• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یورپی خارجہ امور کے سربراہ افغانستان کی صورتحال سے مایوس

یورپی خارجہ امور کے سربراہ جوزپ بوریل نے افغانستان کی موجودہ صورتحال کو مشکل قرار دیتے ہوئے اس پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

یورپی پارلیمنٹ میں افغانستان کے موضوع پر اپنا پالیسی بیان دیتے ہوئے اپنی گفتگو کے آغاز میں کہا کہ افغانستان ایک اور جگہ ہے جہاں امید پسندی کی گنجائش نہیں ہے یہ گنجائش نہ ہونے کے باوجود ہمیں ایسے ملک میں مصروف رہنا ہے جہاں عام شہریوں کی ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔ اور ان ہلاکتوں میں 40 فیصد خواتین یا بچے ہیں۔

انہوں نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ریاست ہائے متحدہ امریکا اور نیٹو افواج اس ملک سے انخلاء کرنے والی ہیں، یورپی ممبر ممالک کی فوجیں بھی چلی جائیں گی، امن کا عمل یہاں تعطل کا شکار ہے اور تشدد جاری ہے۔ سول سوسائٹی، میڈیا کارکنوں، سرکاری ملازمین کی ٹارگٹ کلنگ سمیت ہم عام شہریوں کی ہلاکتوں کی حیرت انگیز شرح دیکھ رہے ہیں اور مستقبل قریب میں اس تشدد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ افغانستان میں سلامتی کی صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے، طالبان نے ملک کے آدھے سے زیادہ علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور سمجھوتے کے امکانات کم ہوتے جارہے ہیں لہٰذا امن معاہدے کے قلیل مدتی امکانات تاریک نظر آتے ہیں۔

جوزپ بوریل نے اس موقع پر طالبان کا سیاسی جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ طالبان جانتے ہیں کہ افغان آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ ان کی سوچ کا ساتھی اور شریک کار نہیں اور مذاکرات سے متعلق امن تصفیہ کی عدم موجودگی میں نسلی اور مذہبی دراڑیں ابھر کر سامنے آسکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لہذا میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ یورپی یونین امن عمل کی حمایت اور افغان عوام کے ساتھ شراکت دار رہنے کیلئے ہر ممکن کوشش کرے گی۔

یورپی خارجہ امور کے سربراہ جوزپ بوریل نے کہا کہ پچھلی دو دہائیوں کے دوران ہم نے افغانستان کے استحکام اور ترقی کیلئے سیاسی اور مالی وسائل کی سرمایہ کاری کی ہے اسی دوران ہم نے اپنے فوجیوں کی بڑی تعداد میں جانیں بھی گنوا ئی ہیں لیکن ہماری مدد سے افغان خواتین کو بااختیار ہونے میں آسانی اور انسانی حقوق کی صورتحال میں بہتری آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس عرصے کے دوران افغان خواتین اس قرون وسطی کے زمانے سے نکلی ہیں جس میں وہ طالبان کے وقت میں تھیں، یہ تمام کارنامے اب خطرے میں ہیں کیونکہ افغانستان آج ایک دوراہے پر ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ ہمارے اسٹریٹیجک مفادات بھی داؤ پر لگے ہوئے ہیں، فوج کا آزادانہ انخلاء، افغانستان سے سیاسی اور سویلین امداد سے دستبرداری ہمارے مفادات کو پورا نہیں کرے گی، یہ ایک بار پھر افغانستان کو بین الاقوامی دہشت گردی کے عروج کی طرف لے جا سکتا ہے۔ یہ جبری نقل مکانی کا بھی سبب بن سکتا ہے، ایسی بے قاعدہ نقل مکانی جو اکثر اسمگلروں کے ہاتھ میں چلی جاتی ہے۔

اپنی 9 منٹ کی مسلسل تقریر میں انہوں نے طالبان کیلئے اپنا پیغام دیا کہ ہم اس پر واضح ہیں کہ جامع امن مذاکرات کے ذریعے طے شدہ سیاسی تصفیے کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل اور جامع جنگ بندی اور امن مذاکرات میں نمایاں پیش رفت کے بغیر طالبان کو پابندیوں سے نجات نہیں مل سکتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ افغان حکومت اور طالبان پر یہ واضح کرنا ہوگا کہ ہماری جانب سے مسلسل مالی اور سیاسی مدد ، ملک میں انسانی حقوق اور جمہوری تحفظ کیلئے مشروط ہے۔

ہم نے گزشتہ 20 سال میں 3.5 ارب ڈالر کی ترقیاتی امداد دی ہے۔ مستقبل میں بھی یہ تعاون جمہوریت، بہتر حکمرانی، خاص طور پر انسداد بدعنوانی، اور خواتین کو تعلیم اور سیاسی و معاشرتی زندگی تک رسائی پر ٹھوس پیش رفت سے مشروط ہوگا۔

اس موقع پر انہوں نے خواتین کی صورتحال کو بہت زیادہ بیان کیا اور اسے اپنے مسلسل تعاون کی ایک وجہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ خواتین کی تعلیم مہذب معاشرے کی اساس ہے۔ جب میں افغان لڑکیوں کو پینسل اٹھا کر کلاشنکوف کے بالمقابل نشان بناتے ہوئے دیکھتا ہوں تو میں سوچتا ہوں کہ ہم سب کو اپنا قلم افغان عوام اور افغانستان کے ساتھ ہی اٹھانا ہوگا۔

اپنے اختتامی ریمارکس میں یورپین خارجہ و سیکیورٹی امور کے سربراہ نے کہا کہ افغان اسکولوں میں 30 لاکھ لڑکیاں پڑھ رہی ہیں لیکن 20 لاکھ ابھی بھی اسکول سے باہر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئیے کوشش کریں کہ جو سکولوں میں ہیں، وہ تعلیم سے محروم نہ ہونے پائیں اور افغانستان قرون وسطی کے زمانے میں واپس نہ چلا جائے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید