• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
فکر فردا … راجہ اکبردادخان
آج جب بیرونی ممالک کی پاکستان کے اندر دہشت گردی بڑھ رہی ہے اور افغان بارڈر پر افواج پاکستان ملکی سرحدوں کو محفوظ بناتے وقت متواتر دشمنوں کی گولیوں کا نشانہ بن رہی ہیں، جب ہم کئی برسوں سے بلوچستان میں امن قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہورہے، جب افغان، ایران بارڈر پاکستانی سیکورٹی کے لیے ایک خوفناک شکل اختیار کرچکا ہے، جب بظاہر ہر کوئی ایک ہی پیج پر ہے جو دونوں اعلیٰ ترین اداروں کا مشترکہ بیانیہ ہے مگر اس کے ثمرات ڈیلیور نہیں ہورہے، ماسوائے اس کے کہ حکومت کسی نہ کسی طرح چل رہی ہے، عدم تحفظ کی یہ صورت حال پاکستانی عوام کے لیے تشویش کا سبب ہے، یہ واقعات ثابت کررہے ہیں کہ پاکستان کے لیے زمین تنگ کی جارہی ہے، مغربی یورپ میں یورپین یونین کی طرف سے نئے معاملات اٹھاکر پاکستان کو اقتصادی نقصان پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے اور یہ ثابت کیا جارہا ہے کہ ہم ایک انتہا پسند ملک ہیں جس سے مغربی ممالک کو بالخصوص دور رہنا چاہیے، ایک پرانا موضوع ہے جس پر کئی بار اعلیٰ ترین سطح پر گفتگو ہوچکی ہے اور دنیا ہمارے موقف سے آگاہ ہے۔ فرانس کے سفیر کو ملک سے نکال دینے سے فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوگا اور ایسے ہونے سے پورے یورپ اور مغربی دنیا میں پاکستان اور اسلام دشمن جذبات میں اضافہ ہوجائے گا۔ فرانس اور جرمنی دو ایسے ممالک ہیں جنہیں دنیا یورپین یونین کے دو اہم ستون سمجھتی ہے اور اکثر اہم معاملات میں ان دو ممالک کی رائے ہی پر دوسرے 26 ممالک چلتے نظر آتے ہیں۔ حالیہ پاکستان مخالف قرارداد جس میں یورپین یونین پلس اسٹیٹس کو دوبارہ دیکھنے کی بات کی گئی ہے اور جس بھرپور انداز میں اس قرارداد کو حمایت ملی ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمارے دشمنوں نے اس حوالہ سے بھرپور محنت کرکے ایک بڑے یورپی بلاک میں ہمارے لیے حالات مشکل بنادیے ہیں۔گستاخانہ خاکوں کے حوالہ سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کا احترام تمام انسانیت پر واجب ہے۔ تاہم مغربی ممالک میں رائے عامہ کو یہ سمجھانے کے لیے ابھی تک نہ ہی منظم کوششیں ہوئیں کہ یہاں بسنے والی مخلوق ہماری طرح تمام انبیا کی تکریم کا خیال رکھے اور نہ ہی مسلم ممالک کی معقول تعداد نے متحد ہوکر بین الاقوامی فورمز سے آواز بلند کی ہے۔ دنیا کے مسلمانوں کو اپنے حکمرانوں کو اس طرف مائل کرنا ہوگا اور مائل کرنے کے لیے دلیل سے کام لینے کی ضرورت ہے، نہ کہ پرتشدد کارروائیوں کی۔ حال ہی میں اس حوالہ سے جس طرح ملک کو بند کردیا گیا، اس سے اس مسئلہ پر ہماری دلیل پیچھے چلی گئی اور مغرب میں پاکستان دشمن ماحول مزید مضبوط ہوگیا ہے، حکومت اپنے سفارت خانوں کے ذریعہ ان ممالک کے پارلیمنٹرینز سے ایک ڈائیلاگ قائم کرنے اور ملک کے اندر انتظامی طور پر یقینی بنائے کہ ہر حصہ میں قانون پر درست انداز میں عمل ہو اور کوئی بھی انتقام کا نشانہ نہ بنے۔ ان معاشروں میں جہاں تعلیم عام ہو اور فلاحی ریاستیں ہوں، وہاں لوگوں کے ذہن بدلنے مشکل ہوجاتے ہیں۔ تاہم ابھی وقت ہے کہ ایک بھرپور سفارتی مہم کے ذریعہ مزید نقصان کو بچایا جائے، ورنہ ہم مشکل میں ہیں، وہ لابی جو مسئلہ کو سفیر کی واپسی سے جوڑ کر بائیں کروڑ مسلمانوں کی ترجمان بننے کی کوشش میں ہے۔ ایک غیر حقیقی دنیا میں بستی ہے جو حقیقت میں ایک اقلیت سوچ ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ اپنے پیروکاروں کو نام مصطفی پر باہر لانے میں کامیاب ہوجاتے کیونکہ اس نام کی عزت محفوظ کرنے کے لیے مسلمانوں کی بھاری اکثریت ہر کارخیر میں حصہ لینے کے لیے تیار ملتی ہے۔ تاہم ناموس رسالت کے تحفظ کے حوالہ سے مسلم رائے عامہ اور ریاستیں تاحال وہ ماحول تیار نہیں کرپائیں جہاں ہم سے اختلاف کرنے والے بھی ہمارے ہم آواز بن جائیں، غیر اسلامی دنیا میں ایک دہائی قبل کی نسبت آج اس مسئلہ پر بہتر آگاہی ہے، یقینی طور پر وزیراعظم عمران خان متعدد دیگر مسلمان حکمرانوں کے ساتھ اس مسئلہ پر ایسی پوزیشن اختیار کررہے جس سے ہمارے ملک میں حالات بہتری کی طرف چل پڑیں گے۔ حکومت کو دوسرے جن اہم چیلنجز کا سامنا ہے، ان میں عدلیہ سے جاری کشمکش اور بیورو کریسی کا سیاسی انتظامیہ سے عدم تعاون ایسے معالات ہیں جو تبدیلی سرکار کو اپنا مینڈیٹ ڈیلور کرنے کی راہ رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ پی ٹی آئی کو حکومت تو ملی مگر وہ اپ نے وعدوں کے مطابق ڈیلیور نہیں کرسکی کیونکہ 40 سالہ نظام اتنا مضبوط ہوچکا ہے کہ اسے توڑنا تو دور کی بات ہے، اس میں کیلس ڈالنی بھی مشکل ہورہی ہیں۔ اسی نان ڈیلیوری کی وجہ سے عام پاکستانی مہنگائی اور دوسرے مشکلات سیے باہر نہیں نکل پا رہا، حکمران جماعت ضمنی انتخابات بھی ہار رہی ہے، مگر حکمران محو خواب خرگوش ہیں۔ حکمرانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ جب کسی ملک کی معیشت بیٹھ جاتی ہے (جس کے ہم بالکل قریب ہیں) تو وہ ملک قائم نہیں رہ سکتے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ملک کو دیکھنے والے تمام اہم ادارے خواہ وہ عسکری قیادت ہو، اعلیٰ عدلیہ ہو، سیاسی حکومت ہو، کو مل بیٹھ کر اس خوفناک صورت حال پر بات کرنی چاہیے جو ملک کو درپیش ہے۔ ہم ایک نیو کلیئر قوت بھی ہیں۔ ایک غیر فعال جمہوری ملک بھی ہیں۔ ایک ولولہ انگیز قوم کا دعویٰ بھی کرتے ہیں۔ تاہم جس طرح ہمارے دشمن ہم پر کئی حوالوں سے چھائے ہوئے ہیں اور جس طرح ریاستی بقا کا ایشو ہمہ وقت ہمارے ذہنوں پر چھایا ہوا ہے اور جس طرح ہمارے دشمن ہمیں حقارت کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں، اس سے ظاہر ہورہا ہے کہ نظام اس حکومت کی کامیابی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ دوسری طرف حکومت اتنی مضبوط نہیں کہ وہ نظام کو مات دے سکے، تین سال تقریباً مکمل ہوچکے ہیں، نظام کے تمام حصہ داران متفقہ طور پر ان تمام اقدامات پر رضامند ہوجائیں۔ جن کے طفیل اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے نمٹ لیا جائے تاکہ ملک کی سرحدیں بھی محفوظ رہیں اور حکومت کو کام کرنے کے لیے محفوظ ماحول میسر آجائے۔ جن اداروں کے ناچیز نے نام لیے ہیں کی طرف سے ایسی کوشش ریاست کو ایک این آر او بھی کہا جاسکتا ہے جو ریاستی استحکام کی طرف ایک ضروری قدم ہوگا۔ 
یورپ سے سے مزید