بیرون ملک سفر کی تیاریاں، گرین لسٹ والے ممالک سے واپسی پر قرنطینہ نہیں کرنا پڑے گا
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بیرون ملک سفر کی تیاریاں، گرین لسٹ والے ممالک سے واپسی پر قرنطینہ نہیں کرنا پڑے گا

راچڈیل (ہارون مرزا)حکومت برطانیہ نے طویل ترین لاک ڈائون اور پابندیوں کے بعد عوام کو خوشخبری سنا دی اور 17مئی سے دوستوں اور کنبہ کے افراد سے ملنے جلنے اور ایک دوسرے کو گلے لگانے کی اجازت دیدی گئی جبکہ برطانوی عوام نے چھٹیاں بیرون ملک گزارنے کیلئے تیاریاں شروع کر دی ہیں تاہم صرف گرین لسٹ والے ممالک کے سفر پر جانیوالے مسافروں کو واپسی پر لاک ڈائون کی پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔تفصیلات کے مطابق موثر ترین ویکسی نیشن مہم کے مثبت نتائج سامنے آنے کے بعد معاشرتی دوری کے قوانین میں نرمی لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے کورونا بحران کے دوران برطانیہ میں تین مرتبہ کورونا لاک ڈائون کی پابندیاں نافذ کی گئیں تاحال تیسرے قومی لاک ڈائون سے نکلنے کیلئے مرحلہ وار پیش قدمی جاری ہے برطانیہ میں کورونا وائرس کے خلاف کامیاب ویکسی نیشن مہم کے نتیجے میں انفیکشن کی شرح میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے حوصلہ افزاء نتائج کی صورت میں 17مئی سے تیسرے مرحلے کے دوران نہ صرف بین الاقوامی سفر پر عائد پابندیاں ختم ہو جائیں گی بلکہ اپنے پیاروں کو گلے لگانے کی اجازت بھی دیدی جائے گی۔برطانیہ میں ایک سال سے زائد عرصہ کے دوران پہلی مرتبہ گھرانوں کو آپس میں جسمانی رابطے کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے دوست احباب ‘ قریبی رشتہ دار ‘ ایک دوسرے کو گلے لگا سکیں گے۔ انگلینڈ میں ایک ہزار میں سے ایک شخص میں کوویڈ 19وائرس کی تصدیق ہوئی ہے باور کیا جا رہا ہے جون میں برطانیہ مکمل طور پر پابندیوں سے نکل جائے گا اور معمول کی زندگی کی طرف سفر شروع کر دے گا۔ دفتر برائے قومی شماریات کے مطابق ستمبر کے بعد انفیکشن کی شرح میں مسلسل کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے یونیورسٹی آف ایسٹ اینجلیا میں میڈیسن کے پروفیسر پول ہنٹر نے کہا کہ او این ایس کے سروے کے نتائج انتہائی اہمیت کے حامل ہیں مجموعی طو رپر انفیکشن کی شرح میں کمی آ رہی ہے تاہم برطانوی شہریوں کو احتیاط کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے ویکسین بلاشبہ بہتر تحفظ فراہم کر رہی ہے مگر اپنے اپنے علاقے میں انفیکشن کی شرح کے لحاظ سے لوگ احتیاطی تدابیر کو اپنائیں حکومت کی ویکسین ٹاسک فورس کے عبوری چیئرمین کلائیو ڈکس نے کہا کہ برطانیہ ویکسی نیشن کے نتیجے میں بہتری کے سفر پر گامزن ہے برطانیہ کا لاک ڈائون میں واپسی کا امکان نہیں کیئر ہومز کے رہائشیوں سے ملاقات کرنے والے افراد کو بھی14 یو م کے قرنطین کی پابندی سے آزاد کیا جا رہا ہے جبکہ مئی کے بعد جون میں مزید پابندیاں اٹھا لی جائیں گی عوامی حلقوں نے حکومت کی طرف سے نئے اعلانات کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ برطانیہ جلد تمام پابندیوں سے آزاد ہو کر لاک ڈائون سے نکل جائے گا اور لوگ معمول کی زندگی بسر کر پائیں گے ۔دوسری جانب حکومتی روڈ میپ کے مطابق 17مئی کو بین الاقوامی پروازیں شروع کیئے جانے کے اعلان کے بعد برطانوی عوام نے چھٹیاں بیرون ملک گزارنے کیلئے تیاریاں شروع کر دی ہیں تاہم صرف گرین لسٹ والے ممالک کے سفر پر جانیوالے مسافروں کو واپسی پر لاک ڈائون کی پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔ حکومت نے ٹریفک لائٹ سسٹم متعارف کرانے کیلئے گرین ‘ امبر اور ریڈ لسٹ ممالک کی الگ الگ کورونا انفیکشن شرح کے لحاظ سے فہرستیں مرتب کرنے کا اعلان کیا ہے جن کی تاحال تفصیلات جاری نہیں کی گئیں وزیر اعظم بورس جانسن کی طرف سے تیسرے قومی لاک ڈائون سے باہر نکلنے کے لیے تفصیلی روڈ میپ کا اعلان کیا جا چکا ہے جس کے تحت اسٹیج ون اور اسٹیج ٹو کے تحت لوگوں کو لاک ڈائون کی پابندیوں میں بڑی حد تک رعایت حاصل ہوئی ہے۔ اسٹیج تھری کے تحت 17مئی کو بین الاقوامی پروازوں کی اجازت دی جا رہی ہے باور کیا جا رہا ہے کہ گرین لسٹ ممالک میںصرف چند ممالک ہی شامل ہوں گے جہا ںسے وطن واپسی پر قرنطینہ اختیار کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی ابتدائی طور پر 24 سے کم مقامات کی تجویز کی جانے والی اطلاعات کو بھی شامل کیا گیا ہے چند یوم تک گرین لسٹ ممالک کی فہرست جاری ہونے کی توقع کی جا رہی ہے سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ گرین ‘ امبر اور ریڈ لسٹ کے ممالک کی فہرستیں مرتب کی جائیں گی نگر اس بارے میں تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا تاہم گرین لسٹ میں شامل ممالک کیلئے سفر کرنیوالے افراد کو ہوٹلوں میں دس یوم تک قرنطین نہیں کرنا پڑے گا اور وہ کورونا کا منفی ٹیسٹ دےکراپنے گھروں کو جا سکیں گے جبکہ امبر اور ریڈ لسٹ والے ممالک کیلئے الگ الگ سفری پابندیاں لاگو رہیں گی۔ باور کیا جارہا ہے کہ پرتگال ‘ مالٹا اور مراکش جیسے ممالک کو بھی گرین لسٹ میں شامل کیا جائے گا کیونکہ یہ سیاحوں کیلئے بہترین مقامات ہیں ۔ٹریول انڈسٹری سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل ، جمیکا ، بارباڈوس ، جبرالٹر اور گریناڈا میں انفیکشن کی شرح کا جائزہ لیا جا رہا ہے جس کے بعد ان کو ریڈ ‘ امبر یا گرین لسٹ میں ڈالنے کیلئے حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ آئس لینڈ ، فن لینڈ اور کیمین جزائر بھی سبز رنگ کے ممالک کی فہرست میں شامل کیے جا سکتے ہیں امریکہ کو کم خطرے والی لسٹ میں شامل کر نے کی تجویز بھی زیر غور ہے ۔بھارت سمیت بعض دیگر بڑے ممالک کورونا وائرس کی حالیہ لہر کے باعث امبر اور ریڈ لسٹ میں رہیں گے پی سی ایجنسی کے پال چارلس کا کہنا ہے کہ سری لنکا‘ مالدیپ ‘ اور ہندوستان وغیرہ کو انفیکشن کے باعث گرین لسٹ میں شامل نہیں کیا جائے گا۔

یورپ سے سے مزید