چوتھا وزیر خزانہ
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

معیشت سمیت ہر میدان میں حکومت کی کامیابیوں کے بلند باگ دعووں کے باوجود وفاقی کابینہ میں ایک بار پھر بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ خصوصاً محض اٹھارہ دن بعد تیسرے وزیر خزانہ کی چھٹی اور چوتھے کی تقرری ظاہر کرتی ہے کہ معاملات ابھی تک حکومت کے قابو میں نہیں آسکے ہیں جبکہ اس کے اقتدار کی آئینی مدت ختم ہونے میں اب صرف دوسال باقی ہیں۔ جمعے کو جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق محمد حماد اظہر کی جگہ شوکت ترین وزیر خزانہ ہوں گے اور وزارت اطلاعات شبلی فراز کے بجائے فواد چوہدری دوبارہ سنبھالیں گے جبکہ حماد اظہر اب وفاقی وزیر برائے توانائی اور شبلی فراز سائنس و ٹیکنالوجی کے وزیر ہوں گے۔ مخدوم خسروبختیار وفاقی وزیر صنعت و پیداوار اور عمر ایوب خان وفاقی وزیربرائے اقتصادی امور مقرر کیے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ چھ مہینے میں شوکت ترین کو قومی اسمبلی یا سینیٹ کا رکن بننا ہوگا کیوں کہ وزیراعظم اپنے صوابدیدی اختیارات کے تحت کسی بھی شخص کو صرف چھ ماہ کے لیے ہی وزیر مقرر کرسکتے ہیں۔ وفاقی کابینہ میں آئے دن تبدیلیوں کی یہ صورت حال تحریک انصاف کے نقادوں ہی کو حکومت کی اہلیت کے حوالے سے نکتہ چینی کا موقع فراہم نہیں کرتی بلکہ اس سے دلی لگاؤ اور ہمدردی رکھنے والوں کے لیے بھی پریشان کن ہے ۔ انتخابات سے پہلے تحریک انصاف کا دعویٰ تھا کہ دوسری سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں اس کے پاس تعلیم، تجربے اور اہلیت کے اعتبار سے کہیں زیادہ بہتر افراد کا وسیع نیٹ ورک موجود ہے۔ موجودہ حکمراں جماعت کے قائد ٹیم سازی میں اپنی مہارت کا کثرت سے ذکر کیا کرتے تھے۔ سابقہ حکومتوں کی معاشی حکمت عملی کو مسترد کرتے ہوئے ایسے اقدامات کی یقین دہانیاں کرائی جاتی تھیں جو برسوں میں نہیں دنوں اور ہفتوں میں ملک کی کایا پلٹ دیں گے۔اور ماضی کا کیا ذکر، حفیظ شیخ صاحب کے ہاتھوںمعیشت کے میدان میں کامیابیوں کے دعوے اُن کی رخصتی سے ایک دن پہلے تک جاری رہے۔ حماد اظہر کی چند روزہ وزارت بھی دادو تحسین سے خالی نہیں رہی جبکہ شوکت ترین کی شکل میں جمعے کوچوتھے وزیر خزانہ کی تقرری سے چند روز پہلے ہی گورنر اسٹیٹ بینک کا یہ بیان منظر عام پر آچکا ہے کہ معیشت کی گاڑی بالکل درست سمت میں رواں دواں ہے۔ شواہد سے واضح ہے کہ گورنر اسٹیٹ بینک نے جن کے اختیارات میںان کے ادارے کی مکمل خود مختاری کے لیے زیر تکمیل قانون سازی کے بعد بے پناہ اضافہ متوقع ہے، معاشی سمت اور کارکردگی کے پوری طرح اطمینان بخش ہونے کی یقین دہانی جیو ٹی وی کے ایک پروگرام میں حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شوکت ترین کی سخت نکتہ چینی کے جواب میں جیو ہی کے ایک دوسرے پروگرام میں کرائی تھی۔یہ دونوں پروگرام رواں ماہ کے پہلے ہفتے میں دو دن کے وقفے سے ہوئے ۔ شوکت ترین کا کہنا تھا ’’معیشت کی سمت کا پتہ نہیں، ہم نے ڈھائی سال میں اپنا گھر ٹھیک نہیں کیا، آئی ایم ایف سے مذاکرات میں غلطی کی گئی، صرف ٹیرف بڑھانے سے کرپشن میں اضافہ ہوتا ہے، ایکسچینج ریٹ اور شرح سود بڑھانے سے معیشت کا بیڑہ غرق ہوا۔‘‘ دیکھنا یہ ہے کہ اب معاشی حکمت کاری کے کلیدی مناصب پر فائز یہ دونوں اقتصادی ماہرین ساتھ ساتھ کیسے چلیں گے۔ ایف بی آر کے سابق سربراہ شبر زیدی نے بالکل درست سوال اٹھایا ہے کہ پانچ سو ارکان پارلیمنٹ میں اگر ایک بھی وزارت خزانہ چلانے کا اہل نہیں اور اس کے لیے باہر ہی سے لوگ لانا پڑتے ہیں تو پھر یہ نظام کی ناکامی ہے۔ تاہم نظام کو مورد الزام ٹھہرانے کے بجائے اس سیاسی جماعت کو اس صورت حال کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے جو دو عشروں کی جدوجہد میں حکومت چلانے کے لیے ہر شعبہ زندگی سے متعلق بہترین رجال کار پر مشتمل ٹیم کی تیاری اور دستیابی کا یقین قوم کو دلایا کرتی تھی۔

تازہ ترین