جسٹس فائز عیسیٰ کو جج ہونے کے بجائے سیاستدان ہونا چاہئے تھا، طاہر اشرفی
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جسٹس فائز عیسیٰ کو جج ہونے کے بجائے سیاستدان ہونا چاہئے تھا، طاہر اشرفی

اسلام آباد (نمائندہ جنگ) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی اور مشرق وسطیٰ طاہر محمود اشرفی نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خط کے جواب میں کہا ہے کہ میں اس بحث میں نہیں جانا چاہتا کہ آپ چیف جسٹس بلوچستان کیسے بنے اور اس کے بعد آپ سپریم کورٹ کے جسٹس کیسے بنے لیکن آپ کی گزشتہ چند ماہ کے دوران گفتگو کے اقتباسات اور ذرائع ابلاغ پر آنے والے ٹکرز دیکھ کر یہ احساس ضرور ہوا کہ آپ کو ملک کے مقتدر اور معزز ترین ادارے کے رکن ہونے کے بجائے ایک سیاستدان ہونا چاہئے تھا ، آئین کی سربلندی کی بات ہم نے جن حالات اور اوقات میں کی ہے وہ سب پر واضح ہے اور انتہا پسندی اور دہشت گردوں کی فکر اور سوچ کو چیلنج کرنے کے نتیجہ میں سات حملے ہوئے ، مجھے خوشی ہے کہ آپ نے میرے موقف کو تسلیم کر لیا ہے اور اس خط میں واضح کر دیا کہ ہمارے آئین میں درج بنیادی حقوق قرآن وسنت سے مطابقت رکھتے ہیں۔ آپ کا جو ویڈیو کلپ میرے پاس موجود ہے وہ اس موقف سے ہٹ کر تھا۔ میرا جو آپ پر اشتعال تھا اس کی آپ نے وضاحت کر دی لہذا اس معاملہ میں مزید بحث نہیں کرنا چاہتا۔ میری صرف ایک ہی التجا ہے کہ آپ قاضی کے منصب پر فائز ہیں، آپ کا اسم گرامی بھی قاضی سے شروع ہوتا ہے لہذا شریعت اسلامیہ یہ حکم دیتی ہے کہ قاضی اور مفتی پر نہ غصہ غالب آنا چاہئے اور نہ ہی خوشی، فتویٰ اور فیصلہ کے وقت نہ غصہ میں آنا چاہئے اور نہ ہی خوشی میں لہذا اعتدال ہم سب کو اختیار کرنا چاہئے، اسی کی آپ سے توقع کرتا ہوں۔ امید کرتا ہوں کہ آپ جب بھی کسی پر الزام یا تہمت لگانے جائیں تو پہلے ضرور تحقیق کرلیں۔ آپ تاریخ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ آپ جیسے معزز جج صاحبان ہی آمروں اور جرنیلوں کو قانون کے مطابق پاکستان میں حکمرانی کا حق دیتے رہے ہیں اور آج کی قیادت کا ایک بہت بڑا طبقہ خواہ وہ مذہبی ہو یا سیاسی وہ ان آمروں اور جرنیلوں کا معاون ومددگار بنتا رہا ہے اور اقتدار میں اپنا حصہ لے کر جمہوریت زندہ باد کا نعرہ لگاتا رہا ہے۔ اس پر طویل بحث کی جاسکتی ہے کہ پاکستان توڑنے کا اصل مجرم اور پاکستان میں مارش لائوں کا اصل محافظ کون تھا۔ لیکن پھر یہی عرض کرونگا کہ خدارا آپ جس منصب پر ہیں اس کا تقاضا غصہ نہیں اعتدال ہے اور اگر کوئی بھی شخص اعتدال کو اختیار نہیں کرسکتا تو پھر شریعت اسلامیہ کے تقاضوں کے مطابق قاضی و مفتی کہلانے کا حقدار کیسے ہوسکتا ہے، آپ کے خط کا بار بار مطالعہ کرنے کے بعد یہ عرض کروں گا کہ یہ خط آپ کی تحریر نہیں لگتی جس کسی نے بھی آپ کے نام سے لکھی اس کی سرزنش ضرور فرمائیں۔

اہم خبریں سے مزید