• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قومی اسمبلی، ڈپٹی اسپیکر کیخلاف تحریک عدم اعتماد جمع، کلبھوشن کیلئے اپیل، اوور سیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے سمیت 21 قوانین منظور، اپوزیشن کا واک آؤٹ

قومی اسمبلی، ڈپٹی اسپیکر کیخلاف تحریک عدم اعتماد


اسلام آباد(ایجنسیاں‘جنگ نیوز)قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو سے متعلق قانون سازی پر شدید احتجاج اور شورشرابہ کرتے ہوئے اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ کرلیا۔

اپوزیشن اراکین مودی کا جو یار ہے غدار ہے کے نعرے لگاتے رہے تاہم کلبھوشن سمیت فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے غیر ملکیوں کو ہائی کورٹ میں اپیل ‘ اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے سمیت 21قوانین منظور کرلئے گئے‘ اپوزیشن کی طرف سےکورم کی نشاندہی نظرانداز کرنے پر مسلم لیگ ن نے ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرادی۔ 

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے ایوان میں خطاب کے دوران حکومت پر تنقید کرتے ہوئےکہا کہ آپ نے اگر کلبھوشن کو این آر او دینا تھا تو آرڈیننس کیوں لائے؟ آپ کشمیر کے وکیل بنتے تھے لیکن کلبھوشن کے وکیل نکلے ۔

احسن اقبال نے کہاکہ ایجنڈا دیکھ کر اندازہ ہوا کہ حکومت کی طرف سے دال میں کچھ کالا ہے‘کسی کی ذات کیلئے قانون سازی کی جارہی ہے‘ یہ قانون ثواب نہیں بلکہ بدترین گناہ ہے‘ ایوان اپنے منہ پر یہ کالک نہ ملے۔سیدنویدقمر نے کہاکہ ہم آنکھیں بند کرکے بلزپاس نہیں کرسکتے۔

اس موقع پر وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کلبھوشن پر ہم عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عمل کررہے ہیں ، بھارت چاہتا ہے کہ پاکستان عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عمل نہ کرے‘ اپوزیشن بھی یہی چاہتی ہے‘افسوس اپوزیشن بھارت کی زبان بول رہی ہے۔

ایوان میں قانون سازی پر بات کرنا چاہتے ہیں تو واک آؤٹ کرجاتے ہیں جبکہ فروغ نسیم نے کہاکہ احسن اقبال نے ثابت کردیا کہ وہ وہ کام چاہتے ہیں جو بھارت چاہتا ہے،لگتا ہے کہ عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ آپ نے نہیں پڑھا،مجھے احسن اقبال کی بات سن کر بڑا صدمہ ہوا ہے۔

آئی سی جے کے مطابق پاکستان کو قانون لانا پڑے گا‘اگر ہم یہ قانون نہیں لے کر آئیںگے تو عالمی عدالت انصاف میں ہمارے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ہو سکتی ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق جمعرات کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہاکہ جمہوریت کی علمبردار اپوزیشن عوامی مفاد کی قانون سازی میں رکاوٹ ڈال رہی ہے،اپوزیشن تعمیری تنقید کے بجائے واک ائوٹ کر جاتی ہے‘اگر وہ اپنے ڈیلی الائونس کا حق ادا کرنا چاہتے ہیں تو واک آئوٹ نہ کریں ۔ 

سید نوید قمر نے کہاکہ ہم آنکھیں بند کرکے بلزپاس نہیں کرسکتے،ہم پڑھے اور سمجھے بغیر کیسے بلز کو پاس کردیں‘اتنی قانون سازی تو گزشتہ تین سالوں میں نہیں کی گئی جو حکومت آج کرنا چارہی ہے۔ 

رانا تنویر حسین نےکہاکہ آپ لوگوں نے تو عوام سے ووٹ نہیں لئے ہم نے لئے ہیں ،اتنی جلدی میں اتنے بل منظور کرنا چاہتے ہیں جیسے بجٹ کے بعد آپ نے الیکشن میں جانا ہو ۔

قائمہ کمیٹیاں غیر موثر ہوچکی ہیں۔ مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے کہاکہ کہا گیا کہ قائمہ کمیٹیوں میں کام نہیں ہوتا ،الیکشن ایکٹ نو تک ماہ قائمہ کمیٹی میں رہا ،اپوزیشن کمیٹی میں بل کی منظوری میں روڑے اٹکاتی رہی ،ایک طرف الیکشن صاف شفاف کرانے کی بات کی جاتی ہے ،دوسری طرف الیکشن ایکٹ پر بحث سے اپوزیشن گریزاں رہی۔

احسن اقبال نے کہاکہ ایجنڈا دیکھ کر اندازہ ہوا کہ حکومت کی طرف سے کچھ دال میں کالا ہے ،ایجنڈے کے ستاون نمبر پر بھارتی جاسوس کلبوشن یادیو کے لئے قانون منظوری کرایا جارہا ہے ،ہم محبت وطن لوگوں سے ووٹ لے کر آئے ہیں ،ہم یہ اجازت نہیں دیں گے کہ اس مقدس ایوان میں جاسوس کے لیے خصوصی قانون سازی کی جائے،حکومت کس طریقے سے یہ قانون سازی کر رہی ہے۔ 

فروغ نسیم نے کہاکہ احسن اقبال نے ثابت کردیا کہ وہ وہ کام چاہتے ہیں جو بھارت چاہتا ہے،لگتا ہے کہ عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ آپ نے نہیں پڑھا،مجھے احسن اقبال کی بات سن کر بڑا صدمہ ہوا ہے۔

آئی سی جے کے مطابق پاکستان کو قانون لانا پڑے گا۔اگر ہم یہ قانون نہیں لے کر آئیںگے تو عالمی عدالت انصاف میں ہمارے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ہو سکتی ہے۔وزیر قانون کی تقریر پر اپوزیشن ارکان نے شور شرابہ کیا ، اپوزیشن نے نعرے لگائے کہ مودی کا جو یار ہے 

غدار ہے ، اس دور ان اپوزیشن ارکان نے اسپیکر روسٹرم کو گھیر لیا۔اجلاس کے دور ان بابر اعوان نے پاکستان الائیڈ ہیلتھ پروفیشنل کونسل پاکستان نرسنگ کونسل کے بل پیش کر دیئے ۔

قومی اسمبلی اجلاس ایک بار پھر ن لیگ کے مرتضی جاوید عباسی نے کورم کی نشاندہی کر دی کورم پورا ہونے پر قومی اسمبلی اجلاس کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو اپوزیشن ایوان میں پہنچ گئی۔ 

اجلاس کے دور ان بلاول بھٹو زر داری نے کہاکہ ہم ٹی وی شو میں لڑائی جھگڑا کرتے ہیں،اپوزیشن کے بغیر جو قانون سازی ہوگی وہ کمزور ہوگی،اگر آپ ہمیں بولنے نہیں دیں گے، بل پڑھنے نہیں دیں اور ہمارے حقوق نہیں دیں گے تو کس طرح قانون سازی ہوگی۔ 

آپ ہم سے ہمارا حق چھین رہے ہیں،سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق تو سب دینا چاہتے ہیں،جو پاکستانی بیرون ممالک بیٹھے ہیں ان کے اپنے مسائل ہیں، اگر کلبھوشن یادو کو این آر او دینا تھا تو آرڈیننس کے ذریعے کیوں دیا،رات کے اندھیرے میں ایک آرڈیننس رات کو نکالا گیا،آپ کشمیر کے سفیر بنتے ہیں اور کلبھوشن کو وکیل بھی دیا۔ 

شاہ محمود قریشی نے کہاکہ اسپیکر صاحب، آپ اپنی طاقت استعمال کریں ،اپوزیشن تارکین وطن سے ان کا حصہ چھیننا چاہتی ہے،تارکین وطن گواہ رہنا ہم آپ کو حقوق دے رہے ہیں اور یہ اپوزیشن والے آپ کے حقوق کے قاتل ہیں ۔ 

انہوں نے کہاکہ یادیو کی کہانی ہم نے نہیں تم نے بگاڑی ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ ہائے ہائے کلبوشن یادیو ،آج یہ کلبوشن یادیو کی بات کرتے ہیں ،کلبھوشن پر ہم عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عمل کررہے ہیں ۔بابر اعوان نے اپوزیشن کے احتجاج کے دوران انتخابات ترمیمی بل 2020 ء پیش کردیا گیا۔

قانون سازی کے عمل کے دوران اپوزیشن نے کورم کورم کی صدا بلند کردی، کورم کی نشاندہی مرتضی جاوید عباسی نے کی‘ کورم پورا ہونے پر اجلاس کی کارروائی دوبارہ شروع ہو ا قومی اسمبلی نے انتخابات ایکٹ 2017 میں ترمیم کا قانون کثرت رائے سے منظور کرلیا۔

احسن اقبال نے کہاکہ خطرناک روایت ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے ،کوئی ایسی قانون سازی نہ ہونی دی جائے جس سے ملک میں انتشار پھیلے ،ہم نے پینتالیس صفحات پر مشتمل تجاویز دیں،ہمیں نظرانداز کیا گیا۔ 

راجہ پرویز اشرف نے کہاکہ ایوان میں قانون سازی کے لیے جو طریقہ کار اپنایا جا رہا ہے وہ مناسب نہیں ،وزیر خارجہ نے اپوزیشن پر الزام لگایا وہ ہندوستان کی بولی بولتے ہیں ،کیا آدھا پاکستان بھارت کی زبان بولتا ہے ۔

قومی اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن کی جانب سے کورم کی نشاندھی پر ڈپٹی اسپیکر برہم ہوگئے اور آپ مجھے تنگ کرتے ہیں، ابھی گنتی ہوئی ہے۔

اہم خبریں سے مزید