غیر حاضر اساتذہ کو میرٹ کے برخلاف ترقی دینے کا انکشاف
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

غیر حاضر اساتذہ کو میرٹ کے برخلاف ترقی دینے کا انکشاف

کراچی(سید محمد عسکری) محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ میں خلاف ضابطہ اور میرٹ کے برخلاف غیر حاضر اساتذہ کو ترقی دیکر اہم عہدوں پر تعیناتی کا انکشاف ہوا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ طویل عرصے تک سرکاری ڈیوٹی سے غیرحاضر رہنے والے دو ایسوسی ایٹ پروفیسرز کو ڈائریکٹوریٹ جنرل کالجز سندھ اور ریجنل ڈائریکٹوریٹ کالجز کراچی میں ڈائریکٹر انسپیکشن کی اسامیوں پر تعیّنات کردیا گیا ہے جن میں فزکس کے ٹیچر راشد احمد مہر کی ڈائریکٹوریٹ جنرل کالجز سندھ میں ڈائریکٹر انسپیکشن کے عہدے پر تعیّناتی کا نوٹیفیکشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔ راشد احمد مہر کے متعلق معلوم ہوا ہے کہ انکا 1992 ء میں بطور لیکچرار فزکس تقرّر ہوا اور انکی تعیّناتی گورنمنٹ گرلز کالج سجاول میں بطور لیکچرار کی گئی، جہاں انہوں نے مبیّنہ طور پر کبھی ڈیوٹی سرانجام نہیں دی۔ نجی ادارے میں ملازمت کرنے والے راشد مہر مسلسل پندرہ سال سرکاری خزانے سے بھی تنخواہ وصول کرتے رہے۔ 2015 ء میں اس وقت کے ریجنل ڈائریکٹر کالجز کراچی نے محکمہ کالج ایجوکیشن کو تحریری طور پر آگاہ کیا کہ راشد مہر کی ابتدائی پندرہ سال کی اے سی آر دستیاب نہیں لہٰذا انکی ترقّی ممکن نہیں مگر محکمے نے ڈائریکٹر کالجز کی جانب سے انکی طویل غیر حاضری کی اطلاع کو نظرانداز کرتے ہوئے انہیں گریڈ 19 میں ترقّی دیکر گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج کونکرولیج گوٹھ میں پہلے ایسوسی ایٹ پروفیسر فزکس اور پھر پرنسپل مقرّر کردیا اور گزشتہ روز راشد مہر کی بحیثیت ڈائریکٹر انسپیکشن کالجز سندھ کی حیثیت سے تعیّناتی کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کردیا گیا- ریجنل ڈائریکٹر کالجز کراچی میں بھی ایڈیشنل ڈائریکٹر انسپیکشن کالجز تعینات کی جانے والی خاتون ایسوسی ایٹ پروفیسر شبنم جونیجو کے متعلق بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ دوران ِ ملازمت اکثر طویل عرصے غیرحاضر رہی ہیں۔ انکی گزشتہ تعیناتی بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر کراچی کے ایک معروف کالج میں رہی جہاں انہوں نے کبھی حاضری نہ دی۔ سیکرٹری کالج ایجوکیشن خالد حیدر شاہ سے جب موقف کیلئے رجوع کیا تو انھوں نے جواب نہیں دیا۔

اہم خبریں سے مزید