• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حکومت جائز مطالبات پورے کرے، مفتی تقی عثمانی، مفتی منیب الرحمٰن

اسلام آ باد /لاہور( نمائندگان جنگ)مولانا مفتی تقی عثمانی، مولانا محمد حنیف جالندھری، ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر ، مفتی منیب الرحمن، پروفیسر ساجد میر، علامہ سید ریاض حسین نجفی، صاحبزادہ عبدالمصطفیٰ ہزاروی، جے یو آئی(ف) کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الغفور حیدری، مجلس احرا راسلام پاکستان کے امیر مرکزیہ سید محمد کفیل بخاری،عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنماؤںمولانا عزیز الرحمن ثانی، سیکرٹری جنرل لاہور مولانا علیم الدین شاکر، سرپرست قاری جمیل الرحمن اختر، نائب امیر پیرمیاں محمدرضوان نفیس، مبلغ لاہور مولانا عبدالنعیم ، جے یو آئی کے مولانا محمداشرف گجراور مولانا خالد محمود، مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا خواجہ عزیز احمد، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اعجاز مصطفی، مولانا قاضی احسان احمد، مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے قائدین علامہ ابتسام الٰہی ظہیر‘ چوہدری کاشف نواز رندھاوا‘ ڈاکٹر زعیم الدین عابد لکھوی‘ ڈاکٹر ریاض الرحمن یزدانی‘ حافظ بابر فاروق رحیمی‘ حافظ معتصم الٰہی ظہیر اور محمد علی یزدانی و دیگر علما و مشائخ نے کہا ہے کہ حکومت جائز مطالبات پورے کرے، قوم ناموس رسالت پرمتحد تھی، متحد ہے اور متحد رہے گی

تفصیلات کے مطابق مولانامفتی محمد تقی عثمانی کی دعوت پر جامعہ دار العلوم کراچی میں ممتاز علماء کا اجلاس ہوا،جس کے بعد اتفاق رائے سے جاری بیان میں کہاگیاہے کہ لاہور میں تحفظِ ناموسِ رسالت اور تحفظ ختمِ نبوت کے کارکنوں پر فائرنگ قابل مذمت ہے، اب بھی اگر حکومت ملک کو بدامنی اوربے چینی سے بچانا چاہتی ہے تو فوراًمذاکرات شروع کرے اور جائز مطالبات کو پورا کرے۔

حکومت کو بذاتِ خود گستاخانِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف عملی اقدام کرنا چاہیے تھا لیکن اگر تحریک لبیک کے متوجہ کرنے پر ایک معاہدے پر خود وزراء نے دستخط کیےتو اس معاہدے کی پاسداری ہی میں ایسے اقدامات ضروری تھے جو مسلمان کی غیرتِ اسلامی کا کم از کم تقاضا ہیںلیکن افسوس کہ اس معاہدے کی پاسداری کی بجائے تحریک کے سربراہ کو گرفتار کر کے تناؤ پیدا کیاگیا۔

مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے قائدین اور تحریک لبیک یارسول ؐ اللہ کے سربراہ اور تحریک صرا ط مستقیم کے بانی نے الگ الگ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔

اہم خبریں سے مزید