• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شرمین عبید چنائے کی خواتین صحافیوں کی مشکلات پر مبنی دستاویزی فلم جاری

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)آسکر ایوارڈ یافتہ فلم ساز شرمین عبید چنائے نے میڈیا انڈسٹری میں خواتین صحافیوں کو ہراسانی کے سامنے اور مشکلات پر بنائی دستاویزی فلم جاری کردی۔شرمین عبید چنائے (ایس او سی) فلمز کی جانب سے بنائی گئی تقریبا 10 منٹ دورانیے کے دستاویزی فلم میں ملک کی تین ایسی صحافیوں کو دکھایا گیا ہے، جنہیں آن لائن ہراسانی سمیت جسمانی طور پر بھی ہراساں کیا گیا۔پاکستانی میڈیا میں خواتین کی نمائندگی کے نام سے بنائی گئی دستاویزی فلم میں عالمی صحافتی تنظیم کے اعداد و شمار دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ملک میں ہر دو میں سے ایک خاتون کو کام کی جگہ پر زیادتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔دستاویزی فلم میں ملک کی تین نامور خواتین صحافیوں کو دکھایا گیا ہے، جنہوں نے بتایا کہ انہیں کس طرح کی ہراسانی اور تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔دستاویزی فلم میں صحافت کو 22 سال دینے والی خیبر پختونخواہ کی پہلی خاتون بیورو چیف فرزانہ علی کو بھی دکھایا گیا ہے، جنہوں نے بتایا کہ کس طرح انہیں جنس کی بنیاد پر تضحیک اور تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔دستاویزی فلم میں اینکر و صحافی تنزیلہ مظہر کی کہانی کو بھی دکھایا گیا ہے اور انہوں نے پہلی بار کھل کر بتایا کہ کس طرح انہیں سرکاری ٹیلی وژن میں ان کے باس نے جسمانی ہراسانی کا نشانہ بنایا۔دستاویزی فلم میں برطانوی نشریاتی ادارے کی صحافی فرحت جاوید کی کہانی کو بھی دکھایا گیا، جنہوں نے خود کو آن لائن ہراسانی کی شکایت کی۔انہوں نےخود کو آن لائن ہراسانی کا نشانہ بنانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نہ صرف انہیں بلکہ ان کے والد کو بھی گالیاں دی گئیں جب کہ ان کے لیے انتہائی نامناسب اور فحش الفاظ استعمال کیے گئے۔شرمین عبید چنائے فلمز کی جانب سے مذکورہ دستاویزی فلم کو حال ہی میں فیس بک پر ریلیز کیا گیا، تاہم ابتدائی طور پر مذکورہ فلم کو رواں برس مارچ میں یوٹیوب پر جاری کیا گیا تھا۔

دل لگی سے مزید