• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اطہر اقبال

معنی:زبردسست کے مقابلے کے لیے اس سے زیادہ زبردست اور طاقتور موجود ہوتا ہے

ہاتھی اپنی زیادہ طاقت اور تمام جانوروں میں سب سے زیادہ عظیم الجثہ ہونے کی وجہ سے دوسرے جانوروں پر بہت ظلم کرتا تھا۔ اپنے سےکمزور جانوروں کو لمبی سی سونڈ میں لپیٹ کر زمین پر پٹخ دیتا، ستم رسیدہ جانور درد سے کراہتے، چلاتےہوئے وہاں سے اٹھ کر بھاگ جاتے۔ ایک روز جنگل میں کسی دوسرے علاقے سے ایک اور ہاتھی آگیا۔ یہ ہاتھی اس ظالم ہاتھی سے زیادہ طاقت ور اور لحیم شحیم تھا۔ لیکن اس کی ایک خاص بات یہ تھی کہ اسے اپنی طاقت پر غرور نہیں تھابلکہ وہ دوسرے جانوروں کے ساتھ نہایت محبت اور شفقت سے پیش آتا تھا۔ 

جنگل کےتمام جانور اس کے آنے سے بہت خوش تھے، وہ بھی سب کے ساتھ مل جل کر دوستوں کی طرح رہتا تھا۔ انہوں نے اس ہاتھی کواپنے اوپر ڈھائے جانے والے پہلے والے ہاتھی کے ظلم و ستم کےقصے سنائے۔ اس نے جنگل کے تمام جانوروں کو یقین دلایا کہ اب وہ ہاتھی کسی پر بھی ظلم و ستم نہیں کرسکے گا اور اس نے اگر ایسا کرنے کی ہمت بھی کی تو اس کی خیر نہیں۔ تمام جانور ہاتھی کی یہ بات سن کر نہایت خوش ہوئے۔ 

ادھر پہلے والے ہاتھی نے جب جنگل میں اپنے سے زیادہ بڑے اور قوی ہیکل ہاتھی کو دیکھا تو اس پر ہیبت طاری ہوگئی اور اس کے خوف سے اس نے جنگل کےجانوروں کو ستانا اور ان پر ظلم ڈھانا بند کردیئے، جس کے بعدتمام جانورچین و سکون کے ساتھ زندگی گزارنے لگے۔ سچ ہے ’’سر کو سوا سیر‘‘ یعنی جب اپنی طاقت پر گھمنڈ کرتے ہوئے کمزوروں پر ظلم ڈھانے والے کو اپنے سے زیادہ طاقت ور سے پالا پڑتا ہے تو اس کا سارا غرور خاک میں مل جاتا ہے اور اس وقت اسے اپنی اوقات کا پتا چلتا ہے۔