• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہانگ کانگ کے عوام، بشمول فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والوں کی اکثریت، اپنی علیحدہ شناخت کا تصور رکھتی ہے، یہی وجہ ہے، جب ہانگ کانگ میں کوئی کتاب لکھی جائے یا فلم بنائی جائے، تو اس کو الگ حیثیت میں، چین کی بجائے ہانگ کانگ کے حوالے سے ہی دیکھا جاتا ہے۔

پوری دنیا میں نوجوانوں کے لیے لکھے گئے ادب کو’’ینگ اڈلٹ لٹریچر‘‘ کہا جاتا ہے، یہ بھی ادب کی ایک صنف ہے۔ متذکرہ ناول نگار، جن کا ہم نے انتخاب کیا ہے۔ ان کا نام ’’جویوایکسی‘‘ ہے یہ چینی زبان میں نوجوان نسل کے لیے، اس مذکورہ صنف میں ناول نگاری کرتی ہیں، کچھ برس پہلے شائع ہونے والے ان کے ایک ناول نے، انہیں چینی زبان کی مقبول ترین ناول نگار بنا دیا ہے۔ اس ناول کا نام چینی زبان میں’’شائونین دی نی، رُس میل لی‘‘ ہے، جس کو انگریزی میں’’دی یوتھ فل یو واز سو بیوٹی فل‘‘ کا عنوان دیا گیا ہے۔ 

اس ناول کا چینی زبان میں پہلا ایڈیشن 2016کو معروف چینی اشاعتی ادارے’’بااوہویجو‘‘ نے چھاپا۔ ناول کی شہرت میں اس چینی اشاعت گھر کا بھی خاصا حصہ ہے، جس نے اس کو چینی زبان میں شائع کرنے کے ساتھ ساتھ، انگریزی زبان میں شائع کیا اور آن لائن مطالعہ کے لیے مفت فراہم کر دیا، یوں نوجوانوں کی بڑی تعداد نے اس کو پڑھا، جس سے اس کی مقبولیت بڑھی۔ مصنفہ اسی ادارے کے لیے مزید کئی کتابیں لکھ چکی ہیں اور وہ خود بھی نوجوان قارئین میں بہت مقبول ہیں۔

اس ناول کی مصنفہ بھی کچھ مختلف مزاج کی مالک واقع ہوئی ہیں، وہ اپنی تشہیر میں کہیں تصاویر کا استعمال نہیں کرتیں، یہی وجہ ہے، ان کی ساری مقبولیت کا محور، ان کا نام ہی ہے، بہت کم لوگ ان کو صورت سے پہچانتے ہیں، میں نے البتہ خاصی سنجیدہ تحقیق کے بعد ان کا کھوج لگایا ہے۔

ناول کا مرکزی کردار’’چِن نیان‘‘ ایک ایسی طالبہ ہے، جو ہائی اسکول میں پڑھتی ہے،کم گو اور شرمیلی ہے، اس کی ہم جماعت لڑکیاں، اسے اور اس کی ایک سہیلی کو مختلف طریقوں سے ہراساں کرتی ہیں۔’’چِن نیان‘‘ کی سہیلی، اس دبائو کے تحت اسکول کی عمارت سے کود کرخودکشی کرلیتی ہے۔ ان لڑکیوں کا اگلا ہدف یہ ہوتی ہے، مگر وہ کسی نہ کسی طرح، ان کے ہر حربے کو ناکام بنانے کی سعی کرتی ہے تاکہ وہ اپنے اسکول کا آخری سال مکمل کرکے، اگلے مرکزی تعلیمی مرحلے میں داخل ہوسکے۔ اس دوران’’چِن نیان‘‘ کی ملاقات ایک بے گھر لڑکے سے ہوجاتی ہے، جو اس کی مدد کو آتا ہے، پھر یہ معاونت کس طرح محبت میں ڈھل جاتی ہے۔ 

اس کہانی کے بیانیے میں، کرداروں کے مکالمات، زبان و بیان کا اتار چڑھائو، کیفیات اور کہانی کا کلائمکس انتہائی عمدہ ہے، جس میں جذباتیت کا رنگ نمایاں ہے، یہی وجہ ہے کہ نوجوانوں نے اس ناول کو پسند کیا۔ ادبی نقادوں کا کہنا ہے، چینی نظام زندگی، بالخصوص ہانگ کانگ میں طرز تعلیم، چینی امتحانات کا دبائو، اسکولوں میں ہونے والے منفی حالات ، جن کو اس ناول میں بیان کیا گیا، زمینی حقائق اس سے کہیں زیادہ سفاک ہیں۔ چینی ناول نگار’’جو یو ایکسی‘‘ کے اس ناول’’دی یوتھ فل یو واز سو بیوٹی فل‘‘ پر’’بیٹر ڈیز‘‘ بمعنی’’خوشگوار دن‘‘ کے نام سے فلم بنائی گئی، جس کی نمائش 2019 کے آخری مہینوں میں چین سمیت آسڑیلیا، امریکا اور مختلف یورپی ممالک میں ہوئی۔ 

انتالیسویں ہانگ کانگ فلم فیسٹیول میں اس فلم نے آٹھ ایوارڈز اپنے نام کیے، دیگر مختلف غیر ملکی فلم فیسٹیولز میں بہت سارے اعزازات سمیٹنے والی یہ فلم، ہانگ کانگ کی فلمی صنعت میں،وہ تیسری فلم ہے، جو 2021 کو، تریانوے آسکر ایوارڈز میں بہترین ’’بین الاقوامی فیچرفلم‘‘کے لیے بھی نامزد ہوئی۔ 

اس فلم کا اسکرین پلے تین مختلف اسکرپٹ نویسوں نے مل کر لکھا، جن میں مرکزی اسکرپٹ نویس’’لین یونگ چِن‘‘ خود بھی ناول نگار ہیں۔ فلم کے ہدایت کار’’ڈیرک سانگ‘‘ خود بھی نوجوان اور ذہین شخصیت کے مالک ہیں، ان کے والد’’ایرک سانگ‘‘ بھی ہانگ کانگ کے فلمی صنعت سے وابستہ، معروف اداکار، ہدایت کار اور شوبز کی مشہور شخصیت ہیں۔ اس فلم کی مرکزی اداکارہ’’زے ڈونگی‘‘ ہیں، جنہوں نے’’بیجنگ فلم اکادمی‘‘ سے گریجویشن کرنے کے بعد اپنا کیرئیر شروع کیا اور بہت کم وقت میں بے پناہ شہرت حاصل کرلی۔ ان کے معاون اداکار’’جیکسن یی‘‘ بھی نوجوان اداکار، رقاص اور معروف موسیقار ہیں۔