• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شہری، سول سوسائٹی اور میڈیا ہوشیار! آزادی اظہار پہ مارشل لائی طرز کی میڈیا پابندیاں لاگو کرنے کے لیے کرم خوردہ بندشوں کے پرانے نسخوں کو اکٹھا کر کے ایک مجوزہ آرڈیننس کے بم کی رونمائی کردی گئی ہے اور وجہ نزول کے لیے ایک خیالی پیپر بھی جاری کردیا گیا ہے۔ 

عذرِ گناہ بدتر از گناہ کے مصداق سہارا بھی لیا گیا ہے تو یورپین یونین، برطانیہ، آسٹریلیا اور امریکہ کے کمیونیکیشن کے ریگولیشنز کا ، جہاں آزادی اظہار پہ کسی طرح کی بندش گناہ کبیرہ سے کم نہیں۔ 

پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس میں بظاہر دسیوں اداروں اور ایجنسیوں کو یکجا کرکے تمام طرح کے میڈیا کو ہر ’’سہولت‘‘ فراہم کرنے کی آڑ میں ایک بڑے ہی طاقتور اور جابرانہ ادارے (Authority) کو ہر طرح کا اختیار تفویض کرنے کی سعی کی گئی ہے۔ 

آزادی اظہار کی تسلی کے لیے آرڈیننس کے ابتدائیہ میں شاعرانہ فصاحت سے کام لے کر طفلانہ تسلی دینے کے بعد آرڈیننس کے متن میں تمام طرح طرح کی بندشوں، سزائوں ، کلی اختیارات اور ذہنی شکنجے کسنے کے مکمل ترین انتظامات کردئیے گئے ہیں۔ بچا کوئی نہیں اور بچنے کا کوئی راستہ بھی نہیں چھوڑا گیا۔ 

اس میڈیا اتھارٹی کا دائرہ ہمہ گیر اور ہمہ طرف ہے۔ کیا اخبارات، کیا ٹیلی وژن، کیا ریڈیو، کیا سوشل میڈیا، کیا شہری آن لائن صحافت اور اظہار کی کوئی بھی صورت ‘دم توڑ جائے گی۔ 

میڈیا اور شہری میڈیا سے متعلق تمام تر ادارے ایک چھت تلے جمع کردئیے گئے ہیں اور ان کے تمام اختیارات اب ایک آہنی ہاتھ میں ہوں گے۔ اسی طرح تمام مروجہ قوانین اور ضوابط کی جگہ ایک ہی آرڈیننس کے آہنی ہاتھ میں ہوںگے۔ مختلف طرح کے میڈیاز کو کنٹرول کرنے کے لیے اس ہشت پا کے مختلف بازو ہوں گے۔ 

اس کی بنیاد اس گمراہ کن مفروضے پہ رکھی گئی ہے کہ میڈیا ریاست کا ایک ستون ہے اور میڈیا کے لیے اس کے ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کے بعد آزادی اظہار کے پلے کچھ نہیں بچتا۔ اس اتھارٹی کے قیام سے‘ جو حکومتی پالیسیوں اور احکامات کی پابند ہوگی کے ہاتھوں آزاد میڈیا کی تو گویا تدفین ہوجائے گی۔

تمام تر میڈیا کے لیے اس واحد میڈیا اتھارٹی کا چیئرمین گریڈ 21/22 کا افسر وفاقی حکومت مقرر کرے گی دیگر 5 اراکین بطور سرکاری اہلکار اس کے اراکین ہوں گے جن میں ایف بی آر، سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن اور وزارت داخلہ کے سیکرٹری پر مشتمل ہوں گے اور باقی چھ اراکین بھی وزیراعظم کے نامزد کردہ ہوں گے۔ 

گویا یہ اتھارٹی وزیراعظم کی حکومت کی نامزد کردہ ہوگی جس پر پبلک سرونٹس ہونے کے ضوابط لاگو ہوں گے۔ اس اتھارٹی کے اراکین الیکشن کمیشن کے اراکین کی طرح پارلیمنٹ میں دو طرفہ اتفاق رائے سے نامزد نہیں ہوں گے تاکہ یہ انتظامیہ سے آزاد نہ رہ سکیں۔

اس نوآبادیاتی طرز کی نوکر شاہی اتھارٹی جو انتظامیہ کا بڑا ہتھیار ہوگی کو ہر طرح کے اختیارات بھی تفویض کردئیے گئے ہیں۔ یہ اتھارٹی اخبارات، ٹیلی وژن، ریڈیو، آن لائن میڈیا، سوشل میڈیا اور بلاگرز کو لائسنس اور NOC دینے کی مجاز ہوگی جس کی کہ پہلے سکیورٹی کلیئرنس ہوگی جو قومی سلامتی کے ادارے کریں گے۔ ہر برس لائسنسز کی تجدید ہوگی اور پندرہ برس کے بعد از سر نو اجرا ہوگا۔ 

یہی لائسنس نیلام کرے گی، فیس لے گی، جرمانے کرے گی، سزائیں دے گی، سرکولیشن کا تعین کرے گی، ریٹنگ کا جائزہ پیش کرے گی، مواد کو چھانے گی اور رد کرے گی اور شہریوں کے گھروں میں گھس کر ان کے کمپیوٹرز اور کمیونیکیشن کے آلات برآمد کرے گی اور جانے کیا کچھ۔ اب اتنا سارا کام ایک چیئرمین تو کرنے سے رہا۔ 

اتھارٹی، ایک کمیشن نامزد کرے گی۔ مختلف میڈیاز کے لیے ونگز بنائے گی، شکایات کونسلز تشکیل دے گی اور خود ہی اپنا عدالتی نظام یعنی میڈیا ٹربیونلز تشکیل دے گی جس کے فیصلوں کے خلاف ہائیکورٹس کو اپیل سننے کا حق نہ ہوگا۔ 

مختلف طرح کی خلاف ورزیوں پر اس کے ٹربیونلز تین سال تک سزائیں اور اڑھائی کروڑ تک جرمانہ بھی کرسکیں گے۔ ادارے کے کرتا دھرتا بیوروکریٹس ہوں گے جن کی نکیل وزیراعظم اور ان کے وزیر اطلاعات کے ہاتھ میں ہوگی۔ اس اتھارٹی کا تصور ایک طرح سے مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے مرکزی آمرانہ اختیارات سے مستعار لیا گیا دکھائی دیتاہے۔ 

ہر طرح کا لیوریج اور آلہ ء کنٹرول اس اتھارٹی کو دے دیاگیا ہے۔ لائسنس ہو یا سرکولیشن، ریٹنگ ہو یا مواد، پالیسی ہو یا ضابطہ اخلاق، اشتہارات ہوں یا مراعات سب کچھ اس کے ہاتھ میں ہوگا۔

معاملہ فقط مصلوب شدہ روایتی اور غیرروایتی میڈیا کا نہیں، شہریوں کے حقِ اظہار اور حقِ جانکاری کا ہے۔ اب کوئی شہری اپنا بلاگ، وی لاگ یا سوشل میڈیا پہ اپنا کھاتہ کھولے گا تو اسے بھی لائسنس درکار ہوگا او راس کی سکیورٹی کلیئرنس بھی۔ 

قومی سلامتی کی ریاست میں شہریوں کا حق خود ارادیت یا حق رائے دہی ہی نہیں چھینا گیا، بلکہ اب حق اظہار بھی چھیننے کے بھاری بھرکم انتظامات کیے جانے ہیں۔ 

خوش بختی ہے کہ میڈیا کی تمام تنظیموں نے اسے متفقہ طور پر مکمل طو رپر مسترد کردیا ہے اور بار ایسوسی ایشنز، پی ایف یو جے اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے آزادی اظہار پہ ایک قومی کنونشن اسلام آباد میں طلب کرلیا ہے۔ 

ملک کی بڑی جماعتوں نے بھی اسے سختی سے رد کردیا ہے لیکن حکومت اور مقتدرہ اسے ایک آرڈیننس کے ذریعہ لاگو کرنے پہ تلی بیٹھی ہیں۔ پاکستان میں آزادی اظہار اور حق جانکاری، شفافیت اور احتساب کے لیے ایک ہمہ گیر مزاحمت اور جدوجہد کا تقاضہ ہے کہ تمام سول سوسائٹی، میڈیا کی تنظیمیں، وکلا اور محنت کشوں کی انجمنیں اور جمہوری عناصر متحد ہوکر اس نئے جابرانہ کنٹرول کے نظام کو بروئے کار لانے کی تمام تر کوششوں کا سدباب کریں۔ 

حق اظہار کے بغیر، شہری آزاد نہیں اور آزاد شہری کے بغیر جمہوریت نہیں، جمہوریت کے بغیر جمہوریہ نہیں اور جمہوریہ کے بغیر اقتدار اعلیٰ کے حامل رائے دہندگان نہیں اور آزاد و مقتدر عوام کے بنا کوئی ریاست نہیں۔

اب صدیوں کے اقرارِ اطاعت کو بدلنے

لازم ہے کہ انکار کا فرماں کوئی اترے

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

تازہ ترین