• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسرائیل جو کچھ فلسطین میں کر رہا ہے اُس تناظر میں دنیا بھر کے مسلمان ممالک کے حکمرانوں اور اُن کی افواج کی سردمہری کو دیکھیں یا ڈیڑھ ارب سے زیادہ مسلمانوں کی اُس بےبسی کو جو یہ سب کچھ ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں لیکن کچھ کرنے سے قاصر ہیں، اُن کے لئے اگر ذلت کا لفظ استعمال کیا جائے تو بھی کم ہوگا۔ مسلمانوں کو شاید ہی کبھی ایسی اجتماعی ذلت کا سامنا ہوا ہو جس کی تمام تر ذمہ داری اُن کی اپنی ہے۔ یہ سب اپنی کمائی کا نتیجہ ہے۔ جہاد کو بھلا دیا بلکہ اس کا نام لینے کو امریکہ و یورپ کو خوش کرنے کیلئے دہشت گردی سے جوڑ دیا، اسلام دشمنوں کی ایما پر اُمہ کے تصور کو تار تار کرنے کے لئے ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ جیسے نعرے کو تقریباً ہر مسلمان ملک کو رٹا دیا گیا تاکہ جب ایک ایک کرکے مسلمان ممالک کو نشانہ بنایا جائے تو دوسرے مسلمان ممالک صرف اپنے اپنے ذاتی مفادات کو دیکھیں اور سوچیں کہ ہمیں کیا پڑی ہے کہ ہم کسی دوسرے مسلمان ملک یا دنیا کے کسی بھی خطہ میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر بولیں۔ اس سوچ نے مسلمانوں کو سب کچھ ہوتے ہوئے بھی بزدل بنا دیا، ذلیل کر دیا، امریکہ و یورپ کی ایسی غلامی میں دھکیل دیا کہ اُن کے مفادات کے تحفظ کے لئے تو ہم لڑتے بھی ہیں، مسلمانوں تک کو بھی مارتے ہیں، اُنہی کے اسلام دشمن اتحاد کا حصہ بننے پر فخر بھی کرتے ہیں اور دوسرے اسلامی ممالک کو تباہ کرنے میں اُن کی مدد بھی کرتے ہیں، اپنے اپنے قوانین، تعلیمی نصاب اور کلچر کو بھی بدلتے ہیں، وہ جو کہتے ہیں کرتے ہیں، جس سے منع کرتے ہیں منع ہو جاتے ہیں لیکن پھر بھی وہ ناخوش۔ ایسی صورت میں مسلمان کیسی عزت، کون سی غیرت کے جاگنے کی توقع لگائے بیٹھے ہیں؟ اسرائیل نے مسجدِ اقصیٰ پر رمضان المبارک کی ستائیسویں شب کو حملہ کیا، فلسطینی علاقوں پر بمباری کرکے تباہی مچا دی اور سینکڑوں فلسطینیوں کو شہید کر دیا جن میں ستر سے زیادہ بچے بھی شامل ہیں لیکن کوئی مسلمان ملک، کسی مسلمان ملک کی فوج مظلوم فلسطینیوں کی مدد کے لئے نہ پہنچی۔ غزہ اور دوسرے علاقوں میں اسرائیلی حملے جاری ہیں۔ نہ گھر، نہ اسپتال، نہ اسکول کچھ محفوظ نہیں۔ اور وہاں ایسی صورتحال ہو چکی ہے کہ ایک باپ نے اپنے دو بچوں کو اپنے بھائی کے حوالے کردیا اور اُس کے دو بچوں کو اپنے پاس بلا لیا کہ اگر کوئی ایک خاندان بھی اسرائیل کی اس جارحیت کا شکار ہوتا ہے تو کم از کم اُس خاندان کا کوئی ایک بچہ تو زندہ بچ جائے۔ یہ واقعہ ہو یا ہر روز کئی کئی معصوم بچوں کی سامنے آنے والی لاشیں، یا فلسطینی عورتوں پر صیہونی فوجیوں کا تشدد، یہ تمام واقعات ابھی تک مسلمان ممالک کے حکمرانوں کے سوئے ہوئے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لئے ناکافی ہیں۔ مسلمان حکمرانوں اور افواج کی اس سرد مہری کو دیکھ کر کئی مسلمان اپنی دعاؤں میں اپنے رب سے غیبی مدد اور ابابیل بھیجنے اور ظالم اسرائیل کو تہس نہس کرنے کی دعائیں کرنے لگے۔ یہ دیکھتے ہوئے اور اس یقین کے ساتھ کہ دنیا بھر کے مسلمان، اُن کی حکومتیں، اُن کی افواج کوئی اسرائیل کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، اس اسلام دشمن ریاست نے اپنے سرکاری عربی زبان کے ٹویٹر اکاؤنٹ کے ذریعے ایک گستاخانہ ٹویٹ کیا جس میں طنزاً قرآن پاک کی سورۃ فیل (جس میں ابرہہ کی ہاتھیوں پر مشتمل فوج جو کعبہ کو ڈھانے آئی تھی اُس پر ابابیلوں کے حملے کا ذکر ہے) کو لکھ کر اُس کے ساتھ فلسطین پر تازہ اسرائیلی حملہ اور اُس سے ہونے والی تباہی کو ظاہر کرتی تصویر لگا دی۔ اسرائیل اس حد تک اس لئے گر گیا کہ اُسے یقین ہو چکا ہےکہ مسلمان، اُن کے حکمران، اُن کی افواج اب بھی نہیں بولیں گی۔ اگر دنیا بھر کے مسلمانوں، اُن کے حکمرانوں اور افواج خاموش ہیں تو فلسطین کے مسلمان تحسین کے مستحق ہیں کہ تمام تر مظالم کے باوجود وہ اسرائیل کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہیں، اسرائیل کی طرف سے ایف 16طیاروں اور جدید ترین میزائیلوں کے حملوں کا مقابلہ وہ بڑی جرأت اور بہادری کے ساتھ پتھروں کو اپنا ہتھیار بنا کے کر رہے ہیں۔ ظالم اسرائیل کو ظالم امریکہ کھل کر سپورٹ کر رہا ہے، جدید اسلحہ بھی اُسے فراہم کر رہا ہے جس سے فلسطینی بچوں، عورتوں سمیت سب افراد کو بےدردی سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس کے جواب میں پتھروں سے لڑنے والے فلسطینی پاکستان اور دوسرے ممالک سے مدد مانگ رہے ہیں، خود نہیں آتے تو اسلحہ ہی دے دیں کہ اپنا دفاع کر سکیں مگر شاید ہم یہ سب سننے، دیکھنے سے قاصر ہو چکے۔ ہم مسلمان ضرور ہیں لیکن ﷲ کا ڈر ہمارے دلوں سے نکل چکا، ہم تو امریکہ سے ڈرتے ہیں۔ اسلام تو ایسی صورتحال میں جہاد کا حکم دیتا ہے لیکن ہم امریکہ کی لونڈی اقوامِ متحدہ کے آگے ہاتھ پھیلائے بیٹھے ہیں کہ اسرائیل کو روکو، یہ جاننے کے باوجود کہ اقوامِ متحدہ میں جو قرارداد اسرائیل کے خلاف پاس ہو جائے اُسے امریکہ ویٹو کر دیتا ہے، مطلب یہ کہ مسلمانوں کو اور مارو، انہیں اور ذلیل کرو۔ اور ہم مار کھائے جا رہے ہیں، ذلیل ہوئے جا رہے ہیں۔ اس صورتحال میں ہماری دعائیں کیسے قبول ہو سکتی ہیں؟ آخر کب جاگے گا مسلمان؟

(کالم نگار کے نام کے ساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998)

تازہ ترین