• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شہر بھر میں ڈاکو راج پورے آب و تاب سے تاحال جاری و ساری ہے شہری ڈاکووں کے رحم و کرم پر ہیں۔ ماہ رمضان المبارک میں مسلح ڈکیتی کی وارداتوں کے ساتھ سحر و افطار کے اوقات میں چور گروہ ،گھروں کے سامنے کھڑی قیمتی گاڑیاں اور ان میں نصب جدید پینلزاور دیگرسامان چوری کرکےبآسانی فرار بھی ہو جاتے ہیں ۔ دن دیہاڑے ڈاکو لوٹ مارکی وارداتوں کے دوران مزاحمت کرنے پرفائرنگ کرکے نہ صرف معصوم شہریوں کو زخمی کردیتے ہیں، بلکہ ان کی جان لینے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔

واقعات کے مطابق بلدیہ 24 مارکیٹ کے قریب ساڑھے 5 لاکھ روپےچھینے کے دوران ڈاکووں نے مزاحمت کرنے پر 2 افراد28 سالہ عادل ولد شہزاد اور35 سالہ ابراہیم ولد اسلم کو زخمی کردیا اور رقم چھین بآسانی فرار ہو گئے۔ زخمی عادل کو بازو اور ابراہیم کو پیٹ میں گولی لگی، زخمی ہونے والے افراد کی پانی کی موٹروں کی دُکان ہے اور وہ بلدیہ 24 مارکیٹ میں واقع نجی بیک سے ساڑھے5 لاکھ روپے نکلواکر اپنی دُکان جا رہے تھے کہ اسی دوران 24 مارکیٹ اور فرنیچر مارکیٹ کے درمیان میں واقع اللہ والاہوٹل کے قریب 2 موٹر سائیکلوں پرسوار4 مسلح ملزمان نے اسلحے کے زورپران کے رقم چھینی اور مزاحمت پرفائرنگ کرکے انہیں زخمی کردیا، ملزمان زخمی دونوں شہریوں کوجانتے تھے اورانھوں نے واردات کے دوران دونوں کو ان کے نام سے پکار بھی تھا۔ زمان ٹاؤن تھانےکی حدود کورنگی نمبر ایک فرزند بیکری کے قریب ڈکیتی کی واردات کے دوران مزاحمت کرنے پر مسلح ملزمان کی فائرنگ سے ایک نوجوان 18 سالہ عارف ولد عبدالرزاق زخمی ہوگیا ، زخمی نوجوان تندور پر کام کرتا ہے۔ 

سرجانی ٹاؤن تھانے کی حدود گلشن ِ نور فیز1 میں لوٹ مار کر نے والے 2ڈاکو شہریوں ہتھے چڑھ گئے ، جنھیں تشدد کے بعدپولیس کے حوالے کردیا، پولیس نے ڈاکوؤں کو حراست میں لے کر ان کے قبضے سے ایک پستول برآمد کرلی۔کلفٹن تین تلوار کمپیوٹر مارکیٹ کے قریب 2مسلح ڈاکووں نے نجی ینک سے رقم نکلوا کر آنے والے شہری سےاسلحے کی نوک پر 9 لاکھ روپے لوٹ لیے اور مزاحمت کرنے پر شہری کو فائرنگ کر کے زخمی بھی کردیا اور بآسانی فرار ہو گے، جب کہ ڈاکووں کی فائرنگ سے ایک راہ گیر بھی زخمی ہو گیا ۔اورنگی ٹاون ایم پی آر کالونی میں2 مسلح ڈاکو ہارڈ ویئر کی دُکان میں لُوٹ مار کے بعد فرار ہو گئے ،دونوں ملزمان شلوار قمیض میں ملبوس تھےاور شناخت چھپانے کے لیےماسک لگا رکھا تھا۔

ضلع وسطی میں سحری کے بعد گاڑیوں کی چوریوں میں اضافہ ،پولیس ملزمان کو گرفتار کر نے ناکام۔ سر سید تھانے کی حدودوسیکٹر 11B میں واقع مکان کے سامنے نامعلوم چور ریاض الرحمن صدیقی کی ٹویوٹا کار نمبر AWL 309 چوری کر کے بآسانی فرار ہوگئے ،جس کا مقدمہ نمبر 314/2021سر سید تھا نے میں درج کر لیا گیاہے ،علاقہ مکینوں کے مطابق سیکٹر 11B میں ماہ رمضان کے دوران ، سحری کے بعد وارداتوں میں اضا فہ ہو گیا ہے۔ 

علاوہ ازیں عزیز آباد تھانے کی حدود بلاک 8میں ایک ہی روز میں سحری کے بعد نامعلوم چور گھر کے سامنے سے ہائی روف نمبر CN1087 ایک رکشہ اور موٹر سائیکلیں چوری کر کے بآسانی فرار ہو گئے ،پولیس تاحال ملزمان کو گرفتار نہیں کر سکی ہے۔

ناگن چورنگی کے قریب رینجر نے مبینہ مقابلے میں 2ڈاکووں کو ہلاک کر دیا، جب کہ ڈاکوں کی فائرنگ سے لٹنے والے شہری اور ایک خاتون زخمی ہوگئے۔ شہری وسیم اے ٹی ایم سے رقم نکال کر باہر نکلا تو مسلح ڈاکوؤں نے شہری سے رقم چھینے کی کوشش کی شہری نے مزاحمت کی تو ڈاکوؤں نے فائرنگ کردی،جس کے نتیجے میں لٹنے والا شہری اور راہ گیر خاتون زخمی ہوگئے ، جب کہ ڈاکو شہری سے رقم چھین کر فرار ہو رہے تھے کہ ان کا رینجرز سے آمنا سامنا ہوگیا۔

ڈاکوؤں نے بچ نکلنے کے لیے رینجرز اہل کاروں پر فائرنگ کردی۔ ڈاکوؤں کی فائرنگ کے جواب میں رینجرز اہلکاروں نے بھی فائرنگ کی۔ رینجرز اور ڈاکوؤں کے درمیان دوبدو فائرنگ کے تبادلے میں ،رینجرز اہلکاروں نے دونوں ڈاکوؤں کو ہلاک کر دیا۔

علاوہ ازیں سینٹرل پولیس آفس(سی پی او) کے سامنے پولیس افسر کی خودسوزی کے واقعے نے پولیس اہل کاروں میں تشو یش پیدا کردی ہے ۔ پیر کی دوپہر 12 بجکر 29 منٹ میٹھادر تھانے کی حدود آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع سینٹرل پولیس آفس کے سامنے سندھ پولیس کےسب انسپکٹر 45 سالہ مظفرعلی چانڈیو ولد محمد علی نے خود کو آگ لگا لی، جس کے نتیجے میں وہ جھلس کر شدید زخمی ہو گیا، اور بعد ازاں ایک روز بعدہی دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاکر سول اسپتال کے برنس سینٹرمیں دَم توڑگیا ۔واقعہ کے بعد سی پی او کے گیٹ پر تعینات پولیس اہل کاروں نے اسے سول اسپتال کے برنس وارڈ منتقل کیا ۔

پولیس کے مطابق سب انسپکٹر مظفر علی ٹیلی کمیونیکیشن میر پورخاص میں تعینات تھا۔پولیس کاکہنا ہے کہ کچھ دنوں قبل اس کی گاڑی کا گلشن حدید کے علاقے میں حادثہ ہوا تھا، جس میں ایک شخص جاں بحق ہوگیا تھا،واقعہ کے وقت اس کی سرکاری گاڑی بیٹے کے استعمال میں تھی، اور حادثے پر انکوائری چل رہی تھی اور 23 اپریل کو اسے معطل کیا گیا تھا، جب کہ اس کے خلاف دیگر انکوائریاں بھی چل رہی تھیں، جس سے دلبرداشتہ ہو کر اس نے سینٹرل پولیس آفس کے باہر خودسوزی کی کوشش کی، پولیس نے بتایا کہ مظفر علی کا جسم 41 فیصد تک جھلس گیا تھا ۔ 

واضح رہے کہ متوفی نے خود سوزی کے لیے جس جگہ سینٹرل پولیس آفس(سی پی او) کا انتخاب کرنا بھی سوالیہ نشان ہے ، کیوں کہ سی پی او میں آئی جی سندھ سمیت پولیس کے اعلیٰ افسران موجود رہتے ہوںا ایک پولیس افسر کی خود سوزی کرنا کسی المیے سے کم نہیں ہے ،جس کی شفاف تحقیقات کراکے اصل محرکات کو بے نقاب کر نا ضروری ہے۔

یہ بات بھی کسی المیے کم نہیں کہ سندھ پولیس کے شہدا کے اہل خانہ کو بھی اپنےحق کےلیے آواز اٹھانا پڑتی ہے،جس کی مثال شہید انسپکٹر شفیق تنولی کے اہلخانہ کی جانب 7 سال بعد بھی سینٹرل پولیس آفس کے دھکے کھانے کے باوجود کوئی شنوا ئی نہ ہونے کی شکایت کی وائرل ہونے ویڈیو کے بعد کراچی پولیس چیف غلام نبی میمن نے نوٹس لے لیا، ایس ایس پی ویسٹ سوہائے عزیز نے اہلخانہ سے ان کے گھر پر ملاقات کی اور بچوں سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے ان کی شکایت سنی اور انہیں ایڈیشنل آئی جی کراچی کی جانب سے مکمل تعاون کرنے کی یقین دہانی کر ائی۔شہید کی بیوہ نسرین تنولی نے بتایا کہ وہ7 سال سے عدالت اور سینٹرل پولیس آفس کے چکر صرف اس لیے کاٹ رہی تھی کہ ایک عورت شہید کی بیوہ ہے۔ 7سال بعد عدالت سے کیس کا فیصلہ ان کے حق میں آنے کے باوجود سینٹرل پولیس آفس کے دھکے کھاتے رہیں، مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ 

اس دوران بچوں کی تعلیم بھی متاثر ہوئی۔ اہل خانہ نےبتایا کہ ان کے شوہر کو ملنے والا تمغہ بھی نہیں دیا گیا، جب کہ شہادت کو 7 سال گزر جانے کے باوجود ان کے بچوں کو محکمہ سندھ پولیس میں نوکری نہیں دی گئی ہے۔ ایس ایس پی ویسٹ نے ان کی شکایتوں کو سُنا۔ اور اہلخانہ کو ایڈیشنل آئی جی کراچی کی جانب سے بھیجا جانے والا پیغام اور تعاون کی یقین دہائی کراتے ہوئے ان کے سارے معاملات فوری حل کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی۔

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید