• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

٭… ندیم الحق ندیمؔ …٭

کچھ اور بھی ہیں جورو ستم اس کے علاوہ

برباد ہوئے عشق میں ہم اس کے علاوہ

خوشیوں کا کہیں دُور تلک نام نہیں ہے

ہیں چاروں طرف رنج و الم اس کے علاہ

وہ زخم دئیے ہیں کہ رفو ہوتے نہیں ہیں

سہتا ہوں زمانے کے ستم اس کے علاوہ

پھولوں سے معطّر تِرے گیسو، تِرے عارض

روشن ہیں تِرے نقشِ قدم اس کے علاوہ

دل توڑ کے پھر بارہا کرتے ہیں تلافی

پھر توڑنا، پھر کھانا قسم اس کے علاوہ

تاریخ وفا کی ہےرقم خونِ جگر سے

کتنے ہیں مگر اہلِ قلم اس کے علاوہ

صد شُکر کہ بدلا ہے مِرا اُس نے مقدّر

اللہ تعالیٰ کا کرم اس کے علاوہ

ہیں دوست مگر کیسے کریں اُن پہ بھروسا

دیتے ہیں ہمیں روز بھرم اس کے علاوہ

شاید کہ کبھی لَوٹ کے آجائے ندیم ؔاب

اس دل کو یقیں کتنا ہے کم اس کے علاوہ