• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
حرف و حکایت … ظفرتنویر
اُس کا خیال ہے کہ جس طرح کبھی کھبار ہمیں کسی گاڑی میں کسی مینوفیکچرنگ فالٹ (تعمیر کے دوران کوئی نقص رہ جانا) کی اطلاع دی جاتی ہے بالکل اسی طرح ہماری تعمیر میں بھی کوئی مینوفیکچرنگ فالٹ رہ گیا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستانی ،کشمیری دنیا کے کسی بھی خطے میں ہوں ان کی مثبت سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ کوئی نہ کوئی ایسا خربوزہ ضرور نکل آتا ہے جس کو دیکھ کر بہت سے دوسرے بھی اس رنگ میں ڈھل جاتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک سرے سے دوسرے سرے تک تھو تھو شروع ہوجاتی ہے اب خلیجی ممالک سے مزدوری کرکے عید کیلئے گھر لوٹنے والے مسافروں کو ہی دیکھ لیجئے کورونا کے گہرے ہوتے سایوں میں اپنے بچوں کیلئے عید کی خوشیاں لانے والے مسافروں میں بعض ایسوں کا بھی انکشاف ہوا ہے جن کے پاس کورونا ٹیسٹ کی جعلی رپورٹس تھیں، پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اس امر کا انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب ایسے ٹیسٹوں کیلئے صرف تصدیق شدہ لیبارٹریز کے ٹیسٹ ہی تسلیم کئے جائیں گے ،یہ میوفیکچرنگ فالٹ نہیں تو اور کیا ہے کہ عین اسی قسم کے ہتھکنڈے اس سے پہلے برطانیہ میں بھی استعمال ہوتے ہوئے دیکھے گئے ان کے پیچھے بھی پاکستانی بھائی ہی تھے جن لوگوں کو اپنے بیوی، بچوں اور بوڑھے والدین کی سلامتی کی کوئی فکر نہیں اور جو یوں جعلی رپورٹس کے سہارے منہ اٹھائے اپنے گھروں میں گھس کر یہ جتانا چاہتے ہیں کہ وہ بچوں کی خوشیوں کیلئے آئے ہیں ان سے زیادہ کم عقل کون ہوسکتا ہے، ہم پاکستانی،کشمیری جنہوں نے برطانیہ کو اپنا مستقل گھر بنا رکھا ہے ان کو دیکھیں (میرے سمیت) تو یقین سا ہوجاتا ہے کہ ہماری تعمیر میں کوئی کمی رہ گئی ہے کوئی نقص رہ گیا ہے ،جرم کا وہ کون سا میدان یا گوشہ ہے جس میں ہم نے اپنے نشان نہیں چھوڑے، چھوٹے موٹے جرائم سے ہیروئن کی اسمگلنگ اور اس کی فروخت، انسانی جسموں کی خریدوفروخت، عصمت فروشی، دلالی، بینک فراڈ، کریڈٹ کارڈ فراڈ، انشورنس فراڈ، دھونس، اغوا، مارپیٹ اور غیر قانونی اسلحہ کے دھندہ تک ہر جگہ ہمارا نام لیا جاتا ہے، برطانوی آبادی میں ہمارا حصہ بمشکل ڈیڑھ فیصد ہے جب کہ جیلوں میں ہمارےلوگوں کی تعداد 14فیصد ہے، یہ وہ لوگ ہیں جن پر جرائم ثابت ہوگئے ہیں اور عدالتوں نے انہیں باقاعدہ سزائیں سنائی ہیں لیکن ہمارے اسی معاشرہ میں ہمارے ان لوگوں کی تعداد بھی ہزاروں سے کم نہیں جو روز کسی نہ کسی شکل میں جرم کرتے ہیں لیکن ابھی تک قانون کے شکنجہ میں آنے سے محفوظ ہیں ان میں اکثریت تو ایسے لوگوں کی ہے جو اپنے ہاتھوں سے سرزد جرم کو جرم سمجھتے ہی نہیں، ایسے لوگ عام دکانوں پر بھی دیکھے جاسکتے ہیں، کسی ریستوران یا ٹیک اوے کو چلاتے ہوئے بھی پائے جاتے ہیں، سیاست کرتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں اور مسجد کمیٹیوں کے ذمہ داران بھی ہیں، بات پھر وہی مینوفیکچرنگ نقص کی ہے، برطانیہ جیسے معاشرہ میں پاکستان نژاد جعلی ڈاکٹر بھی پکڑے گئے، بچوں اور عورتوں سے جنسی زیادتی کرنے والے مولوی بھی دھر لئے گئے ،ایک دن ایک اچھا بھلا پاکستانی بینک افسر ہوتا ہے اور دوسرے روز اپنے ہی کھاتے داروں سے فراڈ کرنے کے الزام میں عدالت کے کٹہرے میں کھڑا ہوتا ہے، برطانیہ جو اب ہمارا (اڈاپڈڈ) ملک ہے اس میں حکومتی معاملات اور روز مرہ کے مسائل کے حل کی ذمہ داریاں مقامی حکومتوں پر ہوتی ہیں، مقامی حکومتوں سے مراد وہ لوکل کونسلیں ہیں جنہیں پاکستان میں بلدیاتی ادارے کہا جاتا ہے ،تعلیم سے لے کر مقامی ٹیکسوں تک سب ان کونسلوں کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، اس وقت برطانیہ بھر کی کونسلوں میں رنگدار کونسلرز کی تعداد ایک ہزار سے کچھ زیادہ ہے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق ان میں سے تقریباً 700کونسلرز پاکستانی،کشمیری نژاد ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جن پر اپنے اپنے علاقہ ،اپنی اپنی وارڈز اور اس میں بسنے والے لوگوں کی فلاح کی ذمہ داری ہوتی ہے لیکن اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ ان پاکستانی،کشمیری کونسلرز کی اکثریت صرف ایک ٹائٹل اپنے نام کے ساتھ جوڑنے کیلئے کونسلر بنتی ہے اور انہیں عوام کی فلاح کا تو کیا احساس ہونا اپنی نیک نامی کا بھی خیال نہیں ہوتا، ہر شہر میں یا ہر کونسل میں صرف دوچار ہی ایسے کونسلر ہوتے ہیں جنہیں نہ صرف اپنی ذمہ داریوں کا علم ہوتا ہے بلکہ وہ اسے نبھانا بھی جانتے ہیں، دور کیوں جائیں جس شہر میں رہتا ہوں اس میں کونسل کے کُل اراکین کی تعداد 90ہے جن میں سے 29ایشیائی ہیں اور ماسوائے ایک کے باقی تمام کے تمام پاکستانی،کشمیری نژاد ہیں لیکن شاید ان میں سے آدھے سے زائد ایسے ہوں گے جو صرف اپنے شوق کیلئے یا اپنی برادری میں اپنی ناک اونچی کرنے کیلئے کونسلر کی ذمہ داریاں (اور اس کی تنخواہ) سنبھالے ہوئے ہیں، ہمارے زیادہ تر ایشیائی کونسلرز کا حلقہ انتخاب اندرون شہر ہے اور پورے ڈسٹرکٹ میں صفائی کا سب سے ناقص انتظام، اسٹریٹ لائٹس کی کمی اور بڑھتے ہوئے فاسٹ فوڈ کے کھوکھے، دکانیں اور ٹیک اوے بھی ان ہی علاقوں میں ہیں، ہہ اور کچھ کریں یا نہ کریں البتہ شہر کی گندگی میں خوب اضافہ کر رہے ہیں، یہ سب کچھ مینوفیکچرنگ فالٹ نہیں تو پھر کیا کہلائے گا۔
یورپ سے سے مزید