• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

محمد اکرم خان

ایڈیٹر، جنگ فورم، کراچی

کورونا .... تیسری لہر
ڈاکٹر ایس ایم قیصر سجاد
سیکریٹری جنرل، پاکستان
میڈیکل ایسوسی ایشن سینٹر

ہماری غفلت اور ایس او پیز کی خلاف ورزی کے باعث ہمیں کورونا کے حوالے سے بھی پولیو جیسی صورت حال کا سامنا ہو سکتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ملک میں ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹے اور ایس او پیز لاگو کرنے کے حوالے سے قانون سازی کی جائے تاکہ خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا یا بھاری جرمانہ عائد کیا جا سکے۔

ہم اس بات کا بھی اعادہ کرتے ہیں کہ حکومت کورونا وائرس کے خاتمے کیلئے یکساں پالیسی تشکیل دے۔ ملک کے تمام داخلی راستوں پر کرونا کے مریضوں کو جا نچنے کیلئے سخت اقدامات اٹھائے جائیں۔ حکومت کو چاہیے کہ ویکسی نیشن سینٹرز کی تعداد کو بڑھایا جائے تاکہ کم وقت میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ویکسین لگائی جا سکے۔

ڈاکٹر ایس ایم قیصر سجاد

کورونا .... تیسری لہر
ڈاکٹر فرحین مبشر
ماہر انفیکشن ڈیزیز اور
مائیکرو بیالوجسٹ،
ڈاکٹر عیسیٰ لیبارٹری

کورونا وائرس کے پھیلائو روکنے کے لیے حکومتی اقدامات بہت اہم ہیں، اس کے ساتھ عوامی شعور بھی بہت ضروری ہے، رمضان اور عید کے موقع پر ایس او پیز کی خلاف ورزیاں سامنے آتی ہیں، جن کی پابندی یقینی بنائی جائے۔ 

عوام میں شعور بیدار کیا جائے تاکہ وہ کورونا کے پھیلائو کا سبب یا اس کا شکار نہ بنیں، ہجوم سے پرہیز نہایت ضروری ہے، اس پر سختی سے عمل کرایا جائے، وفاقی اور صوبائی حکومتیں لاک ڈائون پر ڈبلیو ایچ او کی ہدایات پر عمل کریں، بین الصوبائی ٹرانسپورٹ پر پابندی عائد کریں

ڈاکٹر فرحین مبشر

کورونا .... تیسری لہر
امین ہاشوانی
سوشل سائنٹسٹ

پاکستان میں ویکسین لگنے کی رفتاربہت کم ہے امریکا میں کم ازکم بیس کروڑ افراد کو ویکسین کی کم ازکم پہلی خوراک مل چکی ہے پڑوس ملک بھارت میں بھی دس فیصد آبادی کو ویکسین لگائی جاچکی ہے لیکن پاکستان میں ابھی تک محض دس لاکھ افراد کو ویکسین کی خوراک ملی ہے یہ تعداد اور رفتار بہت کم ہے اس کا تو مطلب یہ ہوا کہ ہم چھ ماہ کے بعد بہ مشکل دس فیصد کا ہدف حاصل کرسکیں گے اور 90 فیصد لوگ بغیر ویکسین کے گھوم رہے ہوں گے، جس سے خدشہ یہ ہے کہ ہم کورونا کی چوتھی اور پانچویں لہر کا بھی شکار ہوسکتے ہیں

امین ہاشوانی

پاکستان اس وقت کورونا وائرس کی تیسری لہر کا شکار ہے، خاص کر پنجاب، خیبرپختون خوا اور بلوچستان میں یہ لہر زیادہ خطرناک دکھائی دے رہی ہے، روزانہ پانچ ہزار سے زائد کیس رپورٹ ہورہے ہیں، مجموعی طور پر پاکستان میں اب تک ساڑھے سات لاکھ افراد کورونا وائرس کا شکار ہوچکے ہیں، جب کہ اموات کی تعداد سولہ ہزار سے اوپر جاچکی ہے، کورونا وبا کی تیسری لہر اور اس کی صورت حال کیا ہے؟ پاکستان میں خاص کر پنجاب اور خیبرپختون خوا میں کورونا وائرس تیزی سے پھیلنے کی وجوہات کیا ہیں؟ 

پہلی، دوسری اور تیسری لہر میں کیا فرق ہے، پاکستان نئی لہر کو روکنے میں ناکام کیوں رہا، پھیلائو کو روکنے کے اقدامات کیا ہیں، کیا ہونے چاہئیں، اس حوالے سے وفاق اور صوبوں کی کارکردگی کیا ہے، کیا ہونی چاہیے، ویکسین کتنی موثر ہے اور ویکسینیشن کا عمل کیسا ہے، کورونا کے حوالے سے مستقبل کیا دکھائی دیتا ہے، یہ اور ان جیسے دیگر سوالات کے جوابات کے لیے ’’کورونا کی تیسری لہر، خطرات اور حفاظتی اقدامات‘‘ کے موضوع پر جنگ فورم کا انعقاد کیا، جس میں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر ایس ایم قیصر سجاد، ڈاکٹر عیسیٰ لیبارٹری کی ماہر انفیکشن ڈیزیز اور مائیکرو بیالوجسٹ،ڈاکٹر فرحین مبشر اور سوشل سائنٹسٹ امین ہاشوانی کو اظہارِ خیال کی دعوت دی گئی۔ فورم کی رپورٹ پیشِ خدمت ہے۔

ڈاکٹر ایس ایم قیصر سجاد

سیکریٹری جنرل، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن سینٹر

بد قسمتی سے پاکستان کو اس وقت کرونا وائرس کی تیسری لہر کا سامنا ہے اور ہماری کوتاہیوں کی بدولت اس کی شدت میں اضافہ ہوتا جار ہا ہے ۔ کرونا وائرس کے مثبت کیسز کی یومیہ تعداد میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے اور یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے جس کی بدولت کرونا کا پھیلائو قابو سے باہر ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے ۔ازہ ترین اطلاعات کے مطابق ملک میں کرونا سے متاثر ہونے والے افراد کی کُل تعداد750158 تک جا پہنچی ہے اور کرونا کی بدولت ہلاکتوں کی کُل تعداد 16044تک جا پہنچی ہے۔ ملک میں کرونا وائرس کی UK قسم کے پھیلائو کے باعث صورتحال دن بدن خراب ہو رہی ہے لہذا کووڈ۔19 کی بیماری کا بوجھ ہسپتالوں اور ہیلتھ کئیر ورکرز پربڑھ رہا ہے ۔

پنجاب،کے پی کے ا ور اسلام آباد بیماری سے بہت زیادہ متاثر ہو ئے ہیں۔ان علاقوں میں مثبت کیسز کی شرح تیزی سے اوپر جا رہی ہے ۔ہسپتالوں اور ہیلتھ کئیر ورکرز پر بیماری کا بوجھ بڑھ چکا ہے ۔ کرونا کیلئے مخصوص کیے گئے ہسپتالوں میں 80فیصد بستر مریضوں سے بھر چکے ہیں ۔60 تا 70فیصد وینٹی لیٹرز خالی نہیں رہے جوکہ مریضوں کے زیر استعمال ہیں ۔ بد قسمتی سے فروری 2020میں کرونا وائرس کے آنے کے بعد سے ہم ایک کے بعد دوسری ویو کا سامنا کر رہے ہیں، جولائی 2020میں جب کووڈ۔19 کا گراف نیچے چلاگیا تو ہمارے ہاں یہ سمجھا گیا کہ اب کرونا وائرس ختم ہو چکا ہے مگر ایسا کچھ نہیں ہوا بلکہ بیماری کا نیچے جاتا یہ گراف بڑھنا شروع ہو گیا اور ہم نے اسے دوسری ویو کا نام دے دیا۔

صورتحال برقرار رہی اور آج ہم کووڈ۔19 کی تیسری ویو کا سامنا کر رہے ہیں ۔یہ صورتحال ہماری غلطیوں کا نتیجہ ہے ۔ ہم شروع دن سے حکومت سے کہ رہے ہیں کہ کرونا سے متعلق ایس او پیز کو سختی سے نافذ کیا جائے ۔ ہم عوام سے بھی مسلسل التما س کر تے رہے ہیں کہ وہ احتیاطی تدابیر پر عمل کریں لیکن ہماری آواز نہیں سُنی جاتی ۔ ہمیں ڈر ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ہمیں مزید ویوز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہماری غفلت اور ایس او پیز کی خلاف ورزی کے باعث ہمیں کرونا کے حوالے سے بھی پولیو جیسی صورتحال کا سامنا ہو سکتا ہے۔

حکومت کو چاہیے کہ وہ ملک میں ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹے اور ایس او پیز لاگو کرنے کے حوالے سے قانون سازی کی جائے تاکہ خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا یا بھاری جرمانہ عائد کیا جا سکے۔ ہم اس بات کا بھی اعادہ کرتے ہیں کہ حکومت کرونا وائرس کے خاتمے کیلئے یکساں پالیسی تشکیل دے ۔

ہمارا ماننا ہے کہ اگر حکومت ملک میں ایس او پیز لوگو کرنے میں ناکام ثابت ہوتی ہے تو پھر کرونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے کا واحد حل شہروں کا مکمل لاک ڈائون ہو گا۔ہم نے مارچ کے شروع میں ہی حکومت کی جانب سے کرونا کے حوالے سے معاشی سرگرمیوں ، تعلیمی اداروں ، دفاتر اور دوسری کام کرنے والی جگہوں پر پابندی میں نرمی اور مکمل طور پر کھولنے کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔15مارچ سے چار دیواری کے اندر شادیوں ، ریستوران کے اندر کھانا کھانے نیز سینماگھر اور مزارات کھولنے کا بھی اعلان کر دیا گیا تھا۔

جبکہ ہم نے حکومت کو متنبہ کیا تھا کہ 70% فیصد آبادی کی ویکسی نیشن مکمل ہونے تک پابندیاں نرم نہ کی جائیں ۔ ہم نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے صورتحال کے پیش نظر کرونا سے متعلق پابندیاں اٹھانے کے فیصلے کو واپس لے لیا۔ حکومت کو چاہیے کہ ایک صوبے سے دوسرے صوبے میں کرونا کے پھیلائو کو روکنے کیلئے فوری طور پر حفاظتی اقدامات اٹھائے جائیںنیز حکومت ملک بھر میں ایس او پیز (SOPs) پر سختی سے عمل درآمد کروائے۔ ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والے افراد پر بھاری جرمانہ عائد کیا جائے کیونکہ یہ عام مشاہدہ ہے کہ لوگ احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کرنے میں سنجیدہ نظر نہیں آئے ۔ 

اگر ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد نہ کیا گیا تو پھر صورتحال مزید بگڑے گی اور نتیجتاً متاثرہ شہروں میں لاک ڈائون کرنا پڑے گا۔ باہر کے ممالک سے آنے والے لوگوں اور خاص طور پر برطانیہ سے آنے والوں کو کرونا کے حوالے سے باریک بینی سے چیک کیا جائے۔ ملک کے تمام داخلی راستوں پر کرونا کے مریضوں کو جا نچنے کیلئے سخت اقدامات اٹھائے جائیں۔ حکومت کو چاہیے کہ ویکسی نیشن سینٹرز کی تعداد کو بڑھایا جائے تاکہ کم وقت میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ویکسین لگائی جا سکے۔ 

ملک کی کل آبادی میں سے 70تا 75 فیصد لوگوں کو جتنی جلدی ممکن ہو ویکسین لگا دینی چاہیے۔اس سلسلے میں ہم حکومت سے یہ بھی التماس کرتے ہیں کہ عوام کو ویکسین لگوانے کیلئے مزید سہولیات فراہم کی جائیں اور اس عمل میں حائل مشکلات کا خاتمہ کیا جائے۔عوام سے گزارش ہے کہ کرونا وائرس سے تحفظ کیلئے مندرجہ ذیل احتیاطی تدابیر (ایس او پیز ) پر عمل درآمد کریں:۔

1۔ ہجوم میں جانے سے پرہیز کریں نیز ہر جگہ سماجی فاصلہ برقرار رکھیں۔

2۔ کروناسے بچاؤ کے لیے ماسک سب سے بڑی ویکسین ہے لہذاہمیشہ ماسک لگا کے رکھیں۔

3۔ اپنے ہاتھ باقاعدگی سے صابن سے دھوئیںیا سینی ٹائز کریں

4۔ اپنی آنکھ ، ناک اور منہ کو چھونے سے پرہیز کریں، ہاتھ ملانے اور گلے لگنے سے بھی پرہیز کریں۔

وفاقی حکومت نے بیماری کے پھیلائو کو روکنے میں تاخیر اور سست روی کا مظاہرہ کیا ۔ ایس او پیز پر عمل درآمد کروانے میں ناکام رہی ۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان کرونا پر اختلافات رہے اور وفاقی حکومت کرونا سے نبردآزما ہونے کے لئے ملک بھر میں یکساں پالیسی کی تشکیل میں ناکام رہی ۔ وفاقی حکومت کی لاک ڈائون کی پالیسی سے ملک بھر میں صحت کی تنظیموں اور صوبوں میں اختلاف نظرآیا۔

صوبہ سندھ اور بلوچستان کی حکومتوں نے کرونا جیسی مہلک وباء کے لئے زیادہ حساسیت کا مظاہرہ کیا اور لاک ڈائون کے حوالے سے سخت اقدامات اٹھائے جبکہ پنجاب اور صوبہ سرحد کی حکومتیں لاک ڈائون کے معاملے میں تذبذب کا شکار نظر آئیں اس لئے ان حکومتوں نے لاک ڈائون میں جلد نرمی کردی جس سے ان صوبوں میں موجود صحت کی تنظیمیں اختلاف کرتی نظر آئیں۔ 

ڈاکٹروں کو پی پی ایز کی فراہمی میں تمام صوبائی حکومتوں نے ست روی کا مظاہرہ کیا جس سے ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکس کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکامی ہوئی۔پاکستان کے اندر ویکسین مہم سست روی کا شکار ہے پچھلے دو ماہ میں ابتک صرف دو لاکھ افراد کی ویکسی نیشن ہو سکی ہے جبکہ اس عرصہ میں دو کروڑ افراد کو ویکسین لگ جانی چاہیے تھی۔ 

حکومت کو چاہیے کہ وہ ویکسین لگوانے کے عمل کو مزید آسان بنائے ۔ ابھی 1166 پرویکسی نیشن لگوانے کیلئے صیح پیغام نہیں آتا ۔ مزید برآں1166 پر ہیلتھ ورکرز کی رجسٹریشن کا عمل بند ہو چکا ہے ۔ ہیلتھ ورکرز ہمارے فرنٹ لائن سولجر ہیں لیکن بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم انہیں بغیر ہتھیاروں کے لڑنے پر مجبور کر رہے ہیں ۔ 

ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت کو رجسٹریشن کا عمل تیز اور سہل بنانا چاہیے۔1166کا سسٹم ختم کر کے واک ان سسٹم شروع کرنا چاہیے جس کے تحت شناختی کارڈ دیکھ کر موقع پر ہی رجسٹریشن اور کوڈ جاری کیا جانا چاہیے اور پھر پہلی ویکسی نیشن کرنے کے بعددوسری ویکسی نیشن کی تاریخ دی جائے اور پھر دوسری ویکسی نیشن لگانے کے بعدمتعلقہ شخص کو ای ۔ سرٹیفیکیٹ جاری کر دیا جائے۔ 

اس وقت دنیا میں مختلف ممالک کرونا کے خلاف ویکسین تیار کرچکے ہیں ۔ مختلف ویکسین کی اثرانگیزی (Efficacy) مختلف ہوتی ہے ۔ یہ اثرانگیزی مختلف برانڈزمیں ۶۰ تا ۹۰ فیصد پائی جاتی ہے۔کرونا کے خلاف ویکسین کی ا فادیت بہت زیادہ ہے۔کرونا سے محفوظ رہنے کیلئے ویکسین لگوانا بہت ضروری ہے نیز یہ بیماری کے پھیلائو کو روکنے کیلئے بھی انتہائی کارآمد ہے۔ ہمارے ہاں چائنا کی سائنوفارم (Sinopharm) نامی ویکسین لگائی جار ہی ہے جس کے نتائج مثبت ہیں اور کوئی منفی اثرات رپورٹ نہیں ہورہے۔

ڈاکٹر فرحین مبشر

ماہر انفیکشن ڈیزیز اور مائیکرو بیالوجسٹ، ڈاکٹر عیسیٰ لیبارٹری

تمام وائرس بشمول سارس cov-2 یعنی وہ وائرس جو covid-19کا باعث بنتا ہے وقت کے ساتھ نمو پاتا ہے. جب کوئی وائرس اپنی ہی کاپیاں بناتا ہے تو کبھی کبھار تھوڑا بہت تبدیل ہوجاتا ہے جو وائرس کے لیے ایک عام بات ہے. ان تبدیلیوں کو "میوٹیشنز" کہتے ہیں۔ ایک یا زائد میوٹیشنز والے وائرس کو اصل وائرس کا "ویرینٹ" کہا جاتا ہے.

جب ایک وائرس کسی آبادی میں زیادہ پھیل جائے اور زیادہ انفیکشنز کا باعث بنے تو وائرس کی میوٹیٹنگ کا امکان بڑھ جاتا ہے. وائرس کو پھیلنے کے جتنے مواقع ملتے ہیں تو یہ اپنی جیسی مزید کاپیاں تیار کرتا ہے اور اس میں تبدیلیوں کے مزید مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ پوری دنیا میں لوگوں کو covid -19 میں میوٹیشنل تبدیلی کا سامنا ہے جو پہلی دوسری اور تیسری لہر کہلاتی ہے. کورونا وائرس کی تیسری لہر زیادہ تیزی سے پاکستان میں پھیل رہی ہے خصوصاً پنجاب اور کے پی کے میں اس نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے اور مزید پھیلاؤ کا باعث بن رہا ہے۔ 

اس کے پھیلنے کی بنیادی وجہ پابندیوں کا جلدی اٹھ جانا ہے اور لوگوں کی جانب سے SOPs پر عمل نہ کرنا ہے مثلاً ماسک نہ پہننا, سماجی فاصلہ نہ رکھنا, عوامی مقامات پر جانے سے گریز نہ کرنا, اور یہی وجہ ہے کہ وائرس لوگوں میں تیزی سے پھیل رہا ہے اور اپنی کاپیاں اور میوٹیشنز بنارہا ہے اور کورونا وائرس کی تیسری لہر کا باعث بن رہا ہے۔ حکومت بین الصوبائی سفر پر بھی مزید پابندیاں لگانے پر غور کررہی ہے جو صوبوں کے درمیان وائرس کے پھیلنے کو روکنے کے لیے بہت اہم ہے. Covid-19 کی ویکسینز جو تیاری کے مراحل میں ہیں یا جو تصدیق شدہ ہیں ان سے امید ہے کہ وہ کسی حد تک نئے وائرس سے تحفظ دے سکیں گی کیونکہ ان ویکسینز میں اینٹی باڈیز اور سیلز کی رینج کے لحاظ سے قوت مدافعت کا ردعمل واضح ہے۔ 

لہذا تبدیلیاں یا میوٹیشنز ویکسینز کو مکمل طور پر غیر مؤثر نہیں بنا سکتیں. یہ ممکن ہوسکے گا کہ ویکسینز کے اجزاء میں تبدیلی پیدا کر کے ان وائرس کے خلاف تحفظ حاصل کیا جائے.عالمی ادارہ صحت کے بھی سارس covid-2 کے لیے رسک مانیٹرنگ اینڈ اویلیو ایشن فریم ورک قائم کیا ہے جو تشویش کے مختلف مسائل کی شناخت, نگرانی اور تشخیص کرے گا اور اس حوالے سے اس میں تشویش کے مختلف مسائل اور تشخیص کے اندازوں اور ویکسینز کے لیے نگرانی اور تحقیق شامل ہوگی۔

یہ فریم ورک ویکسین بنانے والے ممالک کے لیے covid-19 میں ضروری تبدیلیوں کے لیے کام کرے گا. اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنا ایک اہم بات ہے. وائرس کے پھیلاؤ کو کم کرنے کے حالیہ اقدامات بشمول بار بار ہاتھ دھونا, ماسک پہننا, جسمانی فاصلہ رکھنا, مؤثر پابندیاں, عوامی مقامات پر جانے سے گریز, نئے وائرس کے خلاف متواتر محنت کرنا۔

ہر مرحلے پر زیادہ خطرے والے گروپ کو ویکسین دینا ترجیح ہونی چاہئے تاکہ عالمی سطح پر نئے وائرس کے خلاف زیادہ سے زیادہ تحفظ مل سکے اور اس کے پھیلاؤ کے خطرے کو کم سے کم کیا جاسکے۔ کورونا وائرس کے پھیلائو روکنے کے لیے حکومتی اقدامات بہت اہم ہیں، اس کے ساتھ عوامی شعور بھی بہت ضروری ہے، رمضان اور عید کے موقع پر ایس او پیز کی خلاف ورزیاں سامنے آتی ہیں، جن کی پابندی یقینی بنائی جائے، عوام میں شعور بیدار کیا جائے تاکہ وہ کورونا کے پھیلائو کا سبب یا اس کا شکار نہ بنیں، ہجوم سے پرہیز نہایت ضروری ہے۔ 

اس پر سختی سے عمل کرایا جائے، وفاقی اور صوبائی حکومتیں لاک ڈائون پر ڈبلیو ایچ او کی ہدایات پر عمل کریں، بین الصوبائی ٹرانسپورٹ پر پابندی عائد کریں، ضروری ٹرانسپورٹیشن سے پہلے کورونا اسکریننگ کو یقینی بنایا جائے، لوگوں میں کورونا وائر کی ٹیسٹنگ کا شعور بیدار کیا جائے، کورونا ایس او پیز پر عمل کے ساتھ ٹیسٹنگ کی بہت اہمیت ہے، حکومتیں اسے آسان بھی بنائیں، ویکسینیشن کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے، اس کے ساتھ ویکسین لگانے والے افراد کی مانیٹرنگ بھی ضروری ہے تاکہ ویکسینیشن کے بعد کی تشخیص کی جاسکے۔

امین ہاشوانی

سوشل سائنٹسٹ

یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ پاکستان کا شمار ان ملکوں میں کیا جاتا ہے جو گزشتہ برس کورونا کی خطرناک لہر کا شکارنہیں ہوا تھا۔پہلی لہر میں چین ابتدائی شکار بنا تھا اس کے بعد یورپ اور امریکا میں خاص کربڑی تعداد لوگ کورونا وائرس کا شکار ہوئے اور اموات کی تعداد بھی زیادہ رہی ،ایشیا میں بھی پہلی لہر کے دوران ایران بھارت مشرق وسطیٰ کے ممالک میں یہ لہر خطرناک رہی۔پاکستان میں کورونا وائرس کا پھیلاو کیوں کم رہا اور دیگر خطوں یا ملکوں میں اس کا پھیلاو زیادہ کیوں رہا اس پر حتمی طور پر کچھ کہنا مشکل ہے۔لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان شاید اس لیے محفوظ رہا کہ اس کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔

ہماری پچاس فیصد سے زائد آبادی پچیس سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے جن کی قوت مدافعت زیادہ بہتر ہوتی ہے جب کہ یورپ اور امریکا میں یہ تعدادیا شرح بہت کم ہےوہاں کی آبادی کا پچیس فیصد حصہ 60 سال سے زائد عمر پر مشتمل ہے۔دوسری وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ پاکستان سے بیرون ملک سفر کرنے والوں کی تعداد نسبتا کم ہے جو کورونا کے کم پھیلاو کا سبب بنا۔پاکستان میں جو پہلی لہرآئی تھی اس کی وجہ ایران اور سعودی عرب سے آنے والے لوگ تھے۔اگر ہم اپنی سرحدوں اور ائیرپورٹ کو محفوظ بناتے تو شاید کورونا کے کم شکار ہوتے۔ وفاقی حکومت کو محفوظ اقدامات اٹھانے چاہیے تھے۔

پہلی لہر کےبعد پاکستان میں لاک ڈائون کیا گیا بعدازاں اسمارٹ لاک ڈاون بھی جاری رہا جس سے صورت حال کو سنبھالنے میں مدد ملی۔صحت کا شعبہ کافی حد تک صوبائی معاملہ ہے لیکن کورونا کے معاملے میں صوبوں اور وفا ق نےباہمی اشتراک سے اہم اقدامات کیے۔ فوری طور پرنیشنل کمانڈ آپریشن سینٹر(این سی او سی) قائم کیا گیا جس میں وفاق اور صوبوں کے درمیان اچھے کورڈینیشن سے بروقت اقدامات کیے گئے۔اچھی بات یہ ہے کہ کورونا کے معاملے میں صوبوں اور وفاق کے درمیان سیاست نہیں ہوئی۔

پاکستان بھی اس وقت دنیا کے دیگر ممالک کی طرح کورونا کی تیسری لہر کا شکار ہے ہمارا پڑوسی ملک بھارت بھی کورونا کی موجودہ خطرناک لہر کی لپیٹ میں ہے،بتایا جاتا ہے کہ تیسری لہر کا سبب برطانیہ ،افریقا اور جنوبی افریقاسے آنے والا وائرس ہے جو پہلے کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ہے اس کا پھیلاو تیز رفتاری سے ہوتا ہے اور جلد ہی متاثرہ شخص موت کے منہ میں چلے جاتا ہے۔ پاکستان میں تیسری لہر کی ابتدا پنجاب اور خیبرپختون خواہ سے ہوئی۔اب دونوں صوبوں کے متعدد شہر وں میں کورونا وائرس کے پھیلاو کی شرح بڑی خطرناک ہے دارلحکومت اسلام آباد بھی اس کا شکار نظر آتا ہے۔

ان دنوں بلوچستان اور سندھ میں بھی کورونا کی یہ لہر تیزی سے پھیل رہی ہے۔پہلی لہر کے دوران تو ایس او پیز پر کافی حد تک عمل کیا گیا تھا لیکن اب جب کہ ہم ایک خطرناک لہر کا شکار ہیں لیکن اب ایس او پیز پر عمل درآمد کم دیکھنے میں آرہا ہے ۔خاص طور پر اسلام آباد ،لاہور اور پشاور میں عوام ایس او پیز پر عمل درآمد نہیں کررہے ہیں۔

پاکستان کی اہم شخصیات بھی کورونا کا شکار ہوچکی ہیں جس میں صدر وزیراعظم وفاقی وزرا ،وزرائے اعلیٰ، گورنرز بھی شامل ہیں۔اس کے باوجود بھی عوام احتیاط نہیں کررہے ہیں، کچھ کا کہنا ہے کہ کورونا کچھ بھی نہیں ہے اور کچھ کہتے ہیں کہ اس سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا ۔

انہیں سوچنا چاہیے کہ وہ خود تواپنی کم عمری اور اچھی قوت مدافعت کے سبب اس سے محفوظ رہ سکتے ہیں لیکن وہ اطراف کے دیگر لوگوں کےلیے پھیلاو کا سبب بن سکتے ہیں ،جن کی شاید قوت مدافعت کم اور عمر بھی زیادہ ان کےلیے یہ وائرس موت کا سبب بن سکتا ہے۔

ان افراد میں آپ کے خاندان کے بزرگ افراد، محلے دار،دفاتر میں کام کرنے والے ساتھی بھی مبتلا ہوسکتے ہیں اور موت کے منہ میں جاسکتے ہیں۔ لہذا ہر شخص کو چاہیے کو وہ کورونا ایس او پیز پر عمل کرے کرائے اور ماسک اور سینی ٹائزر کے استعمال کو یقینی بنائے ،کورونا سے لڑائی سے تھکنا یا بیزار نہیں ہونا چاہیے یہ زندگی اور موت کی جنگ ہے جس سے مکمل احتیاط سے ہی جیتا جاسکتا ہے۔اپنا نہیں دوسروں کا سوچیں ان کا خیال کریں ۔پاکستان میں ویکسین لگنے کی رفتاربہت کم ہے امریکا میں کم ازکم بیس کروڑ افراد کو ویکسین کی کم ازکم پہلی خوراک مل چکی ہے پڑوس ملک بھارت میں بھی دس فیصد آبادی کو ویکسین لگائی جاچکی ہے لیکن پاکستان میں ابھی تک محض دس لاکھ افراد کو ویکسین کی خوراک ملی ہے یہ تعداد اور رفتار بہت کم ہے اس کا تو مطلب یہ ہوا کہ ہم چھ ماہ کے بعد بہ مشکل دس فیصد کاہدف حاصل کرسکیں گے اور 90 فیصد لوگ بغیر ویکسین کے گھوم رہے ہوں گے، جس سے خدشہ یہ ہے کہ ہم کورونا کی چوتھی اور پانچویں لہر کا بھی شکار ہوسکتے ہیں۔

امریکا یورپ اور ایشیا کے کچھ ممالک ویکسین کے بعد کورونا کی لہر سے نکل جائیں گے ان کی معیشت بہتر ہونا شروع ہوجائے گی لیکن ہم کورونا میں پھنسیں رہیں گے۔لہٰذا یہ بہت ضروری ہے کہ ویکسین لگانے کی رفتار بڑھائی جائے۔ویکسین لگانے میں لوگوں کی دلچسپی بھی کم ہے یہاں تک کہ ہیلتھ ورکرز کی رجسٹریشن بھی مایوس کن ہے۔ویکسی نیشن کےلیے شعور بڑھانے کی ضرورت ہے حکومت کو چاہیے کہ اس کے لیے موثر اور زوردار مہم چلائے جس کےلیے تمام شعبہ ہائے زندگی کےمعروف چہروں کو سامنے لایا جائے اور ان کے ذریعے یہ مہم چلائی جائے۔