تماشائیوں کے احتجاج پر مانچسٹر یونائیٹڈ اور لیورپول کے درمیان کھیل نہیں ہوسکا
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تماشائیوں کے احتجاج پر مانچسٹر یونائیٹڈ اور لیورپول کے درمیان کھیل نہیں ہوسکا

لندن (پی اے ) کلب کی گلیزر فیملی کی ملکیت کے خلاف مظاہرے اور تماشائیوں کے احتجاج پر مانچسٹر یونائیٹڈ اور لیورپول کے درمیان کھیل موخر کردیا گیا، اطلاعات کے مطابق کم وبیش 200 تماشائی گلیزر فیملی کی ملکیت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اولڈ ٹریفورڈ میں گھس آئے ۔پروگرام کے وقت کھیل مقامی وقت کے مطابق ساڑھے 4 بجے شروع ہونا تھا پریمئر لیگ کا کہناہے کہ کھیل موخر کرنے کافیصلہ پولیس،دونوں کلبوں ،پریمیئر لیگ اورمقامی اتھارٹیز کا مشترکہ فیصلہ تھا ،پولیس کاکہناہے کہ احتجاج کے دوران پولیس کے 2 اہلکار زخمی ہوگئے۔یہ پہلا موقع ہے جب پریمیئر لیگ کا میچ تماشائیوں کے احتجاج کی وجہ سے موخر کیاگیا ہے ،یونائیٹڈ کی 1878میں اس کے قیام کے وقت کی قمیصوں کے سبز اور سنہرے رنگ کے متعدد پرچم لئے ہونے تماشائی گرائونڈ کے باہر جمع ہوگئے تھے ۔یہ احتجاج یونائیٹڈ اور پریمیئر لیگ کے دیگر5 کلبس کی جانب سے یورپی سپر لیگ میں شرکت کے فیصلے کے بعد کیاگیا ہے،کورونا وائرس کی وجہ سے ابھی تماشائیوں میں گرائونڈ میں جانے کی اجازت نہیں ہے لیکن یونائیٹڈ کے کچھ مداح احتجاج کرنے کیلئے اولڈ ٹرافورڈ میں پچ تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔اس کے باوجود ان کو وہاں سے ہٹادیاگیاتھا ان میں سے کچھ بعد میں گھاس پر واپس آگئے تھے۔پریمیئر لیگ نے اپنے بیان میں کہاہے کہ اولڈ ٹرافورڈ میں ہر ایک کی سیکورٹی اور سلامتی اولین اہمیت رکھتی ہے ہم لوگوں کے جذبات کی شدت کو سمجھتے اور اس کا احترام کرتے ہیں لیکن ہر طرح کے تشدد زبردستی گھس جانے اورتوڑ پھوڑ کی مذمت کرتے ہیں ،ہمیں پولیس اور چوکیداروں سے ہمدردی ہے جنھوں نے انتہائی خطرناک صورت حال کا جس کی فٹبال میں کوئی گنجائش نہیں ہے مقابلہ کیا۔ فٹبال ایسوسی ایشن واقعے کے حقائق اور اس کے اسباب کا تعین کرنے کیلئے یونائیٹڈ،پریمیئر لیگ اور سیکورٹی سے متعلق اداروں کے ساتھ رابطے میں ہے ۔دونوں ٹیموں نے اس گرما گرم مقابلے کیلئے اپنی ٹیموں کے نام جمع کرادئے تھے لیکن کھیل موخر کئے جانے تک کھلاڑی اپنے ہوٹلوں سے روانہ نہیں ہوئے تھے۔ یونائیٹڈ کے حامی میچ شروع ہونے سے قبل لووری ہوٹل پر بھی جمع ہوئے تھے جہاں یونائیٹڈ کے کھلاڑی مقیم ہیں ،اول گنر سولسک جائیر کی ٹیم فی الوقت پریمیئر لیگ میں دوسرے نمبر پر ہے اور اتوار کو لیورپول کی جیت کی صورت میں مانچسٹر سٹی کو اس سیزن میں تیسری مرتبہ یہ ٹائٹل مل جاتا۔ اب کھیل کے دوبارہ انعقاد کے حوالے سے بات چیت ہورہی ہے ،مانچسٹر پولیس کاکہناہے کہ یہ بات واضح ہے کہ مظاہرے میں شامل بہت سے لوگ پرامن احتجاج کا حق استعمال نہیں کرنا چاہتے تھے اور وہ کچرہ جلاکر اور بوتلیں پولیس پر پھینک رہے تھے ،انھوں نے کہا کہ ان کے گرائونڈ میں جانے کا مطلب یہ تھا کہ یونائیٹڈ کے عملے کے بعض ارکان کو اپنے کمروں میں محصور ہونا پڑا جن لوگوں کو اسٹیڈیم سے باہر نکالا گیا ان میں اشتعال انگیزی بڑھ گئی اور انھوں بوتلیں اور دوسری چیزیں پولیس اہلکاروں اور گھوڑوںپر پھینکیں۔جس کے نتیجے میں 2 اہلکار زخمی ہوئے ان میں سے ایک اہلکار پر بوتل سے حملہ کیاگیا اوراس کے چہرے پر گہرا زخم لگا جس کی وجہ سے ہسپتال میں اسے ہنگامی طبی امداد دینا پڑی۔گریٹر مانچسٹرپولیس کے اسسٹنٹ چیف کانسٹیبل رس جیکسن کاکہناہے کہ مظاہرین نے اسٹیڈیم اور لووری ہوٹل کے باہر جس رویئے کا اظہار کیا وہ خطرنا ک تھا۔ہم نے واقعے کی تفتیش شروع کردی ہے اور صحیح حقائق معلوم کرنے کیلئے پارٹنرز کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں ،گریٹر مانچسٹر پولیس فیڈریشن کے چیئرمین اسٹو بیری نے کہا کہ ہماری دعائیں زخمی اہلکاروں کے ساتھ ہیں،انھوں نے کہا کہ پولیس اہلکار مظاہرین کیلئے تختہ مشق نہیں ہوتا اپنی ڈیوٹی کے بعد انھیں بھی پرسکون اور پر امن طورپر اپنے اہل خانہ کے پاس واپس جانے کاحق ہے۔یونائیٹڈ کاکہناہے کہ مانچسٹر یونائیٹڈ کے بارے میں پرسکون ہیں اور ہم پرامن طریقے سے آزادی اظہار کے حق کو تسلیم کرتے ہیں۔تاہم ہم ٹیم کو ہونے والی تکلیف اورگڑبڑ پر معذرت کرتے ہیں جس نے دوسرے تماشائیوں ،عملے اورپولیس کو خطرے سے دوچار کردیاتھا،اس موقع پر معاونت کرنے پر ہم پولیس کے مشکورہیں اور اس حوالے سے تفتیش میں مکمل تعاون کریں گے۔یونائیٹڈ کے شریک چیئرمین جوئل گلیزر نے کہاہے کہ کلب اس واقعے پر غیر مشروط معذرت کرتا ہے لیکن مانچسٹر یونائیٹڈ کے سپورٹرز کے ٹرسٹ کاکہناہے کہ انھیں ان مالکان پر قطعی اعتماد نہیں ہے لیور پول گیم سے قبل مظاہرین نے کہا تھا ٹرسٹ نے کہاتھا کہ یہ گلیزر فیملی کی جانب سے کلب کی ملکیت کے حصول کے 16 سال مکمل ہونے پر جمع ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ کلب کے حامیوں کو ملکیت میں مناسب حصہ دیاجائے اب حکومت کو کارروائی کرنی چاہئے۔اور ایسی کارروائی شروع کرنی چاہئے جس کے نتیجے میں کلب کے حامی اپنے کلب کے شیئرز خرید سکیں اور کسی ایک فرد کے پاس ہمارے کلب کے شیئرز کی اکثریت نہیں ہونی چاہئے۔

یورپ سے سے مزید