• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ کی تہذیب و ثقافت ہزاروں برس قدیم ہے۔دور حاضر کی سندھی ثقافت بھی شاندار ماضی کا ایک تسلسل ہے، گو کہ اس پر دیگر ثقافتوں کے اثرات بھی پڑتے رہے ہیں، مگر بنیادی شکل برقرار رہی ہے۔ سندھی ثقافت میں زبان و ادب، قدریں، اوڑھنا، بچھونا، کھانا پینا، رسم و رواج، راگ رنگ وغیرہ منفرد حیثیت کے حامل ہیں۔ ہم یہاں پر صرف سندھی ثقافتی لباس کو اپنا موضوع بنائیں گے۔

سندھی روایتی لباس میں شلوار قمیض، اجرک، ٹوپی، پگڑی اور گج (یہ خواتین کی ایک قسم کی قمیض ہے) وغیرہ شامل ہیں۔ مردانہ شلوار قمیض اور زنانہ شلوار قمیض نہ صرف ایک دوسرے سے مختلف ہیں بلکہ پورے پاکستان کے لوگوں میں یکساں ہیں۔ پگڑی کا رواج بھی پورے ملک میں ہے مگر اس کے انداز، رنگ و ڈھنگ میں فرق نظر آئے گا۔ عام طور پر پگڑی سفید رنگ، خصوصی طور پر بوسکی پسند کی جاتی ہے۔ 

رلی بھی سندھی ثقافت کا حصہ ہے، جو چارپائی پر بچھائی جاتی ہے۔ سندھی روایتی لباس میں اجرک اور ٹوپی کو نمایاں حیثیت حاصل ہے۔ اجرک ایک قسم کی چادر ہے جس کی پرنٹ کے آثار موہن جودڑو سے ملنے والی King Priest کی مورتی سے بھی ملے ہیں۔

مورتی ایک چادر پہنی ہوئی ہے جو اجرک کے ساتھ مماثلت رکھتی ہے۔ سندھی ٹوپی میں محراب بنی ہوئی ہے جس سے پیشانی ظاہر ہوتی ہے جس کی وجہ سے سجدے کے دوران میں نماز کے آداب اچھی طرح سے ادا ہو جاتے ہیں۔ ٹوپی کی اس بناوٹ سے اسلامی تہذیب کے اثرات کا ثبوت ملتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ابتدا میں ٹوپی کی شکل یہ نہ ہو۔

سندھ میں اسلام آنے کے بعد یہ تبدیلی لائی گئی ہو! اب ٹوپی اور اجرک پر سندھ کے تمام قبائل اور تمام مذاہب اور مکتبہ فکر کے لوگ متفق ہیں اور سب پہننے میں اپنی شان و شوکت سمجھتے ہیں۔گو کہ ٹوپی بلوچستان، خیبر پختون خواہ اور پنجاب کے لوگ بھی پہنتے ہیں مگر عام طور پر اسے سندھی ٹوپی کہا جاتا ہے۔ بلوچ اور پختونوں کی ٹوپی سندھی ٹوپی سے قدرے مختلف ہوتی ہے۔

سندھ کا ایک تو زمینی جغرافیہ ہے، دوسرا ثقافتی جغرافیہ۔ زمینی جغرافیہ پر صوبائی حکومت راج کرتی ہے جبکہ ثقافتی جغرافیہ میں سندھی زبان، ادب اور ثقافت رائج ہیں۔ ثقافتی حدود میں بلوچستان کا بڑا حصہ پنجاب کی سرائیکی پٹی، بھارت کے راجستھانی و سرحدی علاقے اور ایران کے کچھ قبائل شامل ہیں۔ ان علاقوں میں سندھی زبان بھی بولی جاتی ہے تو اجرک اور ٹوپی بھی پہنی جاتی ہے۔

یہاں کے لوگ اجرک اور ٹوپی کو اپنی ہی ثقافت مانتے ہیں۔ اجرک اور ٹوپی کی مختلف اقسام ہیں۔ اجرک، لال اور نیلےرنگ کی اس چادر میں ستارے بنائے جاتے ہیں۔ یہ خوبصورت سی چادر عام استعمال کے علاوہ خوشی اور غمی میں بھی اوڑھی جاتی ہے۔ جب کوئی خاص مہمان آتا ہے تو اسے ٹوپی اور اجرک پہنائے جاتے ہیں۔ اسی طرح مختلف مواقع پر تحفے پیش کئے جاتے ہیں۔ اجرک پگڑی کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

جب کوئی انسان ہم سے بچھڑ جاتا ہے تو اجرک میت پر ڈالی جاتی ہے۔ گویا یہ چادر ہمارے دکھ سکھ کی ساتھی ہے۔ روایت ہے کہ اجرک کا تحفہ حضرت محمدﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو انہوں نے اس کی بڑی تعریف کی اور پسند فرمایا۔

اجرک سازی بہت ہی مشکل کام ہے۔ روایتی اجرک بنانا ایک بڑا ہنر ہے۔ یہ مخصوص خاندانوں کا پیشہ ہے۔ اس کے لئے یہ لوگ عام طور پر کوئی مشین استعمال نہیں کرتے۔ لہٰذا وقت زیادہ لگتا ہے اور پیسا بھی زیادہ خرچ ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں عام چادر سے یہ قدر مہنگی ملتی ہے لیکن اس کے باوجود سندھ میں سب سے زیادہ یہی چادر اوڑھی جاتی ہے۔ اس کے مختلف سائز ہوتے ہیں۔ بچوں سے لے کر بڑوں تک کے سائز کی یہ چادر بنائی جاتی ہے۔ 

اس میں ایک تو روایتی چادر ہوتی ہے، دوسری مشین کی بنی ہوئی فینسی چادر۔ روایتی چادر کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور اس کے تقدس کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ کوئی بھی مرد اس کی دھوتی نہیں بناتا اور اسی طرح کوئی بھی خاتون اس کی شلوار نہیں بناتی۔ اگر ایسا کوئی کرے تو سندھ کے لوگ اس سے ناراض ہوجاتے ہیں۔ کبھی کبھار تو جھگڑے کی صورتحال بھی پیدا ہو جاتی ہے۔ یہاں کے لوگ اپنی ثقافت کو زندہ رکھنے کے لئے اپنی جان کا نذرانہ دینے میں دیر نہیں کرتے۔

ہر انسان اجرک اور ٹوپی پہن سکتا ہے۔ چاہے وہ کوئی بھی عمل کرتا ہو۔ مگر جب کوئی ٹی وی چینل ڈاکو کے کردار کو اجرک اور ٹوپی پہناتا ہے تو سندھ کے لوگ اپنے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہیں۔ عام طور پر خواتین اجرک کو چادر اور کرتے (شرٹ) جبکہ مرد پگڑی باندھنے کے علاوہ کندھے پر بھی رکھتے ہیں۔ اب تو ٹائی، واس کوٹ اور کوٹ بھی اجرک کے پرنٹ کے بنتے ہیں۔ روایتی اجرک سازی چونکہ ایک موروثی پیشہ ہے اس لئے زوال کا شکار ہے۔ یہ خاندان اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتیں اپنی اولاد کے علاوہ کسی اور کو منتقل نہیں کرتے اور روایتی طریقہ مشکل اور مہنگا ہونے کی وجہ سے زوال کا شکار ہے۔‘‘ (پاکستانی زبانوں کا لوک ادب، ص: 57، 58)

سندھی ثقافت کے فروغ میں ہر دور کے ادباء و شعراء نے اپنا اپنا کردار ادا کیا ہے مگر سب میں نمایاں کردار لوک شعراء کا ہے جنہیں سگھڑ کہا جاتا ہے۔ سلیقہ مند خاتون کو اردو،

سندھی، پنجابی اور دیگر زبانوں میں سگھڑ کہا جاتا ہے مگر ہمارے یہاں سندھی لوک شعرا، داستان و قصہ گو کو بھی سگھڑ کہا جاتا ہے جس کے معنی ہیں الفاظ کو خوبصورت انداز سے گھڑنے یا پرونے والا، یعنی تخلیق کار یا شاعر۔ عام طور پر یہ لوگ روایتی لباس پہن کر اپنی اوطاق یا بیٹھک میں کچہری یا اجلاس منعقد کر کے تخلیقات پیش کرتے ہیں۔ ان کی تخلیقات کو لوک ادب کہاجاتا ہے۔

قیام پاکستان سے قبل لگ بھگ ایک ہزار سال کی تاریخ میں جن لوگوں نے سندھی ثقافت کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کیا ان میں اکثریت ان سگھڑوں کی ہے جو زیادہ تر گمنام ہیں۔ جو نام تاریخ نے محفوظ کئے ہیں ان میں بھاگو بھان، جمن چارن، جلال کھٹی اور دیگر شامل ہیں جبکہ عام شعراء اور علماء میں حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی، حضرت سچل سرمست، مخدوم ابوالحسن ٹھٹوی، سامی اور دیگر شامل ہیں۔

قیام پاکستان کے بعد سیاست دانوں میں جناب جی ایم سید کا نام سرفہرست ہے، جو اعلیٰ پائے کے ادیب بھی تھے۔ انہوں نے بزم صوفیائے سندھ اور دیگر تنظیموں کے پلیٹ فارم سے سندھی ثقافت کی ترقی کیلئے بہت بڑا کام کیا۔ ان کے علاوہ ادبا اور شعرا میں سے ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ، شیخ ایاز، ڈاکٹر عبدالکریم سندیلو، ابراہیم منشی، نیاز ہمایونی، تجل بیوس، استاد بخاری اور دیگر نے اپنا اپنا حصہ ڈالا جبکہ سگھڑوں میں استاد محمد ملوک عباسی، عبدالرحمن مہیسر، بیڑو فقیر کنبھار اور دیگر نے کام کیا۔ سرکاری اور غیر سرکاری اداروں اور تنظیموں نے بھی سندھی ثقافت کے فروغ میں اپنا اپنا کردار ادا کیا ہے۔ ریڈیو پاکستان، پاکستان ٹیلی ویژن، محکمہ ثقافت حکومت سندھ، سندھی ادبی سنگت، سندھ گریجویٹس ایسوسی ایشن، سندھی ادبی بورڈ، مختلف اخبارات و رسائل نے بھی بھر پور کردار ادا کیا ہے۔

سندھی ثقافت اور لوک ادب کے حوالے سے قیام پاکستان کے بعد ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ نے بہت کام کیا ہے۔ وہ بین الاقوامی شہرت کے حامل محقق اور ادیب تھے۔ انہوں نے اجرک اور ٹوپی کے رواج کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ سندھی لوک ادب پر بہت بڑا کام کیا اور لوک ادب کو اکٹھا کرکے چالیس سے زائد ضخیم کتابوں میں محفوظ کیا۔