آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات 14؍ربیع الثانی 1441ھ 12؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
جمہوریہ ماریشس کی صدر ڈاکٹر امینہ گوریب فاکم گزشتہ دنوں 4 روزہ دورے پر اپنے 9 ممبران کے اعلیٰ سطح وفد کے ساتھ پاکستان تشریف لائیں۔ ڈاکٹر امینہ گوریب کا اپنے طالبعلمی کے زمانے سے کراچی سے تعلق رہا ہے اور اِسی وجہ سے انہوں نے دورے کے آخری دو مصروف ترین دن کراچی میں گزارے۔ اسلام آباد میں صدر امینہ گوریب نے صدر پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکومتی شخصیات سے ملاقات کی۔
ماریشس براعظم افریقہ کا ایک امیر ترین، تعلیم یافتہ اور سب سے کم کرپٹ ملک ہے جس نے 1968ء میں برطانیہ سے آزادی حاصل کی۔ یہ ملک 13 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے جس میں 48.5% ہندو، 32.7% عیسائی، 17% مسلمان، 1.8% بدھسٹ اور دیگر مذاہب کے ماننے والے ہیں۔ ماریشس کا شرح خواندگی 90% ہے۔ ماریشس کی فی کس سالانہ آمدنی تقریباً 10 ہزار ڈالر ہے جو افریقہ میں سب سے زیادہ ہے۔ یہاں کی مقامی کرنسی ماریشس روپی ہے جس کی ڈالر کے مقابلے میں قدر 35 روپی ہے۔ ماریشس کی سرکاری زبان انگریزی ہے، اس کے علاوہ ہندی، فرنچ اور ماریشس زبانیں بھی بولی جاتی ہیں۔ ماریشس جزیرہ بحرہند میں جنوبی افریقہ کے ملک مڈگاسکر سے 900کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے جس کا دارالخلافہ پورٹ لوئس ہے اور اس کی پورٹ سے ماریشس کو کثیر ریونیو حاصل ہوتا ہے۔ ماریشس کی معیشت میں سروس سیکٹر کا حصہ 74%، انڈسٹری کا 22% اور زراعت کا 4%

ہے۔ماریشس کی 2015ء میں جی ڈی پی گروتھ 3.5% تھی۔ اس کی اہم صنعتوں میں شوگر ملز، ٹیکسٹائل اور فوڈ پروسیسنگ شامل ہیں جبکہ ایکسپورٹس میں ریڈی میڈ گارمنٹس، شوگراور امپورٹس میں اشیائے خورد و نوش اور پیٹرولیم مصنوعات قابل ذکر ہیں۔ ترقی پذیر ممالک کی طرح ماریشس میں اوسط عمر 73 سال ہے۔ ماریشس ان چند ممالک میں شامل ہے جن کی اپنی باقاعدہ فوج نہیں اور اس طرح وہ اپنے تمام وسائل عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کرتے ہیں۔ ماریشس کے 90%رقبے پر گنے کی کاشت ہوتی ہے جو ملک کی شوگر انڈسٹری کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر بی بی امینہ فردوس گوریب کو یہ شرف حاصل ہے کہ وہ ملک کی پہلی مسلمان خاتون سائنسدان صدر ہیں جنہوں نے آرگینک کیمسٹری میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی، وہ یونیورسٹی آف ماریشس میں تدریس کا تجربہ بھی رکھتی ہیں اور اب بھی پودوں کے تحقیقی شعبے سے وابستہ ہیں۔ امینہ فردوس گوریب نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے صدارتی انتخابات میں حصہ لیا تاہم حکومتی اور حزب اختلاف جماعتوں نے مشترکہ طور پر انہیں5 جون 2015ء کو صدر کے عہدے پر نامزد کیا اور اس حیثیت سے وہ ماریشس کی علامتی فوج کی کمانڈر انچیف بھی ہیں۔ امینہ فردوس 1988ء میں ماریشس کے مشہور سرجن انور فاکم سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں جن سے اُن کے دو بچے آدم اور ایمان ہیں۔
ماریشس کی صدر امینہ گوریب کے پاکستان آنے سے چند دنوں پہلے گرین وچ یونیورسٹی کی وائس چانسلر سیما مغل نے مجھے بتایا کہ صدر امینہ ٹریڈ اینڈ انڈسٹری بالخصوص ٹیکسٹائل سیکٹر سے تعلق رکھنے والے افراد سے ملنا چاہتی ہیں جس کیلئے ہم نے انہیں کچھ پروفائلز بھیجے تھے جس میں انہوں نے آپ سے ملنے کی خواہش کی ہے۔ 19 اپریل کی شام 5 بجے گرین وچ یونیورسٹی کے طلباء و طالبات سے ملاقات کے بعد ماریشس کے صدر نے ٹریڈ اینڈ انڈسٹری اکیڈمیا، ایگری کلچر اور ٹیکسٹائل کے شعبوں کی ممتاز شخصیات سے ملاقات کی جس میں این ای ڈی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر افضل حق اورخیر محمد جونیجو بھی شامل تھے۔ ماریشس کی معیشت میں سیاحت اور ٹیکسٹائل کا شعبہ نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ ماریشس کی صدر نے مجھے بتایا کہ پاکستانی ٹیکسٹائل مینوفیکچررز کو ماریشس کے AGOA معاہدے سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہئے جس کے تحت پاکستانی فیبرک کی 30% ویلیو ایڈیشن کرکے ریڈی میڈ گارمنٹس کو ماریشس سے دیگر ممالک ڈیوٹی فری ایکسپورٹ کیا جاسکتا ہے۔ ماریشس نے 2007ء میں پاکستان کے ساتھ ترجیحی معاہدہ (PTA) کیا تھا اور 2009ء میں فری تجارتی معاہدہ (FTA) کرنا تھا۔ ترجیحی معاہد ے کے تحت ماریشس پاکستان سے ٹیکسٹائل سمیت 130 مصنوعات رعایتی کسٹم ڈیوٹی پر امپورٹ کرسکتا ہے لیکن پاکستان اور ماریشس کے مابین باہمی تجارت صرف 56 ملین ڈالر ہے جس میں پاکستان سے کاٹن، بچوں کا فوڈ سیریل اور ماریشس سے کشتی اور جہاز رانی کی مصنوعات قابل ذکر ہیں۔ میں نے ماریشس کی صدر کو پاک ماریشس جوائنٹ بزنس کونسل جو فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز اور ماریشس چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے مابین 12 اکتوبر 2004ء کے معاہدے کے تحت عمل میں لائی گئی تھی، کو فعال بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور اس جوائنٹ بزنس کونسل کی پہلی میٹنگ اگست 2016ء میں پاکستانی وفد کی ماریشس کے دورے پر رکھنے کی تجویز دی ہے۔ اس سلسلے میں ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی (TDAP) کے CEO ایس ایم منیر نے FPCCI کے تعاون سے ماریشس میں پاکستان کی سنگل کنٹری نمائش منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ماریشس کی صدر امینہ گوریب فکیم سے ملاقات میں میرے ساتھ ایک ٹیکسٹائل کے شہزاد ارشد اور پوٹینشل آف پاکستان کے اطہر احمد بھی موجود تھے جبکہ ماریشس کی صدر کے وفد میں ماریشس کے وزیر خارجہ آیولام، سرمایہ کاری بورڈ کی صدر نرملا جیتا، ماریشس چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ڈائریکٹر جنرل راجو جڈو، پاکستان ماریش جوائنٹ بزنس کونسل کے صد، پاکستان میں ماریشس کے سفیر یوسف الٰہی اور کراچی میں ماریشس کے اعزازی قونصل جنرل سہیل یاسین سلیمان بھی موجود تھے۔ ماریشس کی صدر امینہ گوریب نے مجھے بتایا کہ انہیں کامیاب لوگوں کی سوانح عمری پڑھنے کا بڑا شوق ہے جس پر میں نے انہیں اپنی سوانح عمری "A Limitless Pakistani" پیش کی۔ ماریشس کی صدر نے وطن پہنچنے پر میری ان سے ہونے والی میٹنگ اور تجاویز کو خصوصی طور پر سراہا۔
رات کو گرین وچ یونیورسٹی کی وائس چانسلر نے ماریشس کی صدر امینہ گوریب اور ان کے وفد کے اعزاز میں کراچی کے مقامی ہوٹل میں عشائیہ دیا۔میں سیما مغل کا خصوصی طور پر مشکور ہوں جنہوں نے پاکستان اور ماریشس کے مابین باہمی تعلقات بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ دوسرے دن اپٹما، TDAP اور FPCCI کے اعلیٰ سطح وفود جس میں میرے علاوہ TDAP کے CEO ایس ایم منیر، FPCCI کے صدر عبدالرئوف عالم اور اپٹما کے چیئرمین طارق سعود بھی شامل تھے، نے ماریشس کی صدر اور ان کے وفد سے ملاقاتیں کی۔ بعد ازاں FPCCI نے معزز مہمانوں کے اعزاز میں ظہرانے کا اہتمام کیا جس میں ماریشس کی صدر نے اردو میں بھی گفتگو کی اور فریدہ خانم کی غزل ’’آج جانے کی ضد نہ کرو‘‘ کا شعر کہہ کر اپنی تقریر کا اختتام کیا۔ شام میں گورنر اور وزیراعلیٰ سندھ نے ماریشس کی صدر اور ان کے وفد کے اعزاز میں الوداعی عشائیہ دیا جس کے بعد صدر امینہ گوریب اقوام متحدہ کی اہم میٹنگ میں شرکت کیلئے نیویارک روانہ ہوگئیں۔ ماریشس کی صدر کے دورہ کراچی میں وزیراعلیٰ سندھ کی مشیر شرمیلا فاروقی نے ’’وزیر میزبان‘‘ کے فرائض انجام دیئے اور ہماری یہ رائے تھی کہ امینہ گوریب نہایت ذہین مقرر، بااخلاق، انکسار اور سادگی پسند خاتون ہیں جنہیں پاکستان سے خصوصی لگائو ہے جس کی وجہ کراچی سے ان کا طالبعلمی کا رشتہ اور اہم مسلمان ہونا ہے۔ ماریشس کی صدر نے مجھے 14 سے 21 اگست تک ماریشس میں منعقد ہونے والے ’’پاکستان ویک‘‘ جس میں پاکستان کی سنگل کنٹری نمائش کا اہتمام بھی کیا جائے گا، میں شرکت کی خصوصی دعوت دی جس پر میں اُن کا مشکور ہوں۔