• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارت میں یورینیم پر ریاستی عدم کنٹرول نے کئی سوالات کو جنم دیا


کراچی / اسلام آباد (ٹی وی رپورٹ / نمائندہ جنگ)بھارتی ریاست مہارشٹرا میں غیر مجاز افراد سے 7کلو گرام سے زائد نیچرل یورینیم کی برآمدگی نے اس انتہائی حساس ریڈایکٹو مواد پر ریاستی کنٹرول کے حوالے سے کئی سوالات جنم دیے ہیں۔

مہاشٹرا میں پانچ مئی کو دو افراد کے قبضے سے سات کلو سے زائد نیچرل یورینیم برآمد کیا گیا،اس قبل 2016میں بھارتی پولیس میں تھانے کے علاقے میں دو افراد کو گرفتار کر کے ان کے قبضے سے آٹھ کلو گرام خام یورینیم برآمد کیا۔ 

پاکستان نے بھارت میں اسمگلروں سے ایٹم بم میں استعمال ہونے والی یورینیم مواد برآمد ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔دفترخارجہ سے جاری بیان میں پاکستان نے کہا ہے کہ بھارت میں 7 کلوگرام قدرتی یورینیم (ایٹم بم میں استعمال ہونے والے مواد) کے ایک غیر مجاز شخص سے قبضے میں لیے جانے پر کئی سوالات نے جنم لیا ہے۔

پاکستان کو بھارت میں 7 کلوگرام قدرتی یورینیم قبضے میں لیے جانے کی اطلاعات پر شدید تشویش ہے۔پاکستان کا کہنا ہے کہ ایٹمی مواد کی حفاظت تمام ممالک کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ ایٹمی مواد بھارت میں ایک عام شخص سے ملنا عجیب بات ہے۔

بھارتی حکام معاملے کی جامع تحقیقات کروائیں۔پاکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ بڑی مقدار میں حساس ایٹمی مواد ریاست کے کنٹرول سے باہر کیسے نکلا؟ بھارت اس کی شفاف تحقیقات کرائے اور بھارتی حکام ان وجوہ کی بھی نشاندہی کریں جن کے باعث قدرتی یورینیم چوری ہوا۔

ماہرین کے مطابق دہشت گرد حساس تابکاری مواد کو کسی بھی روایتی ہتھیار سے جوڑ کر دھماکہ کرسکتے ہیں جسے ڈرٹی بم کا نام دیا گیا ہے۔ماہرین کے مطابق ڈرٹی بم دھماکے کے نتیجے میں نقصان اگرچہ ایٹم بم جتنا نہیں ہوگا تاہم بم پھٹنے کے مقام اور نزدیکی علاقوں میں تابکاری اور طویل آلودگی کے امکانات ہوں گے ۔

ڈرٹی بم میں استعمال ہونے والا تابکاری مواد بہت زیادہ خالص نہیں ہوتا بلکہ یہ کسی بھی ادویات یا انڈسٹری میں زیراستعمال مواد سے حاصل کیاجاسکتا ہے ۔

لو اور ہائی پاور نیو کلیئر ری ایکٹرمیں استعمال ہونے والا 21 کروڑ بھارتی روپے مالیت کا سات کلو گرام سے زائدیورینیم کا بھارتی حکومتی گرفت سے باہر عام لوگوں کے ہاتھ لگنا خود بھارت اور IAEA (انٹرنیشنل اٹامک ایجنسی) کے لئے بھی لمحہ فکریہ ہے ۔

بھارت میں اجتماعی و انفرادی یورینیم چوری اور اسمگلنگ کے درجنوں واقعات ہو چکے جن پر امریکہ اور ایٹمی دہشت گردی سے بچاؤ کے ادارے سمیت کئی ممالک اپنی تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔

رواں سال تیرہ مارچ کو نیپال میں ایک شخص سے ڈھائی کلو یورینیم پکڑا گیا، جسے بھارت سے اسمگل کیا گیا تھا۔ اس قبل دو ہزار سولہ میں بھارتی پولیس میں تھانے کے علاقے میں دو افراد کو گرفتار کر کے ان کے قبضے سے آٹھ کلو گرام خام یورینیم برآمد کیا۔

اہم خبریں سے مزید