• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تحریر: عالیہ کاشف عظیمی

ماڈل: زویا علی

ملبوسات: عطیفہ کلیکشن

آرایش:دیوا بیوٹی سیلون

عکّاسی:عرفان نجمی

لے آؤٹ: نوید رشید

یہ محبّت بھی ناں، کبھی تو لمحوں میں کسی نازک سے پودے کی مانند دِل کی زمین پر پھُوٹ کر پھرگھنا شجر بن جاتی ہے، کبھی عُمر بَھربھی دِل میں گِھر نہیں کرپاتی اور کبھی رفتہ رفتہ یوں اپنے حصار میں جکڑتی ہے کہ پھر جیتے جی اس سے رہائی نہیں ملتی۔ نور مہیندر سنگھ بیدی سحرنے بھی کیا خُوب کہا ہے؎ ’’محبّت کا ہوگا اثر رفتہ رفتہ …نظر سے مِلے گی نظر رفتہ رفتہ …شبِ غم کی طولانیوں سے نہ گھبرا …کہ اس کی بھی ہوگی سحر رفتہ رفتہ …نظر ان کی ایسے مِلی ہے کہ جیسے …ملائیں گے دِل بھی مگر رفتہ رفتہ …قفس سے رہائی تو مل جائے پہلے …نکل آئیں گے بال و پر رفتہ رفتہ …ابھی اس نے آنے کا وعدہ کیا ہے …چمکنے لگے بام و دَر رفتہ رفتہ‘‘۔اور یہ اس محبّت ہی کا اعجاز ہے، جو خود اپنے لیے اور کبھی کسی دوسرے کی نگاہ میں جچنے کے لیے خُوب بننے سنورنے کوجی مچلا جاتا ہے۔ ان دِنوں کورونا وائرس کی تیسری لہر کے پیش نظر بیش تر شادی ہالز بند ہیں، زیادہ تر گھروں، گلیوں ہی میں تقریبات کا انعقاد ہورہا ہے، تو لڑکیوں بالیوں کی سج دھج دیکھ کر یوں لگتا ہے، جیسے رنگوں، خوشیوں سے بام و دَر چمک سے رہے ہوں۔تو لیجیے،موقع محل کی عین مناسبت سے ایک خُوب صُورت سا انتخاب پیشِ خدمت ہے۔

ذرا دیکھیے،آف وائٹ رنگ جامہ وار غرارے کے ساتھ انگرکھا اسٹائل قمیص کیسی پیاری لگ رہی ہے۔قمیص اور غرارے پر ریڈی میڈ لیس کی آرایش ہے، تو اسی سے ہم آہنگ ٹیل رنگ دوپٹا بھی خاصا جچ رہا ہے۔ پھر سُرخ رنگ پیراہن،ڈاٹ پرنٹڈ سیمی افغانی شلوار،جامہ وارفیبرک میںقمیص، جس کے گلے پر انتہائی خُوب صُورت کام کیا گیا ہے،اسٹائلش لُک دے رہا ہے، تو چُنری پرنٹڈ دوپٹے اور آستینوں کے انداز کا بھی جواب نہیں۔

اسی طرح ساٹن سِلک میں کریم رنگ شرارہ، ٹیل رنگ ستارہ ورک سے آراستہ چولی اور پلین دوپٹا، جس کے اطراف میں کرن کی آرایش ہے، دِل کش انتخاب ہے،تو رائل بلیو اور سیاہ کے امتزاج میں اسٹرائپڈ سِلکی ساڑی بھی خوش گوار تاثر دے رہی ہے،جب کہ پٹا پٹی اسٹائل شرارے کے ساتھ باٹل گرین رنگ قدرے چھوٹی چولی اور سُرخ رنگ چُنری دوپٹےکے انتخاب کے تو کیا ہی کہنے۔

اگر عن قریب شادی بیاہ کی کوئی تقریب ہے، تو ان میں سے کوئی بھی رنگ و انداز منتخب کرلیں، عجب نہیں کہ کسی بھی دِل میں یہ آرزو جاگ اُٹھے؎ عکس آباد ہو تیرا مِرے آئینے میں۔