• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لاہور پولیس کے ہاتھوں ہونے والے سلوک کا نوٹس لیں،تاجر

پشاور(وقائع نگار)پشاور کے قیمتی پتھروں کے تاجر منظورحسین نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلی محمود خان سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کے ساتھ لاہور پولیس کے ہاتھوں ہونے والے سلوک کا نوٹس لیں اورانہیں انصاف دلائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پشاور کے تاجروں کے ساتھ پنجاب میں چوریاں اورچوری کے بعد پولیس کی ناانصافیاں جاری رہیں تو کوئی تاجر پنجاب کے ساتھ اپنا کاروبار جاری نہیں رکھ سکے گا ایک بیان میں سرکی گیٹ پشاورکے قیمتی پتھروں کے تاجر منظورحسین نے کہا کہ وہ 25 مارچ کو لاہور سے فیصل موورز کے بس اڈے سے پشاور کیلئے روانہ ہوئے اورانہوں نے اپنے پاس سامان سے بھرا بیگ جس میں ایران سے لائے ہوئے قیمتی پتھر اوربہت سارا دیگر قیمتی سامان اورنقدی تھی وہ بس انتظامیہ کے حوالے کرکے ان سے اس کا ٹیگ حاصل کیا اوربس میں سوار ہوگئے تاہم جب وہ پشاور پہنچے تو ان کا بیگ بس سے غائب تھا وہ پھر لاہور پہنچے جہاں پر فیصل موورز کےسی سی ٹی وی کیمروں میں موجود فوٹیج میں نظر آیا کہ بس کے روانہ ہونے سے پہلے ہی وہاں موجود تین جوان اس کا بیگ اٹھا کر بھاگ گئے ہیں۔ یہ سی سی ٹی وی فوٹیج اوراس کے علاوہ بس اڈے ہی کے دوسرے کیمرے کی وہ فوٹیج بھی پولیس کو دی گئی جس میں وہ چور واضح طور پر پہنچانے جاسکتے ہیں تاہم اتنے دن گذرنے کے بعد پولیس نے اس سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظرآنے والے ملزموں کو پکڑنے کے لئے کوئی کاروائی نہیں کی ۔ منظورحسین کا کہنا تھا کہ بیگ کی گمشدگی کا پتہ چلنے پر اس نے مقامی پولیس اسٹیشن نواں کوٹ میں ایف آئی آر درج کرانے کی کوشش کی تاہم اس میں کامیابی نہ ہوسکی اورپولیس نے تمام تر ثبوت دیکھنے کے بعد بھی ساتویں دن یعنی 31 مارچ کو ایف آئی آر درج کی اوریہی وہ دن تھا جب بس انتظامیہ نے پولیس کو وہ تمام ویڈیو اورتصویریں فراہم کیں جس میں ملزمان واضح طور پر دیکھے جاسکتے ہیں اورخود مجھے بھی وہ تصویریں دکھائی گئیں۔دن گذرتے گئے لیکن پولیس کی جانب سے اب تک کوئی کاروائی عمل میں نہیں آئی، ہم نے پولیس کو وقتا فوقتا مختلف ریمائنڈر دیے اورمتاثرین کو پنجاب پولیس کی جانب سے فراہم کئے گئے ای میل ایڈریس پر بھی درخواستیں بھیجیں اور متعلقہ ایس ایچ او صدیق بوٹہ صاحب اورتفتیشی افسر اے ایس آئی میاں طارق محمود سے بھی بار بار رابطہ کرکے ان سے استدعا کی کہ وہ ملزموں کو پکڑنے کے لئے کوئی کاروائی کریں تاہم ابھی تک ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔ ہرگذرتے دن کے ساتھ میری پریشانی میں اضافہ ہورہا ہے پہلے تو مجھے یہ تسلی تھی کہ ملزمان کی شناخت ہونے کے بعد پولیس ان کو پکڑے گی اوران سے برآمدگی کرے گی تاہم پولیس کا رویہ مسلسل مشکوک ہے کہ وہ کیوں شناخت شدہ ملزمان کو بھی گرفتار نہیں کررہی اوران سے میرا سامان جس کی مالیت ساڑھے سترہ لاکھ روپے ہے وہ برآمد نہیں کررہی۔ آپ سے استدعا ہے کہ براہ کرم پنجاب حکومت اورپولیس سے رابطہ کرکے میری داد رسی کریں۔
پشاور سے مزید