• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ریلوے کے وزیر کو 50 سال کی گندگی صاف کرنے دیں: اعظم سواتی

وفاقی وزیر ریلوے اعظم سواتی نے کہا ہے کہ ریلوے کا وزیر اپنی ذات پر وزارت کا ایک پیسہ خرچ نہیں کرتا، ریلوے کے وزیر کو کام کرنے دیں، 50 سال کی گندگی صاف کرنے دیں اور میں باقی وزراء کو بھی کہتا ہوں جو پبلک پرائیویٹ انٹرپرائز ہے ان پر محنت کریں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعظم سواتی نے کہا کہ 6 سے 9 مہینے تک پاکستان ریلوے بہت بڑے نقصان سے باہر نکل آئے گی، پاکستان ریلوے 50 سال کے خسارے کے بعد نقصان سے نکل جائے گی۔

اعظم سواتی نے کہا کہ ریلوے میں ایک بہت بڑا مسئلہ ملازمین کی پنشن کا تھا، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سب سے بڑا منافع بخش کام ہے جبکہ ریلوے کے ملازمین کے لیے 150 کالونیوں کا پلان وزیراعظم کا بھیج دیا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ پاکستان کی ریلوے زمین کو 70، 72 سال سے صفر آمدن ہورہی ہے، 50 ارب کا پراجیکٹ رائل پام جو نقصان میں جارہا تھا اس میں اب منافع ہوگا۔

اُن کا کہنا تھا کہ کراچی سے 18 ہزار کنٹینر نکلتے ہیں جو ٹرکوں میں جاتے ہیں، پاکستان ریلوے ملک کی اور آپ کی ملکیت ہے، پہلے دن کہا تھا میں ریلوے پر سیاست نہیں کروں گا۔

وفاقی وزیر ریلوے نے یہ بھی کہا کہ ریلوے کے افسران اور ریلوے پولیس نے لوگوں کے ساتھ مل کرقبضہ کروائے، اگر وزیر کا خرچہ صفر ہے تو میڈیا تھوڑا سا خیال کیا کرے، رائل پام کلب پر قبضہ مافیا براجمان تھا، سپریم کورٹ نے واگزار کروایا۔

اعظم سواتی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر سارا پراسس چلایا جارہا ہے، عوام کتنی خوش ہوگی کہ عمران خان کے دورمیں ریلوے خسارے سے منافع میں چلا گیا، ریلوے میں اب چوری، ڈاکا اور قبضہ نہیں ہورہا۔

اُنہوں نے کہا کہ کوئی مزدور مستقل نہیں ہوگا، میں مزدوروں کو مستقل کرنے کے حق میں نہیں ہوں جبکہ کراچی سے افغانستان سرحد تک کنٹینرکو ٹرین کے ذریعے پہنچایا جائے گا۔

وفاقی وزیر ریلوے نے کہا کہ ایم ایل ون منصوبے کی بڈنگ کی طرف جا رہے ہیں، ایم ایل ون منصوبے کا سنگ بنیاد جلد رکھیں گے۔

اعظم سواتی نے کہا کہ پانچ ماہ کا میں جوابدہ ہوں، اس سے پہلے کا میں جوابدہ نہیں۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ ریلوے کی نجکاری نہیں کی جارہی، ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ٹرینیں چلائیں گے۔

قومی خبریں سے مزید