں یا مجبوریوں اور ناامیدیوں کی تاریکیاں، اس عظیم امانت الٰہی کو خودکشی کے ذریعہ لمحوں میں ضائع کر دینا نہ تو اسلام میں جائز ہے ، نہ انسانیت کی نظر میں مستحسن ہے۔ دوسری جانب سیاسی، سماجی، معاشرتی اور حکومتی سطح پر آگاہی مہم کے ذریعے بھی خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی روک تھام میں واضح مدد مل سکتی ہے۔

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید