• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پولیس کے بارے میں ہمارے معاشرے میں عام طور پر منفی سوچ رکھی جاتی ہے، جسے دیکھو وہ پولیس کو بُرا بھلا کہتا دکھائی دیتا ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی دشمن کا بھی پولیس سے واسطہ نہ پڑائے۔ یہ سب باتیں اپنی جگہ ٹھیک بھی ہوتی ہیں، مگر سوشل میڈیا کے آنے کے بعد صورِ حال بدل گئی ہے،پولیس اور عوام ایک دوسرے کی مدد کرتے دکھائی دیتے ہیں، جس کی ایک مثال گزشتہ دنوں کشمور کے ایک پولیس والے نے اپنی جوان بیٹی کی زندگی دائو پر لگا کر ایک خاتون اور اس کی بچی کی جان بچائی تھی، جسے سول سوسائٹی کے ہر فرد نے سراہا تھا۔

آئی جی سندھ نے اس پولیس افسر اور ان کی فیملی کے اعزاز میں شان دار تقریب کا انعقاد کراچی میں کیا تھا اور بڑی شان و شوکت سے پولیس افسر کو بگی میں بٹھا کر سلامی دی گئی۔ اس عمل سے ثابت ہوتا ہے کہ پولیس اہل کار، شہریوں کے لیے ہر قسم کی قربانی دینا کے لیے تیار رہتے ہیں، لیکن ایسے چند ایک ہی پولیس افسر ہیں، ایسے ہی ایمان دار پولیس افسر الطاف حسین ہیں۔ وہ اپنی ملازمت کے دوران کسی اسیکنڈلز کی زد میں نہیں آئے۔ گلشن اقبال میں ان کے ایک گھر ہے، بقول ان کے اسے تعمیر کرنے میں 10برس کا عرصہ لگا۔ وہ چاہتے تو چند مہینوں میں کوئی عالی شان بنگلہ بنا سکتے تھے، مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ الطاف حسین نے پولیس کے محکمے میں اس وقت ملازمت اختیار کی جب کراچی میں بدامنی کا راج تھا۔ 

وہ کراچی کے اہم ترین تھانوں میں بہ طور ایس ایچ او اپنی خدمات انجام دیتے رہے۔ DSP کی حیثیت سے بھی طویل عرصے شہر قائد میں امن و امان اور لُوٹ مار کی وارداتوں میں کمی لانے میں اپنا کردار ادا کرتے رہے۔ 1988 سے 2021 تک کی ملازمت کے دوران مثالی کام کیا۔ کراچی میں طویل عرصے خدمات انجام دینے کے بعد اب وہ سندھ کے معروف شہر سجاول میں بہ طور ایس ایس پی کام کر رہے ہیں۔ 

گزشتہ دنوں ہم نے ان سے ملاقات کے لیے وقت طے کیا اور ان کی رہائش گاہ پہنچ گئے۔ ہم اس وقت خوش گزار حیرت میں مبتلا ہوگئے، جب انہوں نے ہمیں مہمان خانے میں بٹھایا اور کہا کہ سب ملازم اور بیگم بھی گھر پر ہیں، لیکن آپ کے لیے میں خود چائے بنائوں گا۔ اور پھر انہوں نے بہت ہی چاہت بھری چائے پیش کی۔ اس کے بعد ہم نے ان سے ہلکی پھلکی گفتگو کی، جس کی تفصیلات نذرِ قارئین ہے۔

سوشل میڈیا کی وجہ سے کرائم کی روک تھام میں کتنی مدد ملی ہے؟ 

ہم نے اپنی گفتگو کا آغاز اس سوال سے کیا، جس پر انہوں نے بتایا کہ ’’سوشل میڈیا کی مدد سے بڑی بڑی واردات کو روکنے میں مدد ملی ہے۔ اب ملزمان تک پہنچنے میں آسانی ہو گئی ہے۔ سوشل میڈیا نے سب کو ایکسپوز کر دیا ہے۔ خواہ وہ ملزم ہو یا پولیس اہل کار۔ اب دُنیا بالکل بدل گئی ہے۔‘‘

’’کراچی میں امن قائم کرنے میں اب تک پولیس کا کیا کردار رہا ہے؟ 

اس سوال کے جواب میں ایس ایس پی الطاف حسین نے بتایا کہ کراچی پولیس نے سندھ بھر میں امن قائم کرنے کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ بے شمار قربانیاں دیں، تب جا کر شہر قائد میں مکمل امن قائم ہوا ہے، سب سے زیادہ شہادتیں کراچی پولیس کی ہوئیں۔ 1990 سے 2000ء تک بے شمار پولیس والے شہید ہوئے۔ یہ سب کے جانتے ہیں۔ 

کراچی میں بدامنی کے خاتمے کے لیے سب سے زیادہ قربانیاں کراچی پولیس نے دیں ، جس کے نتیجے میں کراچی میں امن قائم ہوا۔ اس وقت پورے ملک میں کراچی میں سب سے زیادہ سکون ہے اور یہاں امن قائم ہے، ماسوائے اس کے اسٹریٹ کرائم اپنی جگہ ہے۔ چھینہ جھپٹی کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔ 

چوری کی وارداتیں بھی ہوجاتی ہیں۔ یہاں ہم نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کو نظرانداز نہیں کرسکتے۔ پڑھے لکھے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بھی بے روزگار ہیں،جس کی وجہ سے اسٹریٹ کرائمز بڑھ جاتا ہے۔ ہم نے اسٹریٹ کرائمز میں ملوث نوجوانوں کو گرفتارکیا، تو سب سے بڑی وجہ بے روزگاری کی سامنے آئی۔ اس کے برعکس ہم دُنیا میں سب سے ترقی یافتہ کی مثال دیتے ہیں تو امریکا کا نام لیتے ہیں۔ 

اگر ہم امریکا کی ریاست نیویارک کے کرائمز کے اعداد و شمار پر نظر دوڑائیں گے تو کراچی میں نیویارک کے مقابلے میں کرائم ریٹ بہت کم نظر آئے گا ہے ،جب کہ نیویارک میں کراچی کے مقابلے میں پولیس اہل کار زیادہ تعداد میں ہیں، جب کہ کراچی میں پولیس کی نفری کی کمی کا سامنا بھی ہے۔ اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ کراچی ایک پُرامن شہر ہے۔‘‘

’’کورونا کی وَبا اور لاک ڈائون کے دوران پولیس نے کیا قربانیاں دیں؟‘‘


سب گواہ ہیں کہ ڈاکٹروں سے زیادہ پولیس نے کورونا کے سلسلے میں کام کیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈاکٹروں نے اسپتالوں میں کورونا کے مریضوں کا بہت خیال رکھا۔ کئی ڈاکٹر کورونا میں مبتلا بھی ہوئے اور کچھ کو موت کا منہ دیکھنا پڑا، اس کے برعکس پولیس نے بغیر کسی وسائل کے فرنٹ لائن پر قربانیاں دیں، جب کہ ڈاکٹروں کے پاس تو بے شمار حفاظتی سامان بھی ہوتا تھا۔ 

ماسک، حفاظتی لباس وغیرہ، ہم پولیس والے حفاظتی سامان کے بغیر کام کرتے رہے۔ کورونا کی وجہ سے سب سے زیادہ شہادتیں کراچی پولیس کے نوجوانوں کی ہوئیں۔ لاک ڈائون کے دوران بے نظیر انکم سپورٹ اور حساس پروگرام کے لیے بڑی تعداد میں متاثرین کراچی میں اکٹھا ہوئے۔ غریب لوگوں کی مالی امداد کے لیے سیکڑوں کا مجمع اکٹھا ہو جاتا تھا، جس کی وجہ سے سب سے زیادہ پولیس اہلکار کورونا سے متاثر ہوئے۔‘‘

’’ آپ کو پولیس میں بھرتی ہونے کا خیال کیسے ذہن میں آیا؟‘‘

اس سوال کا جواب الطاف حسین نے بڑے تحمل سے دیا اور بتایا کہ ’’جیسا کہ سب کو معلوم ہے، میرے والد اور میرے بھائی پولیس میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ اس لیے پولیس کی ملازمت کرنا میرے لیے کوئی نئی بات نہیں تھی۔ 1984 میں پولیس میں بہ طور اے ایس آئی بھرتی ہوا۔ آج 37برس گزر گئے، معلوم ہی نہیں چلا۔ اللہ کا کرم ہے اور میرے والدین کی دعائوں سے آج میں ایس ایس پی کی پوسٹ پر کام کر رہا ہوں۔ 

میرے ساتھ پولیس میں بھرتی ہونے والوں میں بہت کم ہیں، جو یہاں تک پہنچے۔ بلکہ آپ کو خوش گوار حیرت ہوگی کہ میرے ساتھ پولیس کا محکمہ جوائن کرنے والے گروپ میں، میں واحد ہوں، جو ایس ایس پی کی پوسٹ تک پہنچا۔ 

یہی نہیں قبل ازیں اپنے گروپ میں1990 میں سب سے پہلے SHO میں ہی بنا تھا۔ 1984 میں جوائن کرکے صرف چھ برس بعد میںSHO کی ذمے داریاں نبھا رہا تھا۔ 17برس کراچی میں DSP بھی رہا۔ 2018 میں میرا پروموش ہوا اور مجھے کراچی سے سجاول کا ایس ایس پی بنا دیا گیا اور اب میں سجاول میں کرائم کم کرانے کی کوشش کر رہا ہوں۔‘‘

’’آپ کی پیدائش اور تعلیمی مراحل کہاں کہاں مکمل ہوئے‘‘؟ 

میں نارتھ کراچی میں پیدا ہوا اور ہماری رہائش بھی وہی تھی۔ اس زمانے میں انگلش میڈیم اسکول تو ہوتے نہیں تھے۔ گورنمنٹ اسکول نارتھ کراچی سے تعلیم حاصل کی۔ 1976 میں میٹرک پاس کیا اور پھر اسلامیہ کالج سے انٹرمیڈیٹ کیا اور پھر کراچی یونی ورسٹی کا رُخ کیا۔ؒ وہاں سے گریجویشن کیا۔ اس طرح میری ساری تعلیم کراچی ہی میں رہی۔‘‘

’’کراچی کے کون کون سے تھانوں میں اپنی ذمے داریاں نبھائیں؟ 

یُوں سمجھ لیجیے کہ کراچی کے تمام بڑے تھانوں میں اپنی ڈیوٹی دیتا رہا ہوں۔ لانڈھی، گلشن اقبال، لیاقت آباد، نیو کراچی، گلبرگ و دیگر کے نام قابل ذکر ہیں۔ پولیس کی نوکری کے دوران میں نے کبھی کسی سے دشمنی مول نہیں لی۔ ہمیشہ ایمان داری سے اپنے فرائض انجام دیے۔ اس دوران مختلف لوگوں کی جانب سے مجھ پر دبائو بھی رہا، لیکن میری ایمان داری کا سب کو علم تھا۔ 

علاوہ ازیں 4برس میں نے اقوام متحدہ کے ساتھ بھی کام کیا۔ پاکستان سے پوری فیملی کے ساتھ گیا تھا۔ 44 ممالک کی پولیس کے ساتھ مل کر کام کیا۔ ان چار برسوں میں میری آمدنی میں بھی اضافہ ہوا۔ میرے ویژن اور ایکسپوزر میں بھی اضافہ ہوا۔ آج میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ میں اس قابل نہیں تھا، یہ سب دعائوں کا نتیجہ ہے، میرے رب نے مجھے یہاں تک پہنچایا۔‘‘

’’آپ کی فیملی میں کون کون ہیں؟ 

ہم تین بھائی اور چار بہنیں ہیں۔ میں آج بھی اپنی فیملی سے جڑا ہوا ہُوں۔ اپنے بہن بھائیوں کا ہر طرح سے خیال رکھتا ہوں۔1992 میں عابدہ خانم سے میری شادی ہوئی۔ اس وقت میں SHO تھا۔ 31جنوری کو ہم میاں بیوی اور بچے شادی کی سالگرہ مناتے ہیں۔ میری ایک بیٹی ڈاکٹر ہے اور ایک بیٹا ابھی بیرون ملک تعلیم حاصل کر رہا ہے۔ اس طرح میری اپنی فیملی ٹوٹل 4افراد پر مشتمل ہے۔ دو میاں بیوی اور دو بچے۔‘‘

’’ہم تھانہ کلچر‘‘ کو کیسے بہتر بنا سکتے ہیں؟ 

اس بارے میں ایس ایس پی سجاول نے بتایا کہ ’’پولیس اور عوام ایک ہی معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں اور معاشرے میں اچھے بُرے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں۔ ’’پولیس کلچر‘‘ کو بہتر بنانے کے لیے دونوں فریقوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ میں نے اپنی زندگی کے قیمتی برس اس محکمے کو دیے ہیں۔ 

دوسال بعد ریٹائرڈ ہو جاؤں گا۔ بس اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ عزت کے ساتھ ریٹائرڈ ہو جائوں۔ میں نے اپنی نوکری کے دوران ہمیشہ مظلوموں کا ساتھ دیا اور ان کی مدد کرنے کی بھر پور کوشش کی۔‘‘

’’پولیس کی ملازمت کے دوران کوئی ایسا یادگار واقعہ جو کبھی فراموش نہیں کر سکتے؟‘‘

میری زندگی کئی دل چسپ اور حیرت انگیز واقعات سے بھری پڑی ہے۔ 1997 میں کراچی میں ایک پولیس مقابلہ ہوا تھا۔ نارتھ ناظم آباد بلاک جے میں یہ مقابلہ ہوا۔ اس میں ہمارے DIG بھی زخمی ہوئے تھے اور تین ڈاکو بھی ہلاک ہوئے تھے۔ یہ واقعہ میں کبھی نہیں بھولتا۔‘‘

آپ اگر پولیس آفیسر نہ بنتے تو کیا ہوتے؟ 

اس سوال کا جواب ایس ایس پی الطاف حسین نے مسکراتے ہوئے دیا کہ ’’اگر میں پولیس آفیسر نہ ہوتا تو کرکٹر بن کر قومی ٹیم میں شامل ہوتا یا پھر شاید ایکٹر ہوتا۔ مجھے کرکٹ اور اداکاری کا بہت شوق ہے۔ فن کاروں سے ملنے اور ان کے ساتھ رہنے کا بہت اچھا لگتا ہے، کیوں کہ میری بیگم بھی ملک کی نامور گلوکارہ ہیں۔ ان کی وجہ سے مجھے بھی گلوکاری کا شوق ہوگیا ہے۔ شاعری شُوق سے پڑھتا ہوں۔ اچھے اشعار پڑھنا اور سننا میری کمزوری ہے۔

 ’’آپ کی کام یابی کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے؟‘‘ 

سب سے پہلے تو میرے رب کی ذات کا ہے، جس نے مجھے اتنا نوازا۔ میں کہاں تھا اس کرم کے قابل، اس کے بعد میرے ماں باپ کی دُعا ہے۔ میری اچیومنٹس میں میری بیگم نے بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے بچوں کی بھر پور تربیت کی اور اس طرح مجھے اپنے شعبے میں بے فکر ہو کر کام کرنے کا موقع ملا۔‘‘

’’جب آپ ایس ایس پی سجاول بنے تو آپ کے سامنے کیا کیا چیلنجز تھے؟‘‘ 

سجاول سندھ کا بہت اچھا شہر اور ضلع ہے۔ وہاں کی ابادی کی اکثریت غریب اور مزدور لوگوں پر مشتمل ہے۔ میں نے جب بہ حیثیت ایس ایس پی جوائن کیا، تو ان دنوں ایک خاتون کے ساتھ زیادتی ہوئی تھی، مگر اس کی ایف آئی آر نہیں کاٹی جا رہی تھی۔ میں نے ان کی اس سلسلےمیں مدد کی اور ایف آئی آرکٹوائی اور انہیں انصاف بھی دلوایا۔ 

اس کے علاوہ ایک اور خاتون کے ساتھ گینگ ریپ ہوا۔ میں نے کارروائی کر کے اس گینگ کو پکڑوا دیا اور اسے انصاف دلوانے میں مدد کی۔ اس طرح درجنوں افراد کے چھینے گئے قیمتی موبائل ان کے صارفین کو واپس دلوائے۔ سجاول میں ہر ہفتے شہریوں کے ساتھ ملاقات کرتا ہوں اور ان کے مسائل پوچھتا ہوں اور پھر اسے حل کرنے کی یقین دہانی کرواتا ہوں۔ سجاول کے شہری بہت پرخلوص اور محبت والے ہیں۔ میرے ساتھ اور ہماری ٹیم کے ساتھ بھر پور تعاون کرتے ہیں۔‘‘

’’سندھ اور پنجاب کی پولیس میں کیا فرق ہے؟‘‘ 

جواب میں ایس ایس پی نے بتایا کہ ’’پولیس پُورے ملک میں ایک جیسی ہوتی ہے۔ پنجاب اور سندھ کی پولیس میں کلچر کا فرق نظر آتا ہے۔‘‘

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید