• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آٹھویں تک امتحانات لینا یا نہ لینا اسکولوں کا اپنا فیصلہ، شفقت محمود


کراچی (ٹی وی رپورٹ) وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ پہلی سے آٹھویں کلاسوں کے امتحانات لینا یا نہ لینا اسکولوں کا اپنا فیصلہ ہوگا طلباء کو رعایت دیتے ہوئے نصاب محدود کیا گیا، ہم نے صرف اختیاری مضامین کا امتحان رکھا ہے

طلباء کو امتحانات کی تیاری کیلئے جولائی تک کا وقت دیا ہے، اے ٹو کے تقریباً 75فیصد طلباء نے امتحان دیدیا ہے ، کوشش ہے باقی طلباء کا یونیورسٹیوں میں عبوری داخلہ ہوجائے۔ وہ جیوکے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں میزبان عبداللہ سلطان سے گفتگو کررہے تھے۔ پروگرام میں تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار،پیپلز پارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی اور ماہر معاشیات خرم حسین بھی شریک تھے۔

عثمان ڈار نے کہا کہ وزیرخزانہ کے اعتماد کے پیچھے پاکستانی معیشت کے صحت مندانہ اشاریے ہیں

وزیراعظم عمران خان نے تعمیراتی صنعت پر خصوصی توجہ دی،ن لیگ جاتے ہوئے معیشت میں بارودی سرنگیں لگا کر گئی تاکہ عمران خان کو آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے۔

شرمیلا فاروقی نے کہا کہ اشیائے خورد و نوش کی مہنگائی 20فیصد تک پہنچ گئی ہے حکومت کی 3.9فیصد جی ڈی پی گروتھ کی بات جھوٹی ہے، اپوزیشن بجٹ اجلاس میں احتجاج کرے گی، حکومت معاشی پالیسیوں پر اپوزیشن کو اعتماد میں نہیں لیتی۔

خرم حسین نے کہا کہ پاکستانی معیشت میں امریکا کی مدد کے بغیر ری باؤنڈ آیا ہے، حکومت کی یہ بات جزوی طورپر صحیح ہے کہ معاشی استحکام ان کی پالیسیوں کے نتیجے میں آیا، حکومت کیلئے مسئلہ ہے کہ اگلے سال اس ری باؤنڈ کو کیسے جاری رکھا جائے۔وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ رواں سال اسکولوں میں چار ماہ کی پڑھائی ہوئی ہے

طلباء کو رعایت دیتے ہوئے 30فیصد تک نصاب محدود کیاگیا، ہم نے صرف اختیاری مضامین کا امتحان رکھا ہے تاکہ طلباء پر دباؤ کم ہو، طلباء کو امتحانات کی تیاری کیلئے جولائی تک کا وقت دیا ہے، کیمبرج نے او لیول کا امتحان ہم سے بات چیت کر کے رکھا ہے

اے ٹو کے تقریباً 75فیصد طلباء نے امتحان دیدیا ہے ، ہماری کوشش ہے باقی طلباء کا یونیورسٹیوں میں عبوری داخلہ ہوجائے، یونیورسٹیوں سے کہہ رہے ہیں اے ٹو کے بچوں کیلئے خصوصی اجازت دیں، اے ٹو کے طلباء کا یونیورسٹیوں میں عبوری داخلہ ہوجائے گا جو حتمی نتائج کے بعد کنفرم ہوگا، اگر طلباء فیل ہوجاتے ہیں تو انہیں ریپیٹ کرنا پڑے گا

ایم ڈی کیٹ کی فیس پاکستان میڈیکل کمیشن لیتا ہے، ہماری کوشش ہے ایم ڈی کیٹ کے طلباء کو دسمبر کے بجائے جنوری میں جب ان کے نتائج آئیں گے تب considerکرلیں۔ شفقت محمود کا کہنا تھاکہ پہلی سے آٹھویں کلاسوں کیلئے کوئی مرکزی پالیسی نہیں بنائی گئی، ان کلاسوں کے امتحانا ت لینا یا نہ لینا اسکولوں کا اپنا فیصلہ ہوگا ہماری طرف سے کوئی پابندی نہیں ہے۔

تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار نے کہا کہ آئی ایم ایف سے مشکل پروگرام لیا گیا اس کے معیشت پر اثرات رونما ہوئے، شوکت ترین بجٹ کے بعد آئی ایم ایف سے بات کرنے کیلئے پراعتماد ہیں، ان شاء ﷲ منی بجٹ کی ضرورت نہیں ہوگی، وزیرخزانہ کے اعتماد کے پیچھے پاکستانی معیشت کے صحت مندانہ اشاریے ہیں، اسٹاک ایکسچینج، ترسیلات زرمیں اضافہ ہورہا ہے، لارج اسکیل مینوفیکچرنگ تیزی سے ترقی کررہی ہے

وزیراعظم عمران خان نے تعمیراتی صنعت پر خصوصی توجہ دی ، آج تعمیراتی صنعت سب سے زیادہ روزگار پیدا کررہی ہے۔

عثمان ڈار کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کا تجربہ صرف ادارے تباہ کرنے کا ہے، پی پی اور ن لیگ کوئی ادارہ بتائیں جو بہتر حالت میں چھوڑ کر گئے ہوں، ن لیگ جاتے ہوئے معیشت میں بارودی سرنگیں لگا کر گئی تاکہ عمران خان کو آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے۔پیپلز پارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی نے کہا کہ حکومت کی 3.9فیصد جی ڈی پی گروتھ کی بات جھوٹی ہے، اشیائے خورد و نوش کی مہنگائی 20فیصد تک پہنچ گئی ہے

پاکستان ایک زرعی ملک ہے ہمارے لیے اجناس درآمد کرنا شرمناک بات ہے، ضرورت سے زائد گندم اور چینی پیدا کرنے والا پاکستان تباہی سرکار میں یہ چیزیں درآمد کررہا ہے، قومی اقتصادی سروے میں غربت کی شرح اور بیروزگاری کے اعداد و شمار چھپادیئے گئے ۔

شرمیلا فاروقی کا کہنا تھا کہ اپوزیشن بجٹ اجلاس میں احتجاج کرے گی، حکومت معاشی پالیسیوں پر اپوزیشن کو اعتماد میں نہیں لیتی، حکومت قانون سازی سمیت کسی معاملہ پر پارلیمنٹ میں بحث نہیں کرتی، 2018ء سے اب تک قرضوں میں 55فیصد اضافہ ہوچکاہے۔

ماہر معاشیات خرم حسین نے کہا کہ شوکت ترین کسی وجہ سے ہی پراعتماد نظر آرہے ہیں، انہوں نے برطانوی اخبار کو بتایا ہے کہ ہمارے امریکا کے ساتھ دفاعی مذاکرات چل رہے ہیں وہاں سے سہولت لے کر آئی ایم ایف سے اپنی بات منوالیں گے، یہ الگ بات ہے کہ شوکت ترین اس سے پیچھے ہٹ گئے ہیں کہ میں نے ایسی کوئی بات نہیں کہی۔

خرم حسین کا کہنا تھا کہ پاکستانی معیشت میں امریکا کی مدد کے بغیر ری باؤنڈ آیا ہے، حکومت کی یہ بات جزوی طورپر صحیح ہے کہ معاشی استحکام ان کی پالیسیوں کے نتیجے میں آیا، حکومت نے پچھلے سال کورونا میں 1.3ٹریلین روپے کا معیشت کو انجکشن دیا تھا، حکومت کیلئے مسئلہ ہے کہ اگلے سال اس ری باؤنڈ کو کیسے جاری رکھا جائے، اس کیلئے آئی ایم ایف کے پاس جانا حکومت کی مجبوری ہے،اگلے سال کیلئے 5ہزار 800روپے ٹیکس وصولی کا ٹارگٹ قابل حصول ہے۔

اہم خبریں سے مزید